لوٹ مار کے بعد گھر سے باہر نکلتے ہی کتوں نے ڈاکوؤں کو گھیر لیا، کتوں کے بھونکنے کی آواز سن کر دیہاتی چوکنا، ڈاکوؤں کو پکڑ کر موت کے گھاٹ اتاردیا

لوٹ مار کے بعد گھر سے باہر نکلتے ہی کتوں نے ڈاکوؤں کو گھیر لیا، کتوں کے ...
لوٹ مار کے بعد گھر سے باہر نکلتے ہی کتوں نے ڈاکوؤں کو گھیر لیا، کتوں کے بھونکنے کی آواز سن کر دیہاتی چوکنا، ڈاکوؤں کو پکڑ کر موت کے گھاٹ اتاردیا

  

لودھراں (ویب ڈیسک)لودھراں میں مقامی آڑھتی کے گھر ڈکیتی کرنیوالے ملزم دیہاتیوں کے تشدد سے دم توڑ گئے ، دیہاتیوں کے ہاتھوں مارے گئے دونوں ڈاکو چوری و ڈکیتی کی 40 سے زائد وارداتوں میں پولیس کو مطلب تھے۔ ڈکیتی کرکے گھر سے نکلتے ہی کتوں نے ڈاکوؤں کو گھیر لیا اور کتوں کے بھونکنے کی آواز سن کر دیہاتی چوکنا ہوگیا، کچھ دوری تک پیچھا کرنے کے بعد بالآخر ڈاکوئوں کا اسلحہ ختم ہوگیا اور یوں دیہاتیوں کے ہتھے چڑھ گئے جنہوں نے تشدد کرکے مار ڈالا،  پولیس نے ڈاکوﺅں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے علاوہ انہیں تشدد کرکے قتل کرنے کے الزام میں 18نامزد اور 180 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی۔

روزنامہ امت کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب ضلع لودھراں کے ایک نواحی گاﺅں میں واردات میں ناکامی کے بعد فرار ہونے والے دو ڈاکوﺅں کی اہل علاقہ کے ہاتھوں ہلاکت کا مقدمہ تھانہ صدر لودھراں میں درج کرلیا گیا،  زیر دفع 149,148,186,324,302 ت پ درج کی گئی، ایف آئی آر نمبر 17/222 میں 18نامزد اور 180 نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق لودھراں شہر کی مشرقی جانب قریب تیرہ کلومیٹر کی مسافر پر حویلی نصیر خان روڈ پر موضع ”چھٹی“ واقع ہے۔ الس بستی کے رہائشی محمد نواز ولد رحیم بخش زرعی اجناس کی آڑھت کا کاروبار کرتا ہے۔ لب سڑک ہی اس کی دکان اور اس کے عقب میں گھر ہے۔ ڈاکومحمد نواز کے گھر میں ڈکیتی کیلئے داخل ہوئے تھے۔ نواز کے بھائی سرفراز نے امت کو بتایا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب قریباً دو بجے پانچ مسلح ڈاکو نواز کے گھر واردات کی نیت سے آئے جن میں سے تین افراد دیوار پھلانگ کر گھر کے اندر داخل ہوگئے اور دو مسلح ڈاکو باہر پہرہ کی غرض سے کھڑے رہے۔ اس وقت سب گھر والے باہر صحن میں سورہے تھے جبکہ نواز اندر کمرے میں سورہا تھا جس کا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا۔ تینوں ڈاکوﺅں نے خاموشی سے اس کمرے میں داخل ہوکر نواز کو جگایا اور گن پوائنٹ پر کمرے میں موجود قیمتی اشیا سمیٹنی شروع کردیں۔ سرفراز کے بقول انہوں نے اسی کمرے میں موجود ایک آہنی بکس سے 50 ہزار روپے اور کچھ زیور بھی اٹھایا۔ واردات کے بعد جب ڈاکوﺅں نے واپسی کی راہ لی تو باہر سڑک پر موجود کچھ کتے ان کے پیچھے لگ گئے چونکہ جائے واردات کے قریب کھیتوں کے اندر لوگوں کے ڈیرے بھی موجود ہیں، اس لئے ڈیروں پر مال مویشی کے پاس سوئے ہوئے دیہاتی بھی فوراً چوکنے ہوگئے۔

دوسری جانب ڈاکوﺅں کے گھر سے باہر نکلتے ہی نواز نے بھی چور، چور کا شو رمچادیا جس کی وجہ سے پاس پڑوس والے بھی جاگ گئے اور ان سب لوگوں نے مل کر ڈاکوﺅں کا تعاقب شروع کردیا۔ سرفراز کا کہنا تھا کہ ڈاکوﺅں نے جب ہمیں تعاقب کرتے دیکھا تو انہوں نے فائرنگ بھی کی لیکن تعاقب جاری رہا اور ڈاکو بھی وقفے وقفے سے کھیتوں میں بھاگتے ہوئے اکا دکا فائر کرکے پیچھا کرنے والے دیہاتیوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ تقریباً تین سے چار کلومیٹر تک پیدل بھاگنے کے بعد دو ڈاکو عارف اور فلک شیر، موضع کوٹھا اتیرا کے قریب جانکلے، جہاں کچھ لوگوں نے کھیتوں میں پانی لگارکھا تھا ۔ جب ان تک شور پہنچا تو انہوں نے فرار ہونے والے ڈاکوﺅں کا راستہ روک لیا لیکن دونوں ڈاکوﺅں کے وہاں پھنس جانے کی ایک وجہ یہ بھی بنی کہ ان کے پاس بندوق کی گولیاں ختم ہوگئی تھیں۔ اسی اثنا میں مذکورہ بستی اور اردرد کی بستیوں کے لوگ بھی وہاں اکٹھے ہونے لگے۔ دیہاتیوں نے عارف اور فلک شیر کو مارنا شروع کردیا۔ سرفراز نے بتایا کہ جب ہم وہاں پہنچے تو اس وقت سینکڑوں لوگ وہاں موجود تھے اور دونوں ڈاکوﺅں کو ماررہے تھے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ عارف اور فلک شیر کو دیہاتی، رات تین بجے سے صبح آٹھ بجے تک ڈنڈوں، سوٹوں، آہنی راڈ اور اینٹوں سے مارتے رہے۔ اس دوران وہ بار بار پانی مانگتے رہے، لیکن کسی نے انہیں پانی نہ دیا۔ جبکہ پولیس ڈاکوﺅں کے پکڑے جانے کے ڈیڑھ، دو گھنٹے بعد ہی وہاں پہنچ گئی لیکن اس نے عارف اور فلک شیر کو دیہاتیوں سے بچانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس دوران خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔ دیہاتیوں کے تشدد کے نتیجے میں 35 سالہ عارف تو جائے وقوعہ پر ہی دم توڑگیا جبکہ فلک شیر نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لودھراں پہنچنے کے بعد آخری سانس لی۔

سرفراز کا کہنا تھا کہ ”جب ہم موضع کوٹھا اتیرا پہنچے تو ہمارے کچھ لوگوں نے ڈاکو فلک شیر کو پہچان لیا تھا کیونکہ وہ دن کے وقت نوا ز کی دکان پر آیا تھا اور وہاں رات کی واردات کیلئے ریکی کرتا رہا تھا جبکہ انک ے تین ساتھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔“ مقتول ڈاکو عارف کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ بستی موضع چھٹی کا ہی رہنے والا تھا، جبکہ فلک شیر کا تعلق کہروڑ پکا کے علاقے چوکی مستی سے تھا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ فلک شیر کو جب ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال لودھراں لایا گیا تو وہاں بھی ڈاکٹروں نے اسے طبی امداد دینے کیلئے بیڈ کی بجائے فرش پر ڈالے رکھا اور اس نے وہیں دم توڑ دیا۔

کیس کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر عید محمد نے امت کو بتایا کہ دیہاتیوں کے ہاتھوں مارے جانے والے دونوں ڈاکو پولیس کو چوری و ڈکیتی کی 40 سے زائد وارداتوں میں مطلوب تھے۔ ایک سوال کے جواب میں ا ن کا کہنا تھا کہ جب 15 پر اس واقعے کی کال چلی تو تقریباً 15 منٹ بعد میں چند اہلکاروں کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔ اس وقت صبح کے ساڑھے چار بجے تھے۔ جب وہاں پہنچے تو اس وقت دونوں ڈاکوﺅں کی حالت بہت تشویشناک تھی۔ یوں سمجھ لیجئے کہ دونوں ہی جاں بلب تھے لیکن اصل مسئلہ یہ تھا کہ دیہاتی انہیں ہمارے حوالے کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ اس لئے ہمیں کافی دیر وہیں رکنا پڑا اور بڑی حکمت عملی سے ہم نے ڈاکو اپنی تحویل میں لئے لیکن یہ بات درست نہیں ہے کہ ہماری موجودگی میں دیہاتی ان پر تشدد کرتے رہے۔ عید محمد نے تصدیق کی کہ ڈاکوﺅں کو تشدد کرکے ہلاک کرنے والے تقریباً 200 نامزد و نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، لیکن تاحال کوئی گرفتار عمل میں نہیں آئی۔

مزید :

لودھراں -