تہلکہ خیز ناول جوآپ کی زندگی بدل سکتا ہے، 17ویں قسط

تہلکہ خیز ناول جوآپ کی زندگی بدل سکتا ہے، 17ویں قسط
تہلکہ خیز ناول جوآپ کی زندگی بدل سکتا ہے، 17ویں قسط

  

صالح بے تکان بول رہا تھا اور میں خاموشی سے اس کی شکل دیکھ رہا تھا۔ اس نے جب اشعار پڑھ لیے تو میں نے کہا:

’’تمھاری باتیں واقعی مبالغہ، کہانیاں اور خواب لگ رہی ہیں۔ لیکن یہ اگر خواب ہے تو بہت دلکش خواب ہے۔‘‘

’’یہ خواب ابھی ختم نہیں ہوا۔ سنو! ایک حور کا وجود بل کھاتی ندی کی طرح ڈھلتا ہے جو آسمان کی سیاہ گھٹاؤں سے برف کی صورت اپنے سفر کا آغاز کرتی، چوٹیوں پر ڈیرہ ڈالتی، جھرنوں اور آبشاروں کی صورت نکلتی، ڈھلانوں میں اترتی، میدانوں میں ٹھہرتی، بلندیوں کو چھوتی، نشیب کی طرف بڑھتی، ٹیلوں کو عبور کرتی ہوئی وادیوں تک پہنچتی ہے اور آخر کار نیکی، پارسائی اور تقوی کے اس سمندر پر اپنا وجود نچھاور کردیتی ہے جس نے زندگی صبر اور تقویٰ کے ساتھ گزاری۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ یہ ندی اپنے پورے سفر میں کسی نجاست، کسی آلودگی کا شکار نہیں ہوتی۔ ہر نامحرم نگاہ کو اپنی دید اور لمس سے دور رکھتی ہے۔ یہ ہزاروں میل کا سفر پاکدامنی کے ساتھ طے کرتی ہے اس لیے پاکدامن سے کم کسی شخص کو قبول نہیں کرتی۔ اور آخر کار سیلِ شباب کی چڑھتی گھٹتی موج کا سا ان کا وجود اپنے سمندر میں ہمیشہ کے لیے ضم ہوجاتا ہے۔‘‘

تہلکہ خیز ناول جوآپ کی زندگی بدل سکتا ہے، سولہویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’مجھے سمجھ ہی نہیں آتا کہ تعریف حوروں کی کروں یا تمھارے بیان کی۔‘‘

’’تعریف تو صرف اللہ کی ہونی چاہیے۔مگریادرہے میں فرشتہ ہوں۔یہ میرے نہیں انسانی جذبات کا اظہار ہے۔ میں نے انسانی الفاظ اور جذبوں کے بارے میں جو کچھ سیکھا ہے اس کا اکثر حصہ تمھارے ساتھ رہ کر تم سے سیکھاہے ۔ اس لیے تم چاہو تو اپنی تعریف آپ کرسکتے ہو۔‘‘

’’نہیں۔۔۔تعریف کا مستحق توصرف اللہ ہے جو ہر خوبصورتی کا خالق ہے۔ چاہے وہ بیان کی ہو یا انسان کی۔مگر یہ بتاؤ کہ کیا یہ حوریں انسان ہوں گی؟‘‘

’’ہاں یہ بھی انسان ہیں۔ اسی طرح اہل جنت کے وہ خدام جنہیں غلمان کہا جاتا ہے، وہ بھی انسان ہی ہیں۔ یہ وہ لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔‘‘

’’یہ لڑکے کیوں رہیں گے، ملازم اور خادم تو وہ بہتر ہوتا ہے جو زیادہ عمر کا ہو اور زیادہ سمجھ رکھتا ہو؟‘‘، میں نے ذہن میں آنے والا ایک اعتراض جڑ دیا۔

’’نہیں ایسا نہیں ہے۔ یہ کم عمر ہونے کے باوجود بلا کے مزاج شناس ہوں گے۔ اہل جنت کی مجلسوں میں جب کسی جنتی کا مشروب ختم ہوگا تو یہ اس کی نظر دیکھیں گے اور بلا کچھ کہے سنے اس کے گلاس میں مطلوبہ شراب اتنی ہی مقدار میں ڈالیں گے جتنی اسے ضرورت ہوگی۔ اس لیے ان کی سمجھ بوجھ اور مزاج شناسی کی تو کوئی حد نہیں ہوگی البتہ انہیں لڑکوں کی شکل میں اس لیے رکھا جائے گا کہ جسمانی طور پر مستعد رہیں اور لمحہ بھر میں ہر خدمت بجالائیں۔ ان کا لباس، شکل اور حلیہ انہیں ایسا بنادے گا گویا محفل میں قیمتی موتی بکھرے ہوئے ہیں۔ ان کے ابدی طور پر کم عمر لڑکے بنائے جانے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو کبھی ازدواجی تعلق کی ضرورت نہ ہو۔ جبکہ حوریں مکمل شباب کی عمر کو پہنچی ہوئی لڑکیاں ہوں گی اور اہل جنت کی بیویاں ہوں گی۔‘‘

’’کیا حوریں اور غلمان اہل جنت کے لیے خاص طور پر تخلیق کیے جائیں گے؟‘‘

’’یہ ایک لمبی کہانی ہے۔‘‘

’’ہمارے پاس وقت کی کون سی کمی ہے۔ یہ لمبی کہانی بھی سناتے جاؤ۔‘‘

’’سنو! آج کا دن انسانوں کا پہلا محشر نہیں ہے۔‘‘

’’کیا مطلب! کیا قیامت پہلے بھی آچکی ہے؟‘‘

’’قیامت تو پہلے نہیں آئی البتہ اول تا آخر سارے انسان ایک دفعہ پہلے بھی پیدا کیے جاچکے ہیں۔‘‘

’’تمھارا اشارہ عہد الست کی طرف ہے ؟‘‘

’’ہاں ، مگر ا س سے قبل اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے سامنے یہ موقع رکھا تھا کہ وہ جنت میں اللہ تعالیٰ کی ابدی رفاقت کا شرف حاصل کرلیں۔ لیکن اس کے لیے انہیں دنیا میں کچھ وقت ایسے گزارنا ہوگا کہ خدا ان کے سامنے نہیں ہوگا۔ صرف اس کے احکام ان کے سامنے آئیں گے اور انہیں بن دیکھے رب کی عبادت اور اطاعت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ زمین کی بادشاہی عارضی طور پر امانتاً اس مخلوق کو دے دی جائے گی اور اپنی بادشاہی کے زمانے میں اس مخلوق کو اپنے بارے میں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ صاحب اختیار بادشاہ ہونے کے باوجود بن دیکھے خد اکی اطاعت کے لیے تیار ہے۔ جس کسی نے اقتدار اور اختیار کی اس امانت کا درست استعمال کیا اس کا بدلہ جنت میں خدا کی ابدی رفاقت ہوگی اور ناکامی کی صورت میں جہنم کا عذاب۔‘‘

’’تو پھر کیا ہوا؟‘‘

’’یہ ہوا کہ ساری مخلوقات ڈر کے پیچھے ہٹ گئیں۔ اس لیے کہ جنت جتنی حسین ہے، جہنم اتنی ہی بھیانک جگہ ہے۔ حشر کی سختی کو تو ابھی تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اس کے بعد کون عقل مند اس امتحان میں کودنے کی کوشش کرتا۔‘‘

’’اور غالباً ہم جذباتی انسان اس امتحان میں کود پڑے۔‘‘، میں نے لقمہ دیا۔

’’ہاں یہی ہوا تھا۔ لیکن خدائی امانت اٹھانے کا یہ عزم روح انسانی نے اجتماعی طور پر کیا تھا۔ اس لیے خد اکے عدل کا تقاضا یہ تھا کہ ہر ہر انسان کوپیدا کرکے براہ راست اس سے یہ معلوم کیا جائے کہ وہ کس حد تک اس امتحان میں اترنے کے لیے تیار ہے۔

عبد اللہ! یہ اس لیے ہوا کہ تمھارا رب کسی پر رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ سو اس نے سب انسانوں کو پیدا کیا۔ سب کے سامنے اپنے پورے منصوبے کو رکھا۔ ظاہر ہے انسانوں کی اکثریت پہلے ہی اس مقصد کے لیے تیار تھی۔ اسی لیے وہ پورے شعور کے ساتھ اس امتحان میں کودنے کے لیے تیار ہوگئے۔ البتہ جن لوگوں نے یہ خطرہ مول لینے سے انکار کردیا، ان سب کے بارے میں یہ فیصلہ ہوا کہ انھیں سن بلوغت تک پہنچنے سے قبل ہی مرجانے والے بچوں اور بچیوں کا کردار سونپ دیا جائے۔ یہی بچیاں اور بچے جنت کی بستی میں حور و غلمان بنادیے جائیں گے۔‘‘

’’اور باقی لوگ اس کڑے امتحان میں اترنے کے لیے تیار ہوگئے؟‘‘

’’ہاں، مگراس میں بھی خدا کی کریم ہستی نے کمال عنایت کا مظاہرہ کیا تھا۔ تم جانتے ہو کہ دنیا میں سب کا امتحان یکساں نہیں ہوتا۔ یہ امتحان بھی اُس روز ہر شخص نے اپنی مرضی سے چن لیا تھا۔ جو بہت زیادہ حوصلہ مند لوگ تھے انہوں نے نبیوں کا زمانہ چن لیا۔ ان لوگوں کا امتحان یہ تھا کہ ہر سو پھیلی گمراہی کے دور میں انبیا کی تصدیق کرکے ان کا ساتھ دیں۔ ان کی کامیابی کے لیے اصل شرط یہ تھی کہ بدترین مخالفت میں بھی ثابت قدم رہیں، اس راہ میں ہر مشکل کو برداشت کریں اور انبیا کا پیغام آگے پہنچائیں۔ اس لیے ان کا اجر بھی بڑا رکھا گیا، مگر انہیں انبیا کی براہ راست رہنمائی کی سہولت کی بنا پر کفر و انکار کی صورت میں عذاب بھی اتنا ہی شدید ہوتا۔ انہی لوگوں میں ایک طرف ابوبکرؓ جیسے لوگ تھے اور دوسری طرف ابولہب جیسے دشمنانِ حق۔(جاری ہے)

تہلکہ خیز ناول جوآپ کی زندگی بدل سکتا ہے، اٹھارہویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

جب زندگی شروع ہوگی -