دشمن سے ہوتی ہیں بہت پیار کی باتیں

دشمن سے ہوتی ہیں بہت پیار کی باتیں
دشمن سے ہوتی ہیں بہت پیار کی باتیں

  

تحریر: ذوالفقار علی

کمپیوٹر وموبائل نے دنیا کو ایک گلوبل ویلج بنا کررکھا دیاہے تو دوسری طرف معاشرتی تباہی کی بہت بڑی وجہ بھی بن گیا ہے ۔یہ ایسا ہمرازہے جو دوست اور محبوب کی طرح پہلو میں رہتاہے مگر درحقیقت بدترین دشمن ثابت ہورہا ہے۔ پہلے صرف کمپیوٹر ،انٹرنیٹ کو ہی بہت بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا۔ جدید ٹیکنالوجی کاعلم نہ رکھنے والے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے پیاروں، عزیزوں کو کمپیوٹر سکرین پر دیکھ کر دانتوں میں انگلیاں لے لیتے تھے۔ہاتھوں سے لکھی جانے والی ہر چیز کمپیوٹر پر لکھی جانے لگی ۔خط وکتابت ڈاک سے ای میل پر شفٹ ہوئی ،دفتری فائلوں کاکام کمپیوٹر کی فائلوں میں ٹرانسفرہوا،انسانی زندگی میں آسانی سمجھاجانے والی ٹیکنالوجی اپنے ساتھ بہت ساری برائیاں بھی لائی۔1999 سے2000 کا عرصہ پاکستان میں کمپیوٹر کا آغاز کہلاتا ہے ۔اس دور میں استعمال شدہ کمپیوٹرپاکستان لائے گئے ۔عوام نے اپنے بچوں کو کمپیوٹر تعلیم ،کمپیوٹر ہارڈوئیر،کمپیوٹر شارٹ کورسز،کمپیوٹرکمپوزنگ غرض کمپیوٹر سے متعلقہ ہر چیزکا ہنر سیکھنے اور تعلیم حاصل کرنے میں لگا دیا۔پھر وقت نے پلٹا کھایا جہاں جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایاجانے لگا اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد نے کمپیوٹرکا زائد استعمال اور انٹرنیٹ پر گھنٹوں وقت ضائع کرنا شروع کردیا،غیر اخلاقی سرگرمیاں اپنے عروج کو پہنچ گئی ،انٹرنیٹ کیفے فحاشی پھیلانے کے ذریعہ بننے لگے ۔والدین کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی نہ رکھنے کی وجہ سے بہت سی اذیتوں کا شکار ہوئے ۔تنہائی میں بیٹھے کمپیوٹر پر کام کرنے کے غرض سے فحش مواد عام اور آسانی سے دیکھا جانے لگا،نوجوان تنہائی کا شکار ہونا شروع ہوگئے ، انٹرنیٹ نوجوان لڑکوں ،لڑکیوں کے فرینڈشپ کروانے کا ذریعہ بننے لگا۔جدید ٹیکنالوجی نے نوجوان نسل کو غلط حرکات کی طرف زیادہ مائل کیا۔

ابھی والدین کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی پریشانی سے باہر نکلے بھی نہیں تھے کہ موبائل فون متعارف ہوگیا ۔موبائل فون سیولر ٹیکنالوجی چلتی پھرتی دردسر بن کر ابھرنے لگی ۔موبائل فون اپنی افادیت میں بے مثال ہے اس نے لوگوں میں رابطے کے ذریعے کو تیز اور آسان کردیا ،لوگ ایک دوسرے سے جڑنے لگے ۔تار والے فون سے جیب والے فون کا سفر طے ہوا پھر اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ہونا شروع ہوگیا۔

2003 میں دو تین نیٹ ورک کمپنیاں پاکستان میں کام کررہی تھی پھر وقت کے ساتھ ساتھ موبائل نیٹ ورکس کمپنیوں کی دوڑ شروع ہوئی ۔اک دوسرے کو پچھاڑنے کے لیے کم قیمت کال و ایس ایم ایس پیکجز متعارف ہونا شروع ہوگئے،بڑی عمر کے لوگوں کے لیے یہ پیکجز تو فضول ثابت ہوئے ہاں البتہ نوجوانوں کی تباہی کا باعث بننے میں ان کا کردار غیر معمولی تھا۔ دن اور راتوں کے ایس ایم ایس،کال پیکجزہر وقت چیٹنگ کے غرض سے ٹک ٹک،ہینڈفری ہر کان میں گھسنا شروع ہوگئی ۔چلتے پھرتے موبائل پر نظر یں جمائے ہر کام ہونا شروع ہوا ۔پڑھائی اور دفتری اوقات میں موبائل فون کا استعمال حدسے زیادہ ہونا شروع ہوا ۔ان پیکجز سے تنگ والدین اور اسمبلی ممبران نے ان پیکجز کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کی ۔

ارتقا کا یہ عمل ابھی رُکا نہیں، کی پیڈ والے فون کے بعد ٹچ موبائل فون کا دور شروع ہوگیا ۔ٹچ موبائل فون کمپیوٹر کا باپ بن کر ابھرا۔ ٹیکنالوجی نے بھی رفتار پکڑلی ،تھری جی ،فور جی ٹیکنالوجی متعارف ہوگئی ۔اس نے جس قدر پذیر آرائی حاصل کی اس کی مثال نہیں ملتی ،اس کا شکار بھی صرف اور صرف نوجوان نسل ہی نہیں ہوئی بلکہ ہر عمر اور طبقے نے اس سے اپنی ضرورت کی مطابق استفادہ کرنا شروع کردیا۔گزشتہ نقصانات کے سامنے اس جدید ٹیکنالوجی نے ہر حد کوعبور کردیا۔ہر طرز کے اخلاقی پستی،جسمانی اثرات اس ٹیکنالوجی نے متعارف کروائی اور اب روزمرہ کی زندگی کا لازمی جز بن کر زندگیوں کو برباد کرنے میں کوئی کثرنہیں چھوڑ رہی ۔ اس سے کیسے بچا جاسکتا ،اس کا بہتر حل تربیت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ میں مضمر ہے جو سکول سے گھر تک ہونی چاہئے۔

(بلاگر ایک نجی میڈیا ہاؤس سے وابستہ ہیں اور سماجی و اصلاحی موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں ۔ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔alizulfiqar651@yahoo.com)

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -