کوریا میں امریکی جنگ کے گہرے بادل

کوریا میں امریکی جنگ کے گہرے بادل
کوریا میں امریکی جنگ کے گہرے بادل

  

شمالی کوریا پر بڑھتے ہو امریکی دباؤ کا سب سے زیادہ نقصان چین کو ہو گا۔ اس کی بڑی وجہ امریکہ کا اس علاقہ میں آ کر بیٹھ جانا ہے۔آبنائے کوریا میں جنگ کے امکانات اگرچہ سبھی کے لیے نقصان دہ ہوں گے لیکن سب سے زیادہ فکر مند چین اس لیے بھی ہے کیونکہ اس کی ساری تجارت وقتی طور پر ہی سہی مگر رک جائے گی ۔کوریا نے اس دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے پھر سے میزائل داغ دیا ہے ۔ اگرچہ یہ ٹیسٹ ناکام رہا لیکن اس سے صورتحال سے معاملات مزید سنگین ہو گئے ہیں اسی لیے امریکہ نے اپنے اتحادی اکٹھا کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ حالات سے نبردآزما ہوا جا سکے۔

شمالی کوریا کسی بھی صورتحا ل کے لیے ہر طرح سے تیار ہے۔ایک غریب ملک ہونے کے باعث شمالی کوریا کو کئی مسائل کا سامنا ہے ۔صرف ایک ہزار ڈالر فی کس آمدن والے ملک کو اپنی قومی غیرت کا احساس ہے اس لیے وہ اپنی شرائط پر ڈٹا ہوا ہے ۔دونوں کوریا جنگ کی بہت بھاری قیمت چکا چکے ہیں۔پچاس 4 کی دہائی میں جنگ سے ۵۵ لاکھ افرادہلاک ہو گئے تھے جبکہ اس قدر زخمی بھی تھے۔اب صورتحال یکسر مختلف ہے جدید ہتیھاروں سے لیس تمام ممالک تباہ کن اسلحہ کو استعمال کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اگر جنوبی کوریا پر حملہ ہو جائے تو چند لمحوں میں سیول جسیا شہر کھنڈر بن سکتا ہے ۔جس کی آ بادی ڈھائی کروڑ ہے ۔

جنوبی کوریا بھی ہر طرح سے تیار ہے۔ امریکی فوجی اڈے بھی موجود ہیں جن پر چوبیس ہزارامریکی فوجی تعینات ہیں جن پر حال ہی میں تاحد نامی میزائل شکن میزائل بھی نصب کیے گیے ہیں۔ ان میزائلوں نے بھی معاملات کو بہت سنگین بنا دیاہے کیونکہ چین کو ان میزائلوں کی تنصب پر سخت تحفظات تھے۔ان میزائلوں کے ساتھ لگا ریڈار بہت طاقت ور ہے جس سے چین کی نگرانی ہو سکے گی۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جنوبی کوریا اس وقت بہت مشکل میں ہے اس کی بڑی وجہ ایک طرف امریکی دباؤ ہے کیونکہ وہ اس کا پرانا اتحادی ہے اور اس کی تعیمر میں امریکہ کا بھی حصہ ہیں۔پچھلے کئی سالوں سے امریکی ہر دور میں اس کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔لیکن نئے دور میں چین بھی جنوبی کوریا کے ساتھ تجارت اور ثقافت میں بہت قریبی دوست بن چکا ہے ۔ایسے میں بھی چین نے جنوبی کوریا کو سخت پیغام دیا ہے اور اپنی کئی مراعات بھی واپس لے لی ہیں۔جوجنوبی کوریا کے لیے اچھا پیغام نہیں۔

روس اس سارے معاملے میں زیادہ سنجیدہ نظر نہیں آتا لیکن وہ اس معاملے میں بہت اطمینان سے کھیل رہا ہے۔کیونکہ اگر جنگ ہوتی ہے تو سب سے زیادہ فائدہ میں روس ہو گا ۔کیونکہ اس کے سارے دشمن اس آگ کی نذر ہو سکتے ہیں۔

جاپان بھی اس ساری دوڑ کا حصہ ہے۔کئی سالوں سے سکون کی نیند سونے والے ملک کو اب اپنی سلامتی کا فکر ہے۔اس کی بڑی وجہ وہ ایٹمی دھماکے بھی ہیں جن کی یاد ابھی تک جاپانی نہیں بھلا سکے.جاپان نے حال ہی میں امریکہ کے ساتھ مل کر فوجی مشقیں کی ہیں جس پر چین نے بہت ناراضگی کا اظہار کیا ہے لیکن حالات کے تحت جاپان نے جنگ عظیم دوئم کے بعد پہلی مرتبہ اپنی فضائیہ اور بحریہ کو تیار رہنے کا حکم دیا ہے. اور جاپان کی بحریہ جنگ عظیم دوئم کے بعد پہلی بار کھلے پانیوں میں آ ئی ہے.جاپان میں پینتالیس ہزار امریکی فوجی بھی تعینات ہیں۔جو ڈھائی لاکھ جاپانی فوج کے علاوہ ہیں۔

چین اس صورتحال کا اہم ترین حصہ ہے ،ایک طرف شمالی کوریا ہے جس کی موجودگی چین کے لیے ڈھال ہے تو دوسری طرف جاپان اور جنوبی کوریا بھی اس جنگ کے حق میں نہیں ۔اس کی بڑی وجہ تجارتی راستہ کی بندش ہے اور ایٹمی جنگ کے امکانات ہیں۔امریکی اس صورتحال کا فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ چین کو گھیرا جا سکے ۔یہ خطرہ تو جلد ٹل جائے گا لیکن اگر یہاں لڑائی شروع ہوئی تو نقصان بہت زیادہ ہو گا جس سے امریکی بھی محفوظ نہ رہ سکیں گے.

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -