سَب اچھا نہیں

سَب اچھا نہیں
سَب اچھا نہیں

  

پاکستان کی عدالتِ عالیہ نے اپنے بیس اپریل کے فیصلہ کی روشنی میں پانامہ کیس کے حوالے سے نیا بنچ تشکیل دے دیا ہے۔ نئے بنچ میں پرانے بنچ کے وُہ تین ججز شامل ہیں جنہوں نے نواز شریف اور اُنکے صاحبزادوں کو اپنی صفائی میں ثبوت پیش کرنے کے لئے مزید وقت دیا تھا۔ اِس بنچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل ہیں ۔ جنہوں نے پانامہ لیکس کا فیصلہ بھی لکھا تھا۔ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس نے اکثریتی ججوں پر مشتمل بنچ تشکیل دے کر اپنے تجربے کو ثابت کیا ہے۔ کُچھ لوگ بنچ میں نئے ججز کے لئے جانے کے امکان پر غور کر رہے تھے۔ لیکن پچھلے بنچ کے ججز کو لے کر چیف جسٹس نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ پرانے ججز کیس کو ہر زوایے سے اچھی طرح پڑھ چُکے ہیں۔ اُنکی نظروں سے کیس کا کوئی پہلو پوشیدہ نہیں ہے۔ نئے ججز کو لینے سے احتمال تھا کہ وہ عدم واقفیت کی بنا پر درست رائے قائم کرنے میں چُوک بھی کر سکتے تھے۔ اور منطقی طور پر اُن ججز کی نگرانی میں تفتیش کروانا اِس لئے بھی مناسب ہے کہ پچھلے بنچ میں انہی ججز نے نواز شریف اور اُنکے صاحبزادوں کو مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ نیا بنچ جے آئی ٹی کی تشکیل بھی نہایت فراست اور چابکدستی سے کرے گا۔ کیونکہ عوام انصاف کے لئے اپنی نظریں عدالتِ عالیہ پر لگائے بیٹھے ہیں۔عوام چاہتے تھے کہ عدالت عالیہ جے آئی ٹی کی تحقیق کے دوران وزیر اعظم کو فرائض منصبی ادا کرنے سے روک دیتی۔ کیونکہ عوا م کا خیال کہ وزیر اعظم کے منصب پر رہتے ہوئے کوئی بھی ا فسر پوری ایمانداری سے تفتیش نہیں کر سکے گا۔ وزیر اعظم کا اثر و رسوخ کسی نہ کسی صورت میں تفتیش پر ضرور اثر انداز ہو گا۔ تاہم عوام خوش دِلی سے عدالتِ عالیہ کا فیصلہ قبول کرتے ہیں اور امُید رکھتے ہیں کہ جے آئی ٹی میں ایسے افسروں کو شامل کیا جائے گا جو اچھی شہرت او ر کار کردگی کے لئے جانے جاتے ہوں۔

پانامہ لیکس کے بعد ڈان لیکس کا معاملہ عوام کے لئے دلچسپی کا با عث ہے۔ کیونکہ فوج نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کی جانب سے جاری کئے جانے والے نو ٹیفکیش کو نامکمل کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔ جس سے وزیر اعظم کی خواہشات پر پانی پھر گیا ہے۔ اور یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ فوج اور سیاسی قیادت کے درمیان سَب اچھا نہیں ہے۔ فوج کو خوش کرنے کے لئے بعض سنیئر وزیروں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ جن میں چوہدری نثار اور شہباز شریف کے نام شامل ہیں۔ یہ دونوں شخصیات نواز شریف کے ہردوِر اقتدار میں ہمیشہ ہی اہم رہے ہیں۔ نواز شریف نے ہمیشہ اِنکو فوج کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ لیکن مریم نواز نے ایسی تمام خبروں کی تردید کی ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ یہ تمام افواہیں غلط ہیں اور عوام کو گُمراہ کرنے کے پھیلائی جارہی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم نے ہنگامی طور پر فوج سے معاملات طے کرنے کے لئے رائے ونڈ میں اپنے خاص دوستوں کا مشاورتی اجلاس بُلایا تھا۔ جس میں پانامہ لیکس اور ڈان لیکس دونوں پر تفصیل سے بات چیت ہوئی۔ ا طلاعات کے مُطابق یہ طے پایا کہ پانامہ لیکس کے فیصلے کو دبانے کے لئے فوج سے محاذ آرائی جاری رکھی جائے۔ تاکہ اگر فوج مُسلم لیگ کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیتی ہے تو اپنی تمام ناکامی کا الزام فوج کے سر تھوپ دیا جائے۔ با الفاظ دیگر، عوام کی توجہ پانامہ کیس کے فیصلے سے ہٹا کر نئے ایشو کی جانب مبذول کر وا دی جائے اور سیاسی شہید بن کر عوام سے ہمددری کا ووٹ حاصل کیا جائے۔ کیونکہ نواز شریف اور اُنکے صاحبزادوں کے پاس اپنے صفائی میں پیش کرنے کے کوئی بھاری بھرکم ثبوت موجود نہیں۔ عدالتِ عالیہ قطری خط کو پہلے ہی مسترد کر چُکی ہے۔ شریف خاندان کیس میں مطلوب منی ٹریل پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔لہذا ایسی صورت حال میں، نیا ثبوت کہاں سے آئے گا؟ عام سی عقل رکھنے والا آدمی ی بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ اگر نواز شریف اور اُنکے صاحبزادوں کے پاس اپنی صفائی میں پیش کرنے کے لئے کوئی اور ثبوت موجود ہوتے تو وُہ اُنکو اَب تک پیش کر چُکے ہوتے۔

نواز شریف کو پانامہ لیکس کیس کے حوالے سے شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جگ ہنسائی اور بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر وُہ عجیب قسم کے فیصلے کر رہے ہیں۔ جن سے اُنکی کارکردگی مضحکہ خیز ہو رہی ہے۔گارڈ فادر جیسے القابات نے انہیں زچ کر دیا ہے۔ وُہ اپنی عزت کو قایم رکھنے کے لئے مختلف آپشنز پر کام کرہے ہیں۔ جن میں فوج سے لڑائی مول لیکر مستعفیٰ ہو جانا بھی شامل ہے تاکہ عدالت کے حتمی فیصلے بچا جا سکے۔لیکن فوج اُنکو آسانی سے سیاسی شہید بننے کا موقع فراہم نہیں کرے گی۔ فوج مُفت میں بدنام نہیں ہونا چاہتی۔ فوج صرف یہ چا ہتی ہے کہ ڈان لیکس کے سلسلے میں جو رپورٹ مو صول کی گئی ہے، اُ سکو من و عن شائع کر دیا جائے تاکہ فوج پر لگے ہوئے الزامات کو دھویا جا سکے۔ لیکن نواز شریف چند ایک مصلحتوں کی بدولت پوُر ی رپورٹ کو شائع کرنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ مذکورہ رپورٹ میں مریم نواز اور وزیر اعظم کے پرنسیپل سیکرٹری کے نام بھی آتے ہیں۔ اور جن لوگوں کو فارغ کیا گیا ہے۔ وُہ انصاف کے لئے عدالت کے درواز ے پر بھی دستک دے سکتے ہیں جس سے وزیر اعظم کی مزید رسوائی ہو سکتی ہے۔فارغ کئے جانے والے افسران اپنی نوکری بچانے کے لئے سلطانی گواہ بن کر بھی بہت سارے رازوں سے پردہ اٹھا سکتے ہیں جو کہ حکومت لئے بیعزتی کا با عث ہوگا۔ اِس لئے وزیر اعظم کی خو اہش تھی کی جے آئی ٹی کی رپورٹ کو عوام کے سامنے نہ پیش کیا جائے اور گول مول انداز میں معاملے کو رفع دفع کر دیا جائے۔

وزیر اعظم کی جانب سے ایک مخصوص پلان کے تحت یہ نو ٹیفیکشن پرنسپل سیکریٹری کی جانب سے جاری کروایا گیا تھا تاکہ فوج کا ردِ عمل نوٹ کیا جائے۔ وزیر اعظم کو اُمید تھی کہ فو ج اِس نو ٹیفکشن کو قبول کر لے گی۔ لیکن فوج کی جانب سے سخت رد عمل دیکھ کر نواز شریف نے حکومت بچانے کے لئے یہ بہانہ تراشا ہے کہ دُرست نو ٹیفکشن وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیا جائے گا۔اِس سلسلے میں اطلاعات ہیں کہ وزیر داخلہ نے پرنسپل سیکریٹری کی جانب سے نو ٹیفکشن جاری کرنے پر اعتراض کیا ہے اور اپنا استعفیٰ بھی پیش کر دیا تھا۔ جس کو وزیر اعظم نے قبول نہیں کیا۔ ڈان لیکس اور پانامہ لیکس کے فیصلوں کو اگر ملحوظ نظر رکھا جائے تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ نواز شریف کی حکومت کی کشتی بھنور میں ہے جو کبھی بھی ڈوب سکتی ہے۔ عمران خان اُنکے اعصاب پر بُری طرح سوار ہیں۔ عمران خان نے موجودہ حکومت کی مٹی پلید کر دی ہے۔ نواز شریف کی سانسیں پھُول رہی ہیں۔ عمران خان نے کھیل کا داؤ آزمایا ہے کہ حریف کھلاڑی کو اتنا تھکا دو کہ وُہ اپنے ہی وزن پر گرِ جائے۔ عمراں خان نے نواز شریف کا چین و سکوں چھیں لیا ہے۔ اُنکو ایسی کیفیت سے دوچار کردیا ہے کہ وُہ اپنی حرکتوں سے ہی عوام کی نظروں سے گر جائیں گے۔ نواز شیریف لڑ کھڑا رہے ہیں۔لیکن ہار ماننے سے انکاری ہیں۔ نواز شریف مستعفیٰٰ ہو کر اب بھی اپنی عزت بچا سکتے ہیں۔ عدالتِ عالیہ کا آنے والا فیصلہ اُنکے لئے ہر گزمُفید نہ ہو گا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -