دُکھی انسانیت کی خدمت۔۔۔عین عبادت

دُکھی انسانیت کی خدمت۔۔۔عین عبادت
دُکھی انسانیت کی خدمت۔۔۔عین عبادت

  

خداوند کریم کی طرف سے اولاد انسان کے لئے دُنیا میں بہترین تحفہ ہے۔ مرد جب باپ اور عورت ماں بنتی ہے تو دونوں اپنے آپ کو ایک مکمل انسان تصور کرتے ہیں۔

رَب کریم انسان کے دل میں اپنی اولاد کے لئے خواہ وہ بیٹا ہو یا بیٹی بے پناہ محبت، خلوص، قربانی اور ایثار کے جذبات موجزن کر دیتا ہے۔ ہر ماں اور باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچے یا بچی کے لئے دُنیا کی ہر وہ چیز اسے مہیا کردے جو اس کی دَسترس میں ہے۔

اس کو بہترین تعلیم دلوائے، بہترین خوراک مہیا کرے، اچھے سے اچھا لباس اسے لے کر دے اورجب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا وہ کسی مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ دونوں جس کرب دُکھ اور پریشانی سے گزرتے ہیں وہ ناقابل بیان ہے۔

دونوں ایڑی چوٹی کا زور لگادیتے ہیں کہ اُن کا بچہ جلد صحت مند ہو جائے اور وہ اس کے لئے اچھے سے اچھے ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں۔

جب والدین کو یہ علم ہوجائے کہ ان کا بچہ ایسی بیماری میں مبتلا ہوچکا ہے جو لاعلاج ہے تو وہ ہر روز جیتے اور مرتے ہیں، دونوں اندر ہی اندر اپنے اس دُکھ اور دَرد کو چھپالیتے ہیں۔

اُن کی زندگی اس دَرخت کی مانند ہو جاتی ہے، جو بظاہر تو توانا لگتا ہے، مگر اندر سے دیمک اس کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی ماں باپ کو اولاد کا دُکھ نہ دے، کیونکہ یہ دُکھ ایسا ہے جو قبر تک اُن کے ساتھ جاتا ہے۔

گذشتہ دنوں گورنر ہاؤس لاہور میں لاعلاج بیماریوں میں مبتلا بچوں کی آخری خواہش پوری کرنے کے سلسلے میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کی میزبانی گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کی جس کا اہتمام ایک غیر سر کاری تنظیم ’’میک اے وش پاکستان‘‘ نے کی تھی۔

تقریب کا بنیادی مقصد لاعلاج مرض میں مبتلا ایسے بچے جو غربت کی وجہ سے اپنی آخری خواہش کو پورا نہیں کرسکتے ان کو پورا کرنا ہے۔

تقریب میں کینسر، تھیلسیمیا جیسی لاعلاج بیماری کا شکار 20 بچوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر ان کے والدین بھی موجود تھے۔ بچوں کے والدین حسرت و یاس کی تصویر نظر آئے، ان کی آنکھیں پرُنم تھیں اور وہ ایسے مسیحا کی متلاشی نظر آئیں جو ان کے بچوں کو زندگی کی نوید سنادے۔

’’میک اے وش پاکستان‘‘ اب تک ہزاروں بچوں کی آخری خواہش کو پورا کرچکی ہے۔

تقریب میں بتایا گیاکہ ایک 11سالہ بچی عظمیٰ حیات جس کی خواش تھی کہ وہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے مزار کی سیر کرنا چاہتی ہے اور بانی پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہتی ہے کہ انہوں نے ہمیں پاکستان جیسا ملک دیا۔

بچی کے والدین غریب ہیں اور والدین نے بچی سے کہا کہ وہ ٹیلی ویژن کی خواہش کرے، کیونکہ ان کے گھر میں ٹیلی ویژن نہیں ہے، لیکن بچی بضد رہی کہ وہ بانی پاکستان کے مزار پر جانا چاہتی ہے۔ اب عظمیٰ حیات ہم میں نہیں ۔

اسی طرح 17سالہ نوجوان شعیب اورنگزیب جو تھیلیسمیا کے مرض میں مبتلا تھاکی آخری خواہش تھی کہ وہ فوجی بننا چاہتا ہے اور آرمی چیف سے ملنا چاہتا ہے۔

اس کی آخری خواہش کو پوراکرنے کے لئے اس کو فوجی وَردی پہنائی گئی اسے لیفٹیننٹ کے بیج بھی لگائے گئے اور یوں اس نے پورادن فوج میں گزارا اور بعدازاں چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔ نوجوان نے کہا کہ وہ پاک فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑنا چاہتا ہے۔

اسی طرح9 سالہ باسط علی کی خواہش تھی کہ وہ پائلٹ بنناچاہتا ہے اور ہواؤں میں اڑنا چاہتا ہے۔ اس کو پائلٹ کی وردی پہنائی گئی۔ پی کے 302 کے کپتان نے اعلان کیا کہ آج کی فلائٹ خصوصی فلائٹ ہے اور میرے ساتھ کم عمر پائلٹ باسط علی ہوں گے۔ فلائٹ کے دوران ننھے پائلٹ کی خوشی قابل دید تھی، اس طرح اس کی آخری خواہش کو تعبیر دی گئی ۔

اسی طرح 17سالہ بچی آمنہ حنیف جو کہ کینسر جیسے موذی مرض سے لڑرہی تھی، آخری خواہش تھی کہ وہ اپنے والد کے ساتھ عمرہ کرنا چاہتی ہے، لہٰذا اس کو عمرہ کرایا گیا، اس نے اپنی صحت کے لئے دعا کی اور اللہ کے حضور شکر بجا لائی، وہ خوش تھی کہ اس نے عمرہ کی سعادت حاصل کی۔ 15سالہ مسکان جو خون کے کینسر میں مبتلاتھی کی خواہش تھی کہ وہ شہزادی بننا چاہتی ہے، ’’میک اے وش پاکستان‘‘ نے اس کی آخری خواہش کی تکمیل کرتے ہوئے گورنر ہاؤس کراچی میں اسے شہزادی بنایا گیا، جس پر اس کی خوشی قابل دید تھی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میک اے وش پاکستان انٹرنیشنل کے سربراہ اشتیاق بیگ نے کہا کہ پاکستان میں تھیلیسیمیا جیسی مہلک مرض سے آگاہی و شعور نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال تقریبا 50ہزار سے زائد بچے اس مہلک بیماری کولے کر پیدا ہوتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ نے ایک قانون پاس کیا ہے کہ شادی سے قبل دلہا اور دلہن کے لئے لازمی قرار دیا گیا کہ وہ خون کا ٹیسٹ کروائیں گے کہ وہ تھیلیسیمیا کا شکار تو نہیں، انہوں نے گورنر پنجاب سے اپیل کی کہ وہ بھی پنجاب میں اس طرح کی قانون سازی کریں تاکہ اس لاعلاج بیماری سے بچا جاسکے۔

تقریب میں موجود مختلف لاعلاج بیماریوں میں مبتلا 20بچوں کو گورنر ہاؤس کی سیر کرائی گئی اور ان کی آخری خواہش کے مطابق کھلونے جن میں بائیسکل، گڑیا، طوطے، ٹیلی ویژن، کرکٹ کٹ، ریموٹ کنٹرول کاریں، ٹیبلٹس دیئے گئے۔ تقریب میں نامور اداکارہ ریما خان، معروف صحافی، دانشور و تجزیہ نگار سہیل وڑائچ اور گلوکار وارث بیگ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا کہ ’’میک اے وش پاکستان‘‘ انٹرنیشنل کے لوگ بے سہارا اور مستحق بچے جو لاعلاج بیماریوں میں مبتلا ہیں، ان کے و الدین ان کا علاج نہیں کرواسکتے اور نہ ہی ان کی آخری خواہش کو پورا کرسکتے ہیں۔

’’میک اے وش پاکستان‘‘ کے لوگ ان کی مدد کرکے دین اور دُنیا کما رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ہمارے لئے نہ صرف مشعل راہ ہیں، بلکہ ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں، انہوں نے ’’میک اے وش پاکستان‘‘ کے سر براہ اشتیاق بیگ اور اداکارہ ریما خان کی اس سلسلے میں کاوشوں کو سراہا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ اپنے لئے تو ہر کوئی جیتا ہے، مگر اصل زندگی وہ ہے جو انسان دوسروں کے لئے جیتا ہے۔ محروم طبقے کو زندگی کی خوشیوں میں شامل کرنے کے لئے مخیر حضرات اور صاحب ثروت طبقے کو آگے آنا چاہئے، انہوں نے کہا کہ دُکھی انسانیت کی خدمت کرنے والے ہمارے آئیڈیل اور ہیرو ہیں۔

گورنر پنجاب نے کہا کہ مجھے زندگی میں کسی مرحلے پر اپنی تقریر کرنے میں اتنی مشکل پیش نہیں آئی جتنی آج آئی ہے، انہوں نے کہا کہ ان بچوں سے مجھے ایک حوصلہ اور ہمت ملی ہے، ہمیں ان بچوں سے جینے کا سبق سیکھنا چاہئے، ان کے جذبے ہمارے لئے مشعل راہ ہیں، اُنہوں نے کہا کہ ہمیں ان بچوں کو رول ماڈل بنانا چاہئے، جن کی صرف ایک خواہش ہے۔

ایک طرف ہم ہیں کہ جن کی ہزاروں خواہشیں ہیں اور وہ بھی کہ ہر خواہش پر دَم نکلے۔ انسان کو درد دل کے لئے پیداکیا گیا ہے اور دُنیا میں ایسے کام کر جائیں کہ دُنیا ہمیں یادرکھے۔

گورنر پنجاب نے کہا کہ ان بچوں کے والدین جس کرب اور صورت حال سے دوچار ہیں، ان حالات میں جینا بڑا مشکل ہے۔ ان کے والدین کا بڑاحوصلہ ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ ان کے بچے لاعلاج بیماری میں مبتلا ہیں، وہ زیادہ عرصہ جی نہیں سکتے، مگر پھر بھی اس آس پر زندہ ہیں کہ شائد کوئی معجزہ ہوجائے اور ان کے بچوں کو زندگی کی نوید مل جائے۔ ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا کہ اعلیٰ عہدوں اور رتبوں سے بخشش نہیں ہوگی، بلکہ دُکھی انسانیت کی خدمت سے ہی دنیا و آخرت میں سرخرو ہوا جاسکتا ہے، انہوں نے کہاکہ ایسے بچوں کے لئے گورنر ہاؤس کے دروازے ہمیشہ کے لئے کھلے رہیں گے اور یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ یہ بچے آج گورنر ہاؤس میں آئے ہیں اور مجھے ان کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا ہے۔گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا کہ وہ تھیلسیمیا جیسی مہلک مرض سے متعلق شعور کو اجاگر کرنے اور شادی سے قبل دلہا اور دلہن کے خون کے ٹیسٹ لازمی قرار دینے کے لئے قانون سازی میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کے اِن مشکل حالات میں غریب آدمی کا دو وقت کی روٹی کمانا محال ہوگیا ہے اور مہنگائی نے اس کی کمر توڑ دی ہے۔ کینسر جیسے موذی مرض کا علاج بہت مہنگا ہے جو عام آدمی کی دسترس میں نہیں۔

ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ صاحب ثروت اور مخیر حضرات آگے آئیں اور مستحق خاندانوں کے دُکھوں کا مداوا کریں تاکہ وہ معاشرے میں باعزت طور پر زندگی گزار سکیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسی غیر سرکاری تنظیموں کی سرپرستی کرے جو حقیقتاً غریب کے سر پر ہاتھ رکھتی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -