بروقت علاج سے دمے کے مرض کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے

بروقت علاج سے دمے کے مرض کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے
بروقت علاج سے دمے کے مرض کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے

  

دنیا بھر میں ہر سال مئی کے پہلے منگل کودمے کا عالمی دن منایا جا تا ہے ۔ اس دن کو منانے کا مقصد اس بیماری کے حوالے سے آگاہی کو فروغ دینا ہو تا ہے۔ ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ دمہ ، دم لے کر ہی جاتا ہے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

میڈیکل سائنس کی ترقی کی بدولت اب دمے کا علاج بھی ممکن ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اس مرض کا کوالیفائد ڈاکٹر سے بروقت اور مسلسل علاج کروایا جائے۔

دمے کے عالمی دن کے موقع پر شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر کی جانب سے صحافیوں کے لیے ایک بریفنگ کا ہتمام کیاگیاجس میں ہسپتال کے پلمونوجسٹ کنسلٹنٹ ڈاکٹر فہیم محمود بٹ نے استھما ، یعنی دمے کے مرض کی علامات اور اس کے علاج کے جدید طریقوں کے بارے میں بات کی۔

ڈاکٹر فہیم محمود بٹ کے مطابق سانس کی نالیوں میں خرابی یاپھیپھڑوں کی نالیوں کے باریک ہونے کے سبب سانس لینے میں تکلیف کے مرض کو دمہ کہاجاتا ہے۔

اس مرض میں مبتلا مریض کی سانس کی نالیا ں اپنی قدرتی ساخت سے ہٹ کے سکڑتی یا کھلتی ہیں جس کی وجہ سے اس کے سانس کی روانی متاثر ہوتی ہے۔

دمے کی شناخت کی کئی علامتیں ہیں جیسے سانس لیتے وقت سیٹی کی آواز آنا، کھانسی،سانس پھولنا، سینے کا درد،نیند میں بے چینی یا پریشانی ہونا،تھکان اور بچوں کو دودھ پینے میں تکلیف ہونا وغیرہ۔ زیادہ تر مریضوں میں دمہ بچپن سے ہی ہوتا ہے لیکن جوانی یا بڑھاپے میں بھی اس مرض کے لاحق ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

کچھ لوگوں میں یہ خاندانی ہوتا ہے جبکہ بعض لوگوں میں دیگر مختلف وجوہات جیسا کہٍ اندرونی وبیرونی الرجی،موسم کی تبدیلی،دھول مٹی، دھواں، ٹھندی ہوا اور آلودگی کے باعث ہوتا ہے۔

دمے کے خاتمے کے مختلف طریقے ہیں جن کی مدد سے اس مرض کو بڑھنے سے روکا جاتا ہے ۔جسمانی جانچ اور میڈیکل ٹیسٹ کے ذریعے سے دمے کی پہچان ہوتی ہے۔

خون کی جانچ،ایکسرے،خون میں آکسیجن کی مقدار،پھیپھڑوں کی حرکت کی جانچ،اسپائرومیٹری اور الرجی ٹیسٹ کے ذریعے دمے کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔دمے کی روک تھا م دو طریقوں سے کی جاسکتی ہے۔ایک علاج اور دوسرے احتیاط سے۔

احتیاط یہ ہے کہ مریض کو اپنے روزمرہ کے معمولات تبدیل کرنا ہوں گے۔اگر وہ کسی بھی قسم کے نشے کا عادی ہوتو فوراًاسے چھوڑ دے،دھول، مٹی اورفضائی آلودگی سے بچیں اور موسم کی تبدیلی سے نقصان ہوتا ہوتو اس کے لیے محفوظ اقدامات اختیار کریں۔

جبکہ علاج کے مستقل جاری رکھا جائے تو یہ کنٹرول میں رہتا لیکن اگر علاج جاری نہ رکھا جائے تو یہ ناقابلِ علاج صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔ اس کے علاج کے لیے مختلف قسم کے انہیلر (inhaler) مرض کی شدت کے حساب سے استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر فہیم بٹ کے مطابق دمے کے مرض کی مختلف اقسام ہیں ، جن میں سے ایک الرجی کی وجہ سے ہونے والا دمہ ہے اس قسم کے مریضوں میں سے جو مرد ہوتے ہیں انکا دمہ بڑھتی عمر کے ساتھ ختم ہوتا جاتا ہے جبکہ خواتین میں یہ بڑھتی عمر کے ساتھ بھی ختم نہیں ہوتا۔ دمے کی دوسری قسم میں بغیر الرجی کا دمہ ہے ، دمے کی یہ قسم بچپن کے بعد شروع ہوتی ہے اس کا حملہ ہونے کے بعد اثرات لمبے عرصے تک رہتے ہیں۔

دمے کے علاج کے لیے سب سے زیادہ دو چیزیں استعمال ہوتی ہے۔ایک میٹرڈ ڈوز اِن ہیلر اور دوسرے پاوڈر اِن ہیلر۔ان دواوؤں میں امید افزا بات یہ ہے کہ ان کے مضراثرات نہیں ہوتے۔

اس لیے کہ اِن ہیلر (دمہ کا پمپ)سے دی جانے والی ادویہ کی بہت کم مقدار خون میں شامل ہوتی ہے بلکہ سانس کی نالی جس جگہ سے خراب ہوتی ہے یہ دوائیں اسی جگہ اثر انداز ہوتی ہیں اور اِن ہیلر سانس کی نالیوں کو مزید خراب ہونے سے بھی روکتا ہے۔

یاد رہے کہ ان ہیلر کا ستعمال کوئی بری بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک آسان اور کامیاب طریقہ علاج ہے۔ اگر مریض زیادہ بیمار ہو تو اسکو nebulize بھی کیا جاتا ہے۔

لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ یہ ادویہ کام کرنا بند کردیتی ہیں اور مریض دمے کے آخری درجے پرچلا جاتا ہے ایسی صورت میں کوئی بھی دوائی کارگر ثابت نہیں ہوتی۔اس صورت حال سے بچنے کے لیے ڈاکٹران ہیلرکے استعمال پر خصوصی توجہ دیتے ہیں مگر لاعلمی اور کم علمی کے سبب بہت سے مریض اِن ہیلر کو نقصان دہ اور مضر تصور کرتے ہیں جبکہ اِن ہیلرکا کوئی مضر پہلو اب تک سائنسدانوں اور ریسرچرز کے سامنے نہیں آیا ہے، بلکہ ان ادویہ کے ذریعے د مے کو مزید بڑھنے سے روکا جاسکتاہے اور مریض کی تکلیف کم ہوجاتی ہے۔

ڈاکٹر فہیم بٹ نے بتایا کہ شوکت میموریل کینسر ہسپتال میں سانس کی بیماریوں کو لیے ایک مکمل شعبہ موجود ہے جہاں بہترین کنسلٹنٹ دمے کے مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرتے ہیں اوریہاں جدید ترین طریقوں سے مرض تشخیص اور اس کی شدت کا جائزہ لے کر اس کا علاج تجویز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت ڈاکٹروہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس بیماری کا ایک ہیحل ہے کہ اسکا بروقت اور درست علاج کروایا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -