مبارک ۔۔۔ حفیظ کا باؤلنگ ایکشن کلیئر مگر؟

مبارک ۔۔۔ حفیظ کا باؤلنگ ایکشن کلیئر مگر؟

  

پاکستان کرکٹ کے لئے اچھی خبر کہ آئی سی سی نے آل راؤنڈر محمد حفیظ کا باؤلنگ ایکشن درست قرار دے دیا اور کہا ہے کہ ا نکے کسی بھی زاویے سے کئے جانے والے بال کے دوران بازو کا زاویہ پندرہ ڈگری سے کم نہیں ہوتا ۔ محمد حفیظ کا باؤلنگ ایکشن دوسری بار خلاف ضابطہ قرار دیا گیا اور ان پرباؤلنگ کرنے کی پابندی لگا دی گئی۔ اس کی وجہ سے ان کی پاکستان کرکٹ ٹیم میں شمولیت ہی مشکوک ہو گئی اور وہ حالیہ دورہ آئر لینڈ اور برطانیہ کے لئے زیر غور بھی نہ لائے گئے کہ ٹیم کے لئے ان کی دہری افادیت چاہئے تھی۔یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے باؤلنگ ایکشن کو درست کرنے اور امتحان کے لئے تعاون بھی کیا۔ تاہم یہ بات بہت تشویش ناک ہے کہ ان کا باؤلنگ ایکشن دوسری بار غلط قرار دیا گیا اور ان کو برطانیہ سے ٹیسٹ کے بعد خود کو کلیئر کرانا پڑا۔ اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر معین خان کی بات پر غور کرنا ہو گا، جنہوں نے کہا کہ ہر بار کسی نہ کسی پاکستانی باؤلر ہی کی باؤلنگ کو مشکوک قرار دیا جاتا ہے اور محمد حفیظ کے ساتھ یہ دوسری مرتبہ ہوا۔ جبکہ کسی دوسری ٹیم کے باؤلر کے واضح غلط ایکشن پر بھی نوٹس نہیں لیا جاتا انہوں نے اس سلسلے میں ویسٹ انڈیز کے سنیل نارائن کا نام بھی لیا تھا۔معین خان کی بات اس حد تک تو درست ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کی وجہ بھارتی لابی ہوتی ہے ورنہ حال ہی میں بال ٹمپرنگ کے الزام میں آسٹریلیا کے سمتھ اور وارن کے خلاف بال ٹیمپرنگ ثابت ہو گئی اور ان کو ایک ایک سال کے لئے کرکٹ سے دور کر دیا گیا تو اب کرکٹ آسٹریلیا کے صدر ان کی واپسی کی راہ ہموار کر رہے ہیں اور شاید ایسا ہو جائے ۔ اس کے برعکس پاکستانیوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جاتی۔ مثال تین کھلاڑیوں کی میچ فکسنگ والی سزا ہی ہے، یہ ثابت ہو جانے کے بعد کہ کھلاڑیوں کو ایک پروگرام بنا کر گھیرا گیا اور اس کے بعد ذمہ دار اخبار بھی بلیک میلنگ پر بند ہوا اور متذکرہ رپورٹر کو سزا ہوئی۔ اس کے باوجود ان تینوں کے ساتھ کوئی رعایت نہ ہوئی۔ جیل میں سزا بھگتی اور پابندی کا پورا عرصہ گذارا۔ کیا پی سی بی ان حالات کا تجزیہ کر کے اپنی حکمت عملی ایسی بنائے گا کہ بھارت کے معاملے میں اسے ہزیمت نہ ہو، نجم سیٹھی اور ان کی پوری ٹیم کا یہ بڑا امتحان ہے اور ان کواس میں پورا اترنا ہو گا، ورنہ پی ایس ایل ہی سے خوش ہونا کافی نہیں۔ نجم سیٹھی کو سینئر کھلاڑیوں کی اس تجویز پر صاد کرتے ہوئے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈھانچہ سکول کی سطح سے مضبوط کیا جائے گا پروگرام بنانا ہو گا۔ اب پاکستان کپ جاری ہے اس میں بڑے کھلاڑی بھی ہیں لیکن اوقات ایسے اکٹھے ہوگئے کہ قومی کرکٹ میں شامل کر لئے جانے والے کھلاڑی ٹور پر ہیں، ڈومیسٹک کرکٹ کی کامیابی کے لئے سب کھلاڑیوں کا حصہ لینا ضروری ہے۔ بورڈ کو ان خامیوں پر قابو پانا ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -