مئی کو غنیمت جانو ۔۔۔۔۔۔

مئی کو غنیمت جانو ۔۔۔۔۔۔
مئی کو غنیمت جانو ۔۔۔۔۔۔

  

مئی شروع ہوچکا۔۔ اور اپریل جاچکا۔ جس جس نے بیوقوف بنانا تھا بنا چکا جسے بننا ہے بنتا رہے۔ لیکن اب بے وقوف بنانے کی مزید گنجائش نہیں رہی۔ مئی نئی شروعات کا مہینہ ہے۔ ایک جانب سزاؤں کی گونج ہے تودوسری جانب ’’مے ڈے‘‘ ’’ مے ڈے ‘‘کے سگنل۔۔ یہ ایمرجنسی سگنل کی اصطلاع عام طور پر جہازوں کے حوالے سے استعمال ہوتی ہے۔ ملکی سیاسی جہاز کی پرواز اس وقت ہموار نہیں۔ ہچکولوں کی زد میں ہے اور ایمرجنسی سگنل موصول ہو رہے ہیں۔

ایک طبقہ کے لیے محظوظ ہونے کا سماں ہے۔ جہاں بجا ہے وہاں حظ خوب اٹھایا جائے لیکن قوم کے مفاد میں دیکھنے اور سوچنے کی ذمہ داری لینے والوں کو اس ایمرجنسی سگنل پر نا صرف کان دھر نے چاہئیں بلکہ فوری طور پر ریسکیو آپریشن کا آغاز کردینا ہی بہتر ہے۔

سیاست اور حکومت کاری فرد واحد یا افراد کے ہاتھوں یرغمال نظرآ رہے ہیں۔ کام کتنا ہی اچھا ہو طریقہ کار غلط ہے۔ فرسٹریشن بڑھانے کا باعث ہے۔ جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

جبکہ اس وقت ملک کوزیادہ سے زیادہ جمہوریت کی ضرورت ہے۔ جتنی جمہوریت ہو اتنی کم کیونکہ بہت سے حصوں میں گھٹن کا اظہار ہو رہا ہے۔

ایک سانس آور علاقہ پنجاب تھا وہاں بھی ماحول اس قدر گرما دیا گیا کہ اب سانس لینا دوبھر ہوگیا۔ لاہورنے مینار پاکستان جلسے میں اپنے ردعمل کا اظہار کردیا ہے۔ لاہور نے طعنے دینے والوں اور گالیاں دینے والوں کو مسترد کر دیا۔

لاہور اپنے اندر میں سموگیا۔ اور اندر کی طرف سموئے ہوئے بہت گہری سوچ سمجھ لیے ہوتے ہیں انہیں مزید فرسٹریشن کا شکار نہ ہی ہونے دیا جائے تو بہتر ہے۔ لاہور اْٹھتا ہے تو پنجاب اْٹھتا ہے اور اگر پنجاب اْٹھ گیا تو پھر سنبھالنا مشکل ہوگا۔

بہت سوں کو امید تھی کہ شہباز شریف بڑے بھائی کا بیانیہ قبول نہیں کریں گے۔ اسلام آباد میں ملتان اور بہاولپور کے نمائندوں سے خطاب میں نہ صرف دونوں بھائی اکٹھے بیٹھے تھے۔ مریم اور حمزہ بھی اکٹھے نظر آئے اور نوازشریف نے ایک بڑا جملہ ادا کردیا۔

’’پیچھے ہٹے تو تاریخ معاف نہیں کرے گی‘‘۔ اب سوچئے کیا گنجائش باقی رہ گئی ہے۔ پھر یہ بھی امید تھی کہ پارٹی میں ایسی بغاوت ہوگی کہ شیرازہ بکھرا پڑا نظر آئے گا۔ وہ بھی نہیں ہوا۔۔۔۔ ’’لوگ کیوں نکالا پر توجہ نہیں دیں گے‘‘۔

لیکن لوگوں نے خوب ردعمل دیا۔ لاہور کے حلقہ 120 اور لودھراں کے انتخابات گواہ ہیں، ویسے گواہی تو چکوال اور سرگودھا کی بھی کم معتبر نہیں ،سوچ رکھا تھا۔

جو سورج غروب ہورہا ہو پنجاب اس سے پیٹھ موڑ لیتا ہے۔ اب ان کے اپنے سب اندازے بتارہے ہیں کہ بالکل اْلٹ ہوگیا۔ لوگ پہلے سے زیادہ حامی ہوتے جارہے ہیں۔ اس کی تازہ ترین گواہی تحریک انصاف کا لاہور کا جلسہ ہے۔

لوگوں نے بتادیا کہ وہ نوازشریف کے بیانیے کے سوا کچھ ماننے کو تیار نہیں۔ اندازے لگانے والوں نے عمران خان کو نوازشریف کے بیانیے کی مقبولیت سے آگاہ کرتے ہوئے لاہور جلسہ نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ لیکن وہ نہ مانے اور نوازشریف کی مقبولیت کو ڈبونے کا بڑا بول، بول بیٹھے اور پِٹ گئے۔

پنجاب والوں کے دلوں میں غصہ تو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے نام پر انہیں گالیاں دینے والے کا ساتھ کیوں دیا جارہا ہے۔ اور ستم تو یہ ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ جسے پنجابی کہا جاتا ہے اور بلوچستان میں پنجابی مزدور اسی پہچان کی وجہ سے سیکڑوں کی تعداد میں شہید ہوچکے۔ وہ لاہور اور پنجاب کو ترقی کے طعنے دلوائے۔ پنجابیوں کے دلوں پر کیا گزر رہی ہوگی؟

پنجاب کو کچھ بھی کہیے کبھی تنگ دل نہیں رہا۔ پنجابی بلوچستان میں مارے گئے، مارے جارہے ہیں۔ بلوچ پنجاب یونیورسٹی ہو یا کسی اور ادارے میں، وہاں دھڑلے سے موجود ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں ایک مذہبی تنظیم نے کچھ گڑبڑ کی۔ پورا پنجاب ان بلوچ طلبا کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔

لاہور سب کے لیے اپنا دامن وسیع کیے کھڑا ہے، کیا کراچی سے لوگ پنجاب اور خصوصاً لاہور میں ملازمتوں کے لیے نہیں آرہے؟ کیا کسی کو اردو، پشتو یا کوئی زبان بولنے کی بنا پر کسی پنجابی نے طعنہ دیا ہے؟ کسی کو تنگ کیا ہو؟ ایسا نہیں پھر پنجاب کو پنجابی ہی گالی دیں۔ اس کی ترقی اور خوش حالی کو جْرم بنا کر پیش کیا جائے، یہ کہاں کی حْب الوطنی ہے؟

پنجابی سب کچھ جھیل کے بھی اپنا سینہ کشادہ کیے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے سینے میں گنجائش بہت ہے۔ تاہم یہ کشادہ سینہ تَن گیا تو مسئلہ ہوگا۔ کچھ ہوش کے ناخن لیجئے۔ نوازشریف مزاحمت کررہا ہے۔ لیکن بنیادی طور پر، وہ مفاہمت کا نام ہے۔

وہ مزاحمت کب تک کرے گا کچھ پتہ نہیں لیکن اس کی وجہ سے جو پنجابی اپنوں اور دوسروں کی جس قسم کی سْن اور سہہ رہا ہے وہ شاید بھولنے سے بھی نہ بھولے۔ جتنی لمبی دشمنیاں پنجاب والے پالتے ہیں کوئی اور نہیں۔۔۔ اس لیے "مے ڈے" کی ایمرجنسی کال پر توجہ دی جائے۔

عمران خان لاڈلہ ہے تو کوئی اعتراض نہیں۔

ہوتے ہیں لاڈلے، لیکن قیمت کیا ادا کرنے جارہے ہو۔ یہ دیکھ لینا بہت لازم ہے۔

سی پیک صوبہ خیبرپختونخوا سے شروع ہوگا پنجاب سے گزرے گا اور سندھ کو ساتھ ملائے گا اورآخر کار بلوچستان میں جائے گا۔ اب بتائیے اس پنجاب پر الزام کیوں کہ وہ بڑا حصہ لے جائے گا۔ بھئی سب کو حصہ ملے گا۔ ہاں پنجاب والے ترقی کرنے میں آگے نکل گئے تو صحت مند مقابلہ کرو ناں۔مسابقت کا ماحول پیدا کرو۔

نفرت کیوں؟ پنجاب نشانہ کیوں؟

دوسرے صوبوں کی پارٹیاں اگر کچھ نہیں کرسکیں تو پنجابی استعمار کا نام دے کر اْن پارٹیوں کو جعلی طریقے سے بیل آوٹ تو نہ کرو۔ ان کی ذمہ داری ان پر ڈالو۔ پنجاب والوں کو بخش دو۔ سب نے اس وطن عزیز کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔

بہت کچھ دیا ہے۔ پنجاب نے کیا کم دیا ہے؟ سندھ والوں کو حکومت پنجاب نے دی۔ خیبرپختونخوا والوں کو حق حکمرانی بھی پنجاب نے دیا۔ سب الزام پنجاب نے سہے۔

سب زخم پنجاب نے لیے۔ سرحدوں پر دشمنوں کا مقابلہ بھی پنجاب نے کیا، بھئی کیا کم کیا۔۔۔؟ پنجاب نے پاکستان اور اردو کی محبت میں اپنی ماں بولی تک کو بھلا دیا۔

اپنے کلچر کو بھی بْت نہیں بنایا۔ اردو کی سب سے زیادہ خدمت پنجاب نے کی۔ جتنے بڑے اردو ادیب اور شاعر پنجاب نے پیدا کیے، کسی اور نے نہیں۔

پنجاب کے ساتھ دوسروں کے درمیان تقسیم کی یہ لکیر بالآخر وطن عزیز کے مستقبل کے لیے خطرہ ہوگی۔ اب جنوبی پنجاب کا شوشہ چھوڑ دیا۔ محض وقتی سیاسی مفاد کی خاطر۔ ایک نئے پْتلی تماشا کی خاطر، بھئی اس سے مثبت کیا برآمد ہوگا۔۔۔؟ سب منفی آئے گا۔

صوبے کی ضرورت کو ضرورت کے تحت پورا کیا جاتا تو کیا ہی خوب تھا۔ ایک نوازشریف کو دبانے کے لیے۔ جو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہا ہے۔ اْسے شاید آئندہ بھی اعتراض نہ ہوتا اگر نکالا جانا کوئی ایک یا دو بار ہوتا۔

جب یہ ایک مذاق بن گیا تو ہر بار کوئی مذاق تھوڑی بنتا ہے؟ بلی بھی حملہ کردیتی ہے۔ ان سطور میں بات کرنے کا مطلب نوازشریف کو بچانا نہیں اس کے بیانیے کی شدت سے بچانا ہے۔

دنیا کیا سے کیا ہوتی جارہی ہے، ہمارے اردگرد اَلاؤ جل رہے ہیں۔۔۔ اور ہم آنکھیں موندے اندرونی کھیلوں میں مصروف ہیں۔ مئی کو غنیمت جانو۔۔۔ بریک لگادو۔ جو بگڑا ہے سنبھال لو۔ اب بھی کچھ زیادہ بگڑا نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -