وزیراعظم کا دورۂ شمالی وزیرستان

وزیراعظم کا دورۂ شمالی وزیرستان
وزیراعظم کا دورۂ شمالی وزیرستان

  

اگلے روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے شمالی وزیرستان کا دورہ کیا۔ یہ ملک کے کسی بھی چیف ایگزیکٹو کا پہلا دورہ تھا جو آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد کے بعد کیا گیاتھا۔ان آپریشنوں میں پاکستان کی مسلح افواج نے مقامی اور غیر مقامی دہشت گردوں کی کمرتوڑ کر رکھ دی تھی اور ان کو اپنے ملک کے سرحدوں سے باہر نکال دیا تھا۔۔۔ یہ دورہ کئی اور اعتباروں سے بھی ایک اہم دورہ تھا۔۔۔ اول یہ کہ بعض اپنے اور بیگانے لوگوں نے یہ بات پھیلا دی تھی کہ آپریشن ضربِ عضب ملک کی سیاسی حکومت کی مرضی اور ہدائت کے بغیر لانچ کیا گیا تھا۔

اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنے کسی سیاسی سربراہ کی حتمی منظوری کے بغیر ’’دَھکو دَھکی‘‘ پاک فوج کو شمالی وزیرستان پر چڑھ دوڑنے کے احکام صادر کر دیئے تھے اور یہ بھی کہ اس آپریشن کو کسی وزیراعظم نے own نہیں کیا تھا۔۔۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ موجودہ دورے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔

اس کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ سویلین اور فوجی قیادت ایک ہی صفحے پر ہیں وگرنہ اس وقت جب موجودہ سیاسی قیادت کا اقتدار صرف ایک ماہ باقی رہ گیا ہے اس طرح کی ایکتا اور یک جہتی کا مظاہرہ کسی بھی دائرۂ تفہیم میں نہیں آتا۔۔۔

تیسری اور سب سے اہم وجہ جولائی 2017ء میں کہ جب سابق وزیراعظم کو عدالت عظمیٰ نے نااہل قرار دے دیا تھا اور جب اس کے بعد آج تک سابق وزیراعظم فوج کو اپنی نااہلی اور سبکدوشی کا بالواسطہ ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں، موجودہ وزیراعظم کا آرمی چیف کے ساتھ شمالی وزیرستان میں اکٹھے چلے جانا اور ساتھ اپنی پوری ٹیم کو بھی لے جانا کسی بھی منطق کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا اور بعض حلقے تو اسے بعید از قیاس گردانتے ہیں۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ دورہ ہوا ہے اور اعلیٰ ترین سیاسی لیڈرشپ نے مل کر ان اقدامات کو سراہا ہے جو فوج کی جانب سے یہاں بروئے عمل لائے جاتے رہے ہیں۔

میرن شاہ (جسے میڈیا کے بعض حضرات میرم شاہ لکھتے اور بولتے ہیں)، غلام خان ،دتہ خیل اور شوال کے علاقے وہ ہیں جہاں فوج اور دہشت گردوں کے درمیان کئی خونریز جھڑپیں ہوئیں۔ طالبان کا یہی وہ آخری گڑھ تھا جس کو مسمار اور برباد کرنے میں پاک آرمی اور ائر فورس نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ ان آپریشنوں میں بھاری توپیں، ٹینک اور طیارے استعمال کئے گئے۔ سینکڑوں افسروں اور جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور ہزاروں دہشت گردوں کو جہنم رسید کیا۔ یہی وہ علاقے بھی تھے جن کو خالی کرانے کے لئے وہاں کی سول آبادیوں کا انخلاء عمل میں آیا اور جن کی از سرِ نو آباد کاری کا کام ابھی تک جاری و ساری ہے۔اس سویلین آبادی کی بحالی کا بہت سا عمل پایہ ء تکمیل کو پہنچ چکا ہے اور بہت سا ابھی زیرِ تکمیل ہے۔

جب آرمی چیف نے اپنے وزیراعظم کو بریفنگ کے دوران بحالی اور تعمیرِ نو کی تفصیلات بیان کیں اور بتایا کہ فوج نے میرن شاہ اور غلام خان کے علاقوں میں ایک بڑا مارکیٹ کمپلیکس اور ایک ٹریڈ ٹرمینل بھی تعمیر کیا ہے جس میں بہت سی دکانیں اور مکانات شامل ہیں اور ان کے علاوہ مواصلاتی انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور بحالی کا بھی بہت سا کام مکمل ہو چکا ہے تو وزیراعظم نے اس کی کھل کر تعریف کی اور کہا کہ فوج نے اپنا کام کر دیا ہے۔ اب سول ایڈمنسٹریشن کا کام ہے کہ وہ سویلین رِٹ بحال کرے اور عوام کو ہر طرح کی وہ سہولتیں فراہم کرے جو ملک کے دوسرے صوبوں اور حصوں میں میسر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب لوکل انتظامیہ اور پولیٹیکل ایجنٹوں اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹوں (DCاور ACوغیرہ) کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورتِ حال کو معمول پر لائیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا : ’’اگر میرن شاہ میں امن نہیں تو پھر اسلام آباد میں بھی امن نہیں۔ اور اگر فاٹا میں امن نہیں تو سارے پاکستان میں کہیں بھی امن نہیں۔ ہمیں فاٹا کو قومی دھارے میں لانا ہے اور یہاں وہ تمام سہولتیں فراہم کرنی ہیں جو مہذب معاشروں میں ہوتی ہیں‘‘۔

جب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سویلین ا ور عسکری ٹیموں کو یہاں یک جا دیکھتا ہوں تو یوں لگتا ہے کہ یا تو میری سوچ راہِ مستقیم سے بھٹک گئی ہے یا یہ سول اور فوجی قائدین محض اداکاری کررہے ہیں۔

ایک طرف اگر یہ دیکھتا ہوں کہ یہ وزٹ معروف جمہوری اقدار کی مظہر ہے تو دوسری طرف مجھے اپنی ان آنکھوں اور کانوں پر یقین نہیں آتا جو آج کل میڈیا دکھا اور سنوا رہا ہے۔

29اپریل کو لاہور میں پی ٹی آئی کا ایک بڑا جلسہ تھا جس میں عمران خان نے اپنا آئندہ کا منشور گیارہ نکاتی ایجنڈے کی صورت میں پیش کیا۔ لیکن اس پروگرام میں کوئی ایسی شق نہیں تھی جو چونکا دینے والی ہو، غیر معمولی اور انوکھی ہو اور جس کو سن کر نوجوان نسل مستقبل کے سہانے خواب دیکھنے لگے۔

میرے خیال میں ہماری نژادِ نو کو آج ایک ایسا خواب دکھانے کی اشد ضرورت ہے جس کی تعبیر حقیقت میں ڈھلنے میں دیر نہ کرے، ایک ایسا بیانیہ ہو جو قابلِ عمل ہو اور اس کی تفاصیل ایسی ہوں جس کی تکمیل میں زیادہ دیر نہ لگے۔

مجھے یاد ہے 1970ء کے الیکشنوں میں زیڈ اے بھٹو نے پاکستانیوں کو جو خواب دکھائے تھے وہ 1971ء کی مشرقی پاکستان کی شکست کے باوجودباقی پاکستان میں قابلِ عمل تھے۔ لیکن یہ بات دوسری ہے اور اس کی وجوہات بھی الگ ہیں کہ وہ انقلابی تبدیلیاں بُری طرح فیل ہو گئیں۔

روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ بارآور نہ ہو سکا، سرکاری اثاثوں کو قومیا کر وہ کچھ حاصل نہ کیا جا سکا جس کی امید دلائی گئی تھی، غریب غربا کو اشرافیہ کے مساوی وہ حقوق نہ مل سکے جن کے سہانے سپنے پی پی پی کے قائد نے لوگوں کو دکھائے تھے اور وہ انقلابی تبدیلیاں پروان نہ چڑھ سکیں جن کے بلند بانگ دعووں کا ڈھنڈورہ پیٹا گیا تھا!

اس ناکامی کی وجوہات کچھ بھی تھیں، اس پر بحث کرنا اب فضول ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ یہ سارے خواب محض تھوڑے ہی عرصے کے بعد چکنا چور ہو گئے اور اس کے بعد خواب دکھانے والے اس لیڈر کا بھی جو انجام ہوا وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔

آج ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ملک کے عوام نصف صدی پہلے اتنی بڑی تبدیلی کے متحمل نہیں تھے جس کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ موعودہ تبدیلی کے لئے جس تدریجی اور ارتقائی عمل کی ضرورت تھی اس کا ادراک بھٹو صاحب نہ کر سکے۔

ان کا ایجنڈا مبنی پر صداقت ضرور ہو گا لیکن اس کی تکمیل کے لئے جس دورانیئے کی ضرورت تھی اس کا غلط اندازہ لگایا گیا۔ اس پس منظر میں پی ٹی آئی کا یہ 11نکاتی ایجنڈا بھی ایک ایسا بھاری پتھر ہے جس کو اٹھانے کے لئے قوم کے نوجوانوں کو تیار کرنے میں وقت لگے گا۔

یہ کام پانچ برسوں میں نہیں ہو سکتا۔ ہاں اس کام کی خشتِ اول رکھی جا سکتی ہے جس کے لئے انتہائی تحمل اور بردباری کی ضرورت ہے۔ لیکن ملک میں جس طرح کی سیاسی پولرائزیشن چل رہی ہے اس کے ہوتے ہوئے یہ پہلی اینٹ بھی رکھنی بہت مشکل نظر آ رہی ہے۔

اور جب یکم مئی کو سابق وزیراعظم کے جلسہ ء ساہیوال کو دیکھتے اور سنتے ہیں تو موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت کی وہ یک جہتی جو شمالی وزیرستان کے اس دورے میں دیکھنے کو ملی، وہ پاش پاش ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

شمالی وزیرستان کے دورے کی تشہیر اس پیمانے کی تو نہیں ہو سکتی تھی کہ جس پیمانے کا ساہیوال کا یہ نون لیگی جلسہ تھا۔ یعنی وہ بیانیہ جو موجودہ اور حاضر سروس وزیراعظم نے ایک روز پہلے میرن شاہ کے جلسہ ء عام میں پبلک کے سامنے پیش کیا، وہ اس بیانیئے سے 180ڈگری مختلف تھا جو سابق وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی نے یکم مئی کو ساہیوال کے جلسہ ء عام میں پیش کیا۔

اگر میرن شاہ کے دورے میں سول ملٹری روابط کی مساوات برابر اور ہموار سمجھی جائے تو ساہیوال کے دورے میں یہ مساوات غیر ہموار کیوں تھی؟اور نون لیگ کی طرف سے سٹیج کئے جانے والے یہ دونوں شوز (Shows) ایک دوسرے سے یکسر مختلف بلکہ متضاد کیوں تھے؟۔۔۔ اس سوال کا جواب بہت سر کھجانے کے بعد بھی مجھے نہیں مل سکا۔۔۔ ہاں صرف ایک پہلو جو شائد دور کی کوڑی تصور کیا جائے وہ یہ ہو سکتا ہے کہ حال ہی میں منظور پشتین کی طرف سے جو تحریک لانچ کی گئی تھی اور جو دم توڑتی نظر آ رہی ہے اس کے تابوت میں شمالی وزیرستان کا یہ دورہ شاید آخری کیل تھی جو نون لیگ کی طرف سے ٹھونکی گئی! لیکن اگر یہ بات درست مان لیتے ہیں تو پھر نون لیگ کے کسی بھی اہل یا نااہل لیڈر کو عدلیہ اور فوج کا مخالف تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ جو صبح و شام ہم میڈیا پر ٹاک شوز کی دھماچوکڑی سنتے اور جلسوں کی بہاروں کا سماں بھی آنکھوں تلے دیکھتے ہیں تو وہ سب کچھ محض ایک انتخابی ڈرامہ نظر آتا ہے!

میری حیرانی کی ایک وجہ اور بھی ہے بلکہ یہ سب حیرتوں اور حیرانیوں کی ماں ہے کہ جس وزیراعظم نے یہ کہا ہے کہ فوج نے تو اب شمالی وزیرستان میں اپنا فریضہ ادا کر دیا ہے، اب دوسرا مرحلہ سول انتظامیہ نے سر کرنا ہے تو ان کو کیا معلوم نہیں کہ شمالی وزیرستان فاٹا کا حصہ ہے اور فاٹا فیڈرل حکومت کے یعنی ان کے اپنے ماتحت ہے۔ اس کا سیکرٹریٹ اسی پشاور میں ہے جس میں گورنر ہاؤس واقع ہے جو براہ راست مرکز کے تحت ہے۔ جناب جھگڑا بھی جو آج کے پی کے گورنر ہیں، ان کی ناک کے عین نیچے فاٹا سیکرٹریٹ کی عمارت ہے جس میں اعلیٰ مناصب والے کئی بیورو کریٹ تشریف فرما ہوتے ہیں۔

کون نہیں جانتا کہ کسی بھی ترقیاتی کام کے لئے فنڈز درکار ہوتے ہیں۔ جیب خالی ہو تو ’’پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام‘‘ (PDSP)کا کوئی بھی چھوٹا بڑا کام شروع نہیں کیا جا سکتا۔فاٹا میں اس سلسلے میں کرنے کے جتنے پروگرام اور منصوبے ہیں وہ کسی سے چھپے ہوئے نہیں۔ تعلیم، صحت، آب رسانی اور مواصلات وغیرہ کا جو جنجال پورہ فاٹا میں موجود ہے، اس کے کیف و کم کا اندازہ کیجئے اور پھر دیکھئے کہ سال 2017-18ء میں فاٹا کا بجٹ کتنا رکھا گیاتھا؟ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ جون 2018ء میں ختم ہونے والے مالی سال کا فاٹا بجٹ کل ساڑھے چوبیس ارب روپے ہے۔

پہلے تو یہ سوچیں کہ اس ’’خطیر رقم‘‘ سے گنجی کیا نہائے گی اور کیا نچوڑے گی؟ لیکن اس پر طرہ یہ بھی ہے کہ یہ 25ارب روپے بھی پورے سال بھر میں ختم نہیں کئے گئے۔ ان میں 10ارب روپے جو خرچ نہیں کئے گئے وہ 30جون کو Lapseہو جائیں گے یعنی واپس سرکاری خزانے میں چلے جائیں گے۔

اس ’’کفائت شعاری‘‘ کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ فاٹا سیکرٹریٹ میں متمکن بیورو کریٹ حضرات نے ایسے منصوبے ہی نہیں بنائے جو سال بھر میں مکمل ہو سکتے تھے۔ اور تو اور مالی سالِ رواں میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں جن 5500اساتذہ اور ہیلتھ ورکرز کی ضرورت تھی ان کا بندوبست بھی نہیں کیا گیا۔

آپ جانتے ہیں کہ ہر منصوبہ گراؤنڈ پر جانے سے پہلے کاغذوں پرجاتا ہے لیکن اس کا کیا علاج کہ ہمارے ’’بابووں‘‘ نے اپنا دفتری اور کاغذی کام بھی مکمل نہیں کیا۔۔۔۔ اب یا تو واقعی فاٹا کی سڑکیں ، سکول، ہسپتال اور آب رسانی کی تمام سہولتیں تکمیل پا چکی ہیں اور یہ 10ارب روپے سرپلس ہیں جو سرکار کو لوٹائے جا رہے ہیں یا ہمارے بیورو کریٹس اوران کا دفتری عملہ سارا سال خوابِ خرگوش کے مزے لیتا رہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ بگڑی ہوئی صورتِ حال کانوٹس لیا جائے اور فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرکے عوام کو وہ حقوق اور وہ مراعات فراہم کی جائیں جن سے باقی ملک مستفید ہو رہا ہے۔ جو لوگ فاٹا کے ادغام (Merger)کی مخالفت کررہے ہیں وہ وہی لوگ ہیں جو پختونوں کی نام نہاد ’’آزادی‘‘ کے علمبردار بن رہے ہیں۔

مقامِ اطمینان ہے کہ آرمی چیف نے جس ہائی برڈ (Hybrid) وار کا ذکر پی ایم اے کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں برملا کیا تھا اس کے مقابلے اور خاتمے پر عمل کیا جا رہا ہے۔۔۔تاہم وزیراعظم کو بھی خود اس کارِ خیر میں دامے، درمے اور سخنے شامل ہو کر ’’ثواب دارین‘‘ حاصل کرنا چاہیے۔

مزید :

رائے -کالم -