محکمہ آثار قدیمہ کی ناقص کارکردگی ‘جنوبی پنجاب میں تاریخی مقامات معدوم ہونے لگے

محکمہ آثار قدیمہ کی ناقص کارکردگی ‘جنوبی پنجاب میں تاریخی مقامات معدوم ہونے ...

  

ملتان (رانا عرفان الاسلام سے )محکمہ آثار قدیمہ پنجاب کی ناقص کارکردگی جنوبی پنجاب میں موجود کئی تاریخی مقامات کی کھدائی نہ ہو سکی ہے جس کی وجہ سے تاریخی ورثہ کے آثار ختم ہوکے رہ گئے ہیں محکمہ آثار قدیمہ کی اپنی ریسرچ کے مطابق پنجاب میں 1183 تاریخی سائٹس موجود ہیں جن میں (بقیہ نمبر13صفحہ12پر )

سے کسی ایک پر بھی کام نہیں ہو رہا کھدائی نہ ہونے کے باعث پنجاب میں 7ہزار قبل مسیح کے تاریخی مقامات معدوم ہونے لگے۔ 27 سال قبل ہونے والی محکمہ آثار قدیمہ کی ریسرچ کے مطابق بہاولپور، چولستان کی 454 سائٹس بھی شامل ہیں۔ فنڈز مختص نہ ہونے کی وجہ سے صوبہ بھر میں 7 ہزار قبل مسیح کی 19، 3300 قبل مسیح کی ہاکڑہ سائٹس 1، 2500 قبل مسیح ابتدائی ہڑپہ پیریڈ کی 56، ہڑپہ پیریڈ کی 31، آخری ہڑپہ پیریڈ 1400 قبل مسیح کی 5، 700 قبل مسیح کی 256، ابتدائی مسلم پیریڈ آٹھویں صدی عیسوی سے 11 ویں صدی عیسوی کی 145، سلاطین پیریڈ 12 ویں صدی عیسوی سے 15 ویں صدی عیسوی کی 195، مغل پیریڈ 15 صدی عیسوی سے 18 ویں صدی عیسوی کی 324 جبکہ 18 ویں صدی عیسوی سے 1947ء تک سکھ برٹش پیریڈ کی 176 سائٹس شامل ہیں۔ 1992ء میں محکمہ کی جانب سے سرکاری سطح پر تاریخی سائٹس پر مشتمل ایک کتاب بھی مرتب کی گئی مگر عملی کام نہ شروع کیا جا سکا۔ قبل مسیح، ہندو پیریڈ، مغل اور برٹش پیریڈ کی جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان میں 50، ضلع خانیوال میں 51، ضلع وہاڑی میں 39 اور ضلع لودھراں میں 36 سائٹس موجود ہیں۔ ضلع بہاولپور میں زمانہ قدیم کی 60، ضلع راجن پور میں 11، ضلع ڈیرہ غازیخان میں 14، ضلع مظفر گڑھ میں 20، ضلع لیہ میں 11 اور ضلع جھنگ میں 55 سائٹس موجود ہیں۔ چولستان میں قلعہ ڈیراوڑ سے 40 کلومیٹر دور ’’گویری والا سائٹ‘‘ اور ’’کڈھ والا سائٹ‘‘ یزمان کی تاریخ ہڑپہ دور کی ہے جہاں کھدائی کی جائے تو قدیم شہر کی باقیات برآمد ہو سکتی ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق یہ مقامات پنجاب میں ہڑپہ اور سندھ میں موہن جو داڑو کے درمیانی قدیمی شہر کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں مگر سرکاری طور پر ان مقامات کی کھدائی کے لئے آج تک کوئی اقدامات ہی نہیں کئے گئے دنیا پور میں ماموں کا بھڑ، ٹبہ چک 27(ہڑپہ پیریڈ)، چک 140 (ہڑپہ)، میلسی میں اعوان والا کھوہ، بستی میاں ماؤنڈ، چک نمبر 184، چک نمبر 160، چک نمبر 168، حاجی فتح ماؤنڈ، حسن شاہ ماؤنڈ، جلہ جیم بھڑ، کھائی پیر ماؤنڈ، کوٹ بلوچ ٹبہ، نور شاہ بھڑ، رام پورہ ماؤنڈ اور سلطان پور، خانیوال میں مامورہ بھڑ (قبل مسیح)، چک 123 (ہڑپہ) اور چک 133 (ہڑپہ)، میاں چنوں میں بھرکی (ہڑپہ پیریڈ)، جہانیاں میں چک 56 (ہڑپہ پیریڈ)، چک 113 (ہڑپہ)، بورے والا چک 511، وہاڑی میں ٹبہ بھاگ تھلی (ہڑپہ پیریڈ)، ضلع بہاولپور میں اعظم والا، بلوچاں والی ٹھیری، جام والی ٹھیری، دلاں والا ٹھیرم چک نمبر 302، چک نمبر 296، ٹبہ کوٹلہ موسیٰ خان سمیت کئی دیگر، ڈیرہ غازیخان اور راجن پور میں لال گوشی تھل، ٹبہ سینی، عمر کوٹ، ماؤنڈ دلو ائے سمیت کئی دیگر، مظفر گڑھ اور لیہ میں احمد والا کھوہ، لاشاری والا ٹبہ، مولے والا ٹبہ، نین کھوہ ٹبہ سمیت کئی دیگر مقامات تاریخی حیثیت کے حامل ہیں اور ان کا تعلق زمانہ قبل مسیح سے ہے ضلع خانیوال میں زیادہ تر سائٹس تحصیل کبیر والا میں موجود ہیں۔ کبیر والا میں آدم بھڑ، امیر گڑھ بھڑ، اجلا بھڑ، بارہ قلعہ، داد سیال بھڑ، ڈنڈی سرگانہ بھڑ، دین پناہ بھڑ، فقیر والا بھڑ، گل دریا بھڑ، حاجی پور بھڑ، حشمت مرالی بھڑ (قبل مسیح)، حسن پور بھرکی، عنائت پور بھڑ، جلیل پور ماؤنڈ (ہڑپہ پیریڈ)، کالکاں والا بھڑ، ماہنی سیال بھڑ، مائی مٹھو بھڑ، مبارک پور بھڑ، نواں شہر بھڑ، رام والا بھڑ، رتہ بھڑ، سمندری والا بھڑ، تحصیلدار والا ماؤنڈ (قبل مسیح) سمیت کئی مقامات ہیں جہاں سے دیوتاؤں کے تصاویر پر مشتمل ہندو بادشاہ ’’اشوکا‘‘ کے دور کے سکے، زیور اور دیگر قیمتی اشیاء آج بھی نکل رہی ہیں جبکہ ضلع جھنگ میں اللہ یار ماؤنڈ، بورالا بھڑ، کوٹ ہمایوں، چک 259 سمیت کئی مقامات قبل مسیح سے تعلق رکھتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع سمیت صوبہ بھر کے سینکڑوں مقامات تاریخی ہونے کے باوجود محکمہ آثار قدیمہ نے برسوں سے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق اگر محکمہ کی جانب سے ان مقامات کی کھدائی شروع کرائی جائے تو قبل مسیح میں بعض وجوہات کی بنا پر دفن ہو جانے والے شہر منظر عام پر آسکتے ہیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -