نصف ارب سے زائد لاگت سے تعمیر ہونیوالا کڈنی سنٹر نت نئے تجربات کی نذر

نصف ارب سے زائد لاگت سے تعمیر ہونیوالا کڈنی سنٹر نت نئے تجربات کی نذر

  

ملتان (وقائع نگار) 51کروڑ روپے کی رقم سے تعمیر ہونیوالا جنوبی پنجاب کا اکلوتا کڈنی سنٹر نت نئے تجربات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ حکومت پنجاب کی جانب سے کڈنی سنٹر کی نجکاری اور(بقیہ نمبر27صفحہ12پر )

انڈس گروپ کے حوالے سے ہونے کے باوجود مذکورہ ہسپتال میں تاحال لیپرو سکوپک سرجری اور بلیڈر رائپر سرجری کے ڈاکٹروں کے بغیر چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ بیشتر مریض پیچیدگی بڑھنے سے نشتر ہسپتال منتقل کرائے جارہے ہیں یا پھر پیسوں کی ہوس میں ڈاکٹرز نجی سنٹروں پر مریض کو بلانے میں لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے گردے کے مریضوں پر موت کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔اس بارے میں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت پنجاب نے جنوبی پنجاب کے گردوں کے مرض میں مبتلا مریضوں کو علاج معالجہ کی بروقت سہولت و دیگر مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ملتان میں 51 کروڑ روپ کی رقم سے کڈنی سنٹر کو تعمیر کیا گیا۔ کچھ عرصہ چلانے کے بعد اس کو انڈس گروپ کے حوالے کردیا گیا ہے۔ تقریباً ایک سال ہونے کے قریب ہے اب تک بھی حکومت کے بعد انڈس گروپ کڈنی سنٹر کے اندر روز نئے سے نئے تجربے میں لگا ہوا ہے۔ یہاں ذرائع سے مزید معلوم ہوا ہے کہ انڈس گروپ نے کروڑوں فنڈز کی فراہمی کے باوجود کڈنی سنٹر میں مثانے کو چوٹ لگنے یا دیگر نقصان میں مبتلا ہونے کے باعث آپریشن کیلئے یعنی لیپرو سکوپک سرجری اور بلیڈر را ئپر سرجری کا ماہر تجربہ کار ڈاکٹر نہیں رکھا جس کی وجہ سے بیشتر مریضوں کے آپریشن کے کیسز کو جان بوجھ کر لٹکا دیا جاتا ہے یا پھر بدقسمتی سے کئی دنوں کے بعد ایک مریض جس کا آپریشن آسان ہو اس کا آپریشن کردیتے ہیں مگر آپریشن ہونے کے باوجود مختلف نوعیت کی پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ انڈس گروپ کی نااہلی کی وجہ سے سینئر و جونیئر ڈاکٹروں کا اس پیچیدہ نوعیت کے آپریشن سے ناواقف ہیں۔ مذکورہ صورتحال پر عوام نے فوری طورپر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -