قومی اسمبلی ، خواتین سے متعلق غیر مناسب الفاظ کیخلاف مذمتی قرار متفقہ منظور ، وفاقی بجٹ غیر آئینی مسترد کرتے ہیں : خورشید شاہ

قومی اسمبلی ، خواتین سے متعلق غیر مناسب الفاظ کیخلاف مذمتی قرار متفقہ منظور ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)قومی اسمبلی میں خواتین کے بارے میں غیر مناسب الفاظ استعمال کرنے کیخلا ف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ قراردادتحریک انصاف کی رہنما شیر یں مزاری نے پیش کی،جس میں وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ اور عابد شیر علی کے نام شامل کیے گئے تھے تاہم سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے اعتراض پر ن لیگ کے دونوں رہنماؤں کے نام قر ا ر د ا د سے نکال دیئے گئے۔شیریں مزاری نے خواتین کے حوالے سے غیر مناسب الفاظ استعمال کرنے پر فلور آف دی ہاؤس معافی ما نگنے کا مطا لبہ بھی کیا۔قرارداد کے متن میں تبدیلی کے بعد قومی اسمبلی میں خواتین کے حوالے سے متعلق غیر مناسب الفاظ استعمال کرنے کیخلاف قر ا ر د ا د متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔بعد ازاں قومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے تمام پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت اور انہیں اعتماد میں لے کر فاٹا کو اسی ماہ قومی دھارے میں شامل کرنے کا عمل مکمل کرلیں گے، فاٹا میں امن کیلئے مسلح افواج اور مقامی لوگوں نے بڑی قربانیاں دیں، فاٹا میں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے نظام کو بڑھادیا گیا ہے۔ فاٹا اصلا حا ت کے حوالے سے آج کچھ فیصلے کیے گئے ہیں اور ان فیصلوں پر عملدرآمد کے ٹائم فریم کا تعین قومی رہنماؤں سے مشاورت سے طے کر یں گے،امید ہے فیصلوں پر عملدرآمد اسی دور حکومت میں ہو گا۔ فاٹا اصلاحات مقامی عوام کی ضرورت ہے اور فاٹا اصلاحات کا نفاذ سب کی خواہش ہے اسلئے چاہتے ہیں تمام جماعتیں متحد ہوکر فاٹا اصلاحات کو مکمل کریں، اکتوبر 2018 سے پہلے فاٹا میں بلدیاتی الیکشن کرائے جا ئیں گے جبکہ فاٹا کیلئے ایجنسی ڈویلپمنٹ فنڈ ختم کر دیا ہے تاہم فاٹا کی ترقی ملک کے دیگر حصوں کی طرح کرنے کیلئے فنڈز دستیاب کئے جا ئینگے اور 10 سالوں میں ایک ہزار ارب روپے فاٹا کی ترقی پر خرچ ہوں گے۔ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کیلئے تمام ادارے پرعزم ہیں، فاٹا میں امن و امان کی صو ر تحال تسلی بخش ہے۔ دریں اثناء قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہناتھاوفاقی بجٹ غیر آئینی اور اسے مسترد کرتے ہیں۔ بجٹ ملک کی بہتری اور عوام کیلئے بنتا ہے، یہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ یہاں وہاں سے قرض لیں گے اور کام چلا لیں گے۔ بجٹ میں صرف ایک صوبے کو اہمیت دینے سے معاملات خرابی کی طر ف جائیں گے۔ موجودہ حکومت نے ایک سال کا بجٹ پیش کیا ہے جو اس کا مینڈیٹ نہیں ، اگر دوسروں کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کریں گے تو ایسے حالات میں چلے جائیں گے جہاں سے واپس آنا مشکل ہو گا۔بجٹ میں ایسا کوئی پلان نہیں کہ آبادی کے سپر ایٹم بم سے ملک کو کیسے بچایا جائے، خدا کے واسطے ان چیزوں کو سوچیں، غیر سیاسی سوچ نہ رکھیں۔اپوزیشن لیڈر نے سوال پوچھا کیا ہم نے پلان کیا ہے کہ جب 2030 میں آبادی مزید بڑھ جائے گی تو خوراک کا کیا انتظام ہو گا، کیا ہم نے آبادی کیلئے تعلیم اور صحت کا منصوبہ بنایا ہے؟ پیپلزپارٹی وفاق کو مضبوط بنانا چاہتی ہے لیکن اگر فیڈرل یونٹ کا احترام نہیں کریں گے تو حالات تباہی کی طرف جائیں گے۔ میں شروع سے کہہ رہا ہو ں پارلیمنٹ کو مقدس سمجھیں اور تنقید کو سنجیدگی سے لیں لیکن مسلم لیگ ن نے ہمیشہ ووٹ کی عزت توہین کی ہے۔خورشید شاہ کا کہنا تھا 31 مئی کو اسمبلیاں تحلیل ہوں گی اور 90 روز کے بعد الیکشن نہیں ہو سکتے۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -