پنجاب اسمبلی، رانا ثناء اللہ کے خواتین سے متعلق ریمارکس پر اپوزیشن کا احتجاج

پنجاب اسمبلی، رانا ثناء اللہ کے خواتین سے متعلق ریمارکس پر اپوزیشن کا احتجاج

  

لاہور(نمائندہ خصوصی ) پنجا ب اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے خواتین کے بارے میں ریمارکس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا رانا ثناء اللہ سے اپنے بیان پر معافی مانگنے اور بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن نے کہاا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو احتجاج جاری رکھیں گے، وقفہ سوالات کے دوران حکومتی رکن وحید گل نے کورم کی نشاندہی کردی جس سے اجلاس کی کارروائی آگے نہ چل سکی سپیکر نے اجلاس آج صبح 10بجے تک کے لئے ملتوی کردیا ، پی ٹی آئی کے رکن خرم شیخ وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری فقیر حسین ڈوگر کو طنز کرتے رہے رانا لیاقت کے جواب دینے پر مشتعل ہو کر غیر پارلیمانی زبان کا استعمال شروع کردیا سپیکر نے الفاظ حذف کرادیئے۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ40منٹ کی تاخیر سے سپیکر رانامحمد اقبال خان کی صدار ت میں شروع ہوا اجلاس میں دو محکموں خوراک اور جیل خانہ جات کے بارے میں سوالوں کے جوابات دئے گئے۔ اجلاس کے آغازپر میاں محمود الرشید نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے دو روز قبل میڈیا سے گفتگو کے دوران ہماری پارٹی کی خواتین پر غلط قسم کے ریمارکس دئے جس سے پوری دنیا میں پاکستان کا امیج خراب ہوا ،ہم سب ماؤں بہنوں اور بیٹیوں والے ہیں، آئے روز اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کرتے رہتے ہیں ختم بنوت کا مسئلہ ہو یا سانحہ ماڈل ٹاؤن ہو وہ اس قسم کی بے ہودہ گفتگو کرتے رہتے ہیں ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ وہ ایوان میں آکر اپنے الفاظ واپس لیں اور معذرت کریں اور ہمیں ان کے بیان پر جمع کراائی گئی مذمتی قرارداد آؤٹ آف ٹرن پیش کرنے کی اجازت دی جائے، وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف یا ترجمان حکومت کی معذرت ہمیں قابل قبول نہیں۔صوبائی وزیر خلیل طاہر سندھو نے کہا کہ ہم اپوزیشن لیڈر کی تائید کرتے ہیں کہ خواتین ہم سب کے لئے محترم ہیں اور ہونی بھی چاہیے لیکن جس واقعہ کی بات اپوزیشن لیڈر کررہے ہیں وہ اسمبلی کے ایوان میں نہیں ہوا باہر ہوا ہے یہ ان سے باہر ہی ایسا مطالبہ کریں اور اس مسئلہ پر سیاست نہ کریں، رانا ارشد نے کہا کہ خواتین کا احترام ہم سب کے لئے بہت ضروری ہے لیکن مینار پاکستان میں پی ٹی آئی کے جلسے کے دوران حوا کی بیٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا س کی مذمت کی جائے ،جس پر سپیکر رانا محمد اقبال خان نے کہا کہ ابھی وزیر قانون ایوان میں نہیں آئے جب آتے ہیں تو ان سے بات کرتے ہیں ، جس کے بعد ایوان کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہو ئے وقفہ سوالات کاآغاز کیا۔ڈاکٹر وسیم اختر کے سوال پر پارلیمانی سیکرٹری اسداللہ آرائیں نے کہا کہ اس سال گندم کی خریداری کی پالیسی یہ ہے جو بھی زمیندار گندم کے لئے پاردانے کی درخواست دے گا اسے باردانہ ضرور دیا جائے گا اور حکومت اس کی گندم خریدنے کی پابند ہوگی، کسی کاشتکار کو شکایت کا موقع نہیں دیا جائے گا، گوداموں سٹاک میں گندم بالکل خراب نہیں ہوتی نہ ہی ضائع ہوتی ہے ایسا کبھی نہیں ہوا ۔رکن اسمبلی طارق باجوہ کے سوال کے جواب میں محکمہ نے بتایا کہ سانگلہ ہل 14500میٹرک ٹن گندم خریدنے کا ٹارگٹ مقرر کیا گیا ہے،اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی سوالات کے جوابات دینے کے وران پارلیمانی سیکرٹری چو دھری فقیر حسین ڈوگر کو بار بار طنز کرتے رہے روکنے کے باوجود نہ رکے جس کے جواب میں رکن اسمبلی رانا لیاقت نے بھی انہیں بیٹھے بیٹھے تنقید کا نشانہ بنایا ، جس پر خرم شیخ آگ بگولہ ہوگئے ، رانا ارشد نے کہا کہ جب آپ طنز کررہے تھے وہ ٹھیک تھا اگر جواب آیا ہے تو جذباتی کیوں ہو گئے ہو برداشت کرو ،جو بات کرنی ہے سپیکرسے کرو جس پر خرم شیخ نے بار بار ’’شٹ اپ شٹ اپ ‘‘ کے الفاظ استعمال کئے ، سپیکر نے یہ الفاظ کارروائی سے حذف کرا دئے ، اور وقفہ سوالات کے دوران حکومتی رکن اسمبلی وحید گل نے کورم کی نشاندہی کردی ، جس پر اپوزیشن سمیت تمام حکومتی ارکان بڑے حیران ہوئے، رکن اسمبلی ڈاکٹر وسیم اختر کا کہنا تھا کہ آج قرآن کی تعلیمات کے حوالے سے بل ایوان میں پیش کیا جانا تھا ۔کورم کی نشاندہی پر سپیکر نے پہلے پانچ منٹ گھنٹیا ں بجائیں پھر20منٹ کے لئے ملتوی کردیا ۔دوبارہ سپیکر5بجے ایوان میں آئے اور ایوان میں موجود ممبران کی گنتی کی لیکن کورم پورا نہ تھا جس پر سپیکر نے اجلاس آج صبح 10بجے تک کے لئے ملتوی کردیا ۔

مزید :

صفحہ آخر -