راؤ انوار پر خصوصی نوازشیں جاری، ملیر کینٹ ہی سب جیل قرار

راؤ انوار پر خصوصی نوازشیں جاری، ملیر کینٹ ہی سب جیل قرار

  

کراچی(این این آئی ،مانیٹرنگ ڈیسک)نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم راؤ انوار پر خصوصی نوازشوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب ملیر کینٹ کے مخصوص حصے کو ہی سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ملزم راؤ انوار کو کراچی منتقلی کے بعد ملیر کینٹ میں سخت سیکیورٹی میں رکھا گیا تھا، انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گزشتہ سماعت میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا تاہم انکشاف ہوا ہے کہ انہیں جیل بھیجنے کے بجائے ملیر کینٹ منتقل کیا گیا تھا۔ عدالتی احکامات کے فوری بعد محکمہ داخلہ سندھ نے فون کے ذریعے آئی جی جیل خانہ جات کو احکامات جاری کیے کہ راؤ انوار کو سیکیورٹی خدشات ہیں اس لیے ملیر کینٹ کو سب جیل قرار دیاجائے۔ بدھ کے روز انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی تاہم پولیس نے راؤ انوار کو پیش کرنے کے بجائے ان کا میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کردیا ۔ جس میں کہا گیا کہ وہ بیمار ہیں جس کی وجہ سے عدالت پیش نہیں ہوسکتے۔دریں اثناانسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں پولیس کا ضمنی چالان منظور کرلیا جس میں بتایا گیا ہے بادی النظر میں پولیس مقابلہ منصوبے کے تحت کیا گیا۔پولیس نے 21 اپریل کو راؤ انوار کا 30 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر انہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تھا جہاں عدالت نے انہیں 2 مئی تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ نجی چینل کے مطابق جیل حکام کی جانب سے راؤ انوار کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ راؤ انوار کو کئی بیماریاں لاحق ہیں، ان کا شوگر لیول اور بلڈ پریشر بڑھا ہوا ہے جس کے باعث ان کی طبعیت ناساز ہے۔مدعی مقدمہ کے وکیل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پر راؤ انوار کو بغیر ہتھکڑی کے پروٹوکول کے ساتھ پیش کیا گیا اور وہ ہشاش بشاش تھے۔عدالت نے جیل حکام کو حکم دیاکہ راؤ انوار کو آئندہ سماعت پر پیش کیا جائے، اگر وہ پیش نہ ہوئے تو جس ڈاکٹر نے ان کا میڈیکل سرٹیفکیٹ بنایا اسے بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔پولیس کی جانب سے کیس کا ضمنی چالان عدالت میں پیش کیا گیا جسے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے منظور کرلیا۔ تاہم راؤ انوار اپنے ملوث نہ ہونے سے متعلق ثبوت پیش نہیں کرسکا۔ملزم دوران تفتیش ٹال مٹول سے کام لیتا رہا، ملزم مسلسل حقائق بتانے سے بھی گریز کرتا رہا۔دوسری جانب مقتول نقیب اللہ کے اہل خانہ بھی آج انسداد دہشت گردی کی عدالت پہنچے جہاں انہوں نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ راؤ انوار بیمار نہیں مکار ہے، اگر اب انہیں ہتھکڑی لگاکر نہیں لایا گیا تو احتجاج کرکے پورا ملک بند کردیں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -