بُرائی کہاں ہے؟

بُرائی کہاں ہے؟
بُرائی کہاں ہے؟

  

کیا معاملہ صرف پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان کے بیان کا ہے جس میں ان کے الفاظ کا چناو نامناسب ہے اور اس بیان پر جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کے ترجمان معافیاں مانگ رہے ہیں وہاں مسلم لیگ ن کے بعض پیراشوٹرز کی بھی بن آئی ہے۔ وہ رانا ثناء اللہ خان کے خلاف بیان دے کر حاجی نمازی ہی نہیں بننا چاہتے بلکہ پارٹی میں موجود پرانے لوگوں کو دھوبی پٹخا بھی مارنا چاہتے ہیں۔ رانا ثناء اللہ خان نے تحریک انصاف کے جلسے میں مردوں کے سامنے عورتوں کے ناچنے پر جو تنقید کی ہے اس پر سیاست کے کھلاڑی چھکا مارنا چاہ رہے ہیں۔میرے لئے وہ خواتین اسی طرح قابل احترام ہیں جو پاکستا ن تحریک انصاف کوملکی مسائل کے حل کی کنجی سمجھتی ہیں جس طرح وہ مسلم لیگ نون، پیپلزپارٹی یا جماعت اسلامی سمیت کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کی خواتین ہوسکتی ہیں یا وہ خواتین ہو سکتی ہیں جو سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتیں، جو سیاسی جلسوں میں جانے کو بعض واقعات اور روایات کی بنیاد پر مناسب نہیں سمجھتیں مگر بات ان خواتین کے بارے نہیں ہے۔

مجھے واضح کرنے دیجئے کہ بُرائی صرف رانا ثناء اللہ خان کے بیان میں نہیں ہے کہ اس میں الفاظ کا چناو غیر معیاری ہے بلکہ بُرائی اس سے کہیں زیادہ آگے اور کہیں زیادہ بڑی ہے۔ بُرائی ان معاشرتی روایات کو تباہ کرنے میں ہے جس میں آج بھی مسلمان گھرانوں کی بیٹیاں غیر مردوں کے سامنے اپنے جسم کی نمائش اور ناچ گانے سے اجتناب کرتی ہے ۔میں نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ٹوئیٹس کے بعد سوشل ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بننے والی صورتحال کو دیکھا اورجانا ہے کہ ایک کمزور بیان کی آڑ میں بے حیائی اور بے شرمی کی ثقافت کو تحفظ دینے کی شعوری اور طاقتور کوشش کی جا رہی ہے۔اگر صرف رانا ثنا اللہ خان کے بیان اور الفاظ کی مذمت مقصود ہوتی تو کرنے والوں کا میڈیا سیل محترمہ مریم نوا ز ہی نہیں بلکہ خود ان کی اپنی پارٹی چھوڑ کے جانے والی خواتین کے بارے میں گندگی اور غلاظت کے انبار نہ لگا رہا ہوتا، افسوس، اس معاملے میں انگلی وہ اٹھا رہے ہیں جن کی اپنے ہاتھ کی باقی چاروں انگلیاں ان کی طرف اشارے کر رہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ یقین دہانی کرواتے کہ ان کے جلسوں میں جہاں خواتین کے احترام کا خیال رکھا جائے گا وہاں خواتین کو بھی اسلامی اورمشرقی روایات کے مطابق مناسب روئیے اختیار کرنے کی پابندی لگائی جائے گی، مگر ایسا کہاں ہونا ہے۔

معاملہ اسی وقت خراب ہوتا ہے جب ہم فکری مغالطے پیدا کرتے ہیں اور اس معاملے میں فکری مغالطہ یہ ہے کہ ہم نے جلسے کی قابل اعتراض ثقافت کوایک قابل اعتراض بیان میں چھپانے بلکہ فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جعلی دانش کے مظاہرے کرنے والے یہ تمام لوگ اپنی بہووں، بیٹیوں کو کسی طور بھی کسی جلسے میں اس طرح ڈانس کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جس کے ڈانسز کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر باآسانی دیکھی جا سکتی ہیں۔ مجھے آپ سے پوچھنے میں کوئی عار نہیں کہ اگر ایک مرد کی عزت شرم،حیا، کردار اوراخلاقیات کے ساتھ جڑ ی ہے تو عورت کی عزت اور احترام کے لئے بھی حیا او رکردار کی شرطیں کم از کم اتنی ہی کڑی ہیں ۔انسان کتنی جلد بدلتا ہے،ایک خاتون اینکر بہت برہم ہیں اور رانا ثناء اللہ خان کے بائیکاٹ کا اعلان کر رہی ہیں مگر کیا وہ اس بائیکاٹ میں فوادچودھری اور عامر لیاقت کے نام بھی شامل کریں گی؟

میں ذاتی طور پر منٹو کے افسانوں کے خلاف ہوں اور انہیں ادب سے کہیں زیادہ بے ادبی سمجھتا ہوں مگر دوسری طرف ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ان کے افسانوں کو شاہکار قرار دیتے ہیں مگر ان سے ہی پوچھ لیا جائے کہ کیا تم ان افسانوں کو ادب کے نمونے سمجھتے ہوئے اپنے بچوں کو پڑھنے کے لئے دے سکتے ہو۔ایسی ہی کچھ صورتحال کا سامنا اس سیاسی منظرنامے میں ہے۔ منٹو نے طوائف کو معاشرے کے ظلم اور جبر کی علامت بنا کے پیش کیا ہے اور یہ عین ممکن ہے کہ دس یابیس میں سے ایک دو طوائفیں اپنے کلچر اور کاروبار سے نالاں بھی ہوں مگر اس طرح کے نالاں تو آپ کو ڈھیروں کاروباری بھی مل جائیں گے۔ جب ہم برائی کو ظلم یاآزادی کے پردوں میں چھپاتے ہیں تو گویا اسے تحفظ دیتے ہیں۔میں ڈنکے کی چوٹ پرکہتا ہوں کہ جو منٹو کے نظرئیے سے متاثر ہو کے طوائفوں کو محبت اور توجہ کے لائق مظلوم سمجھتے ہیں وہ حقیقت میں ان لاکھوں کروڑوں عورتوں کی توہین کرتے ہیں جو اپنا گھر چلانے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے کھیتوں ، کھلیانوں سے شہروں کے دفتروں تک میں نوکریاں کرتی ہیں، وہ بڑے بڑے گھروں میں بیگمات کی جھڑکیاں سنتے ہوئے ان کے فرش اور برتن تو صاف کرتی ہیں مگر اپنے جسم اور عزت کا سودانہیں کرتیں۔ مجھے حمایت کرنی ہو گی، مظلومیت اجاگر کرنا ہو گی اور مدد کرنا ہو گی تو ان بے چاری خواتین کی کروں گا جو معاشرے میں بگاڑ کا سبب نہیں بن رہیں۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کے پیش نظر ’میرا جسم میری مرضی ‘کا اصول ہو جس پر میں پہلے بھی ایک مفصل کالم لکھ چکا ۔ اس کا جوا ب یہ ہے کہ اس روشن خیالی کے بعد آپ کو کوئی شکوہ شکایت ہونی نہیں چاہئے کہ جب آپ کی مرضی آپ کے پورے جسم پر چل رہی ہے تو دوسروں کو یہی آزادی ان کی آنکھوں ، زبانوں اور ہاتھوں تک دے دیجئے۔ اپنی شاندار اور قابل فخر روایات کا جنازہ نکالتے ہوئے جلسوں میں نامناسب رقص اگر آپ کا حق ہے تو پھر اس پر کمنٹس کرنا کسی دوسرے کاکیوں نہیں۔ آپ چاہے جس طرح کا دل چاہے رقص کریں اور اجازت دیں کہ دوسرے بھی اس پرمن چاہے کمنٹس کرتے رہیں۔

حاصل کلام تو یہی ہے کہ خواتین قابل احترام ہیں، اپنی شرم، حیا اور اخلاق کی بنیاد پر ،اور بدزبانی قابل مذمت ہے چاہے وہ کوئی بھی کرے اور کسی کے بھی بارے ہو، بدزبانی کرنے والے کو ایک شٹ اپ کال ضرور دینی چاہے مگر کیا یہ شٹ اپ کال وہ دیں گے جن کے اپنے دامن بدفعلیوں کے الزامات اور بدکاریوں کے فیصلوں سے آلودہ ہوں۔ آپ کیوں نہیں مانتے کہ خواتین قابل احترام ہیں، بیانات میں بھی اور پیغامات بھی، مجالس میں بھی اور تنہائی میں بھی۔

مزید :

رائے -کالم -