’’سابق صدر پرویز مشرف نے صدارت کیوں چھوڑی ‘‘اس کی وجہ مسلم لیگ (ن) کا دباؤ تھا

’’سابق صدر پرویز مشرف نے صدارت کیوں چھوڑی ‘‘اس کی وجہ مسلم لیگ (ن) کا دباؤ ...
’’سابق صدر پرویز مشرف نے صدارت کیوں چھوڑی ‘‘اس کی وجہ مسلم لیگ (ن) کا دباؤ تھا

  

تجزیہ :قدرت اللہ چودھری

سیاست میں دوستیاں اور دشمنیاں مستقل نہیں ہوتیں، اقتدار کا سورج ڈھلنا شروع ہو جائے تو بہت کچھ بدل جاتا ہے جو لوگ آج آصف علی زرداری اور نوازشریف کے درمیان لفظی جنگ کا نظارہ کر رہے ہیں، اگر وہ بھولے نہیں ہیں تو اُنہیں یاد ہوگا آصف علی زرداری نے نوازشریف کے ساتھ حب محبت کی پینگیں بڑھانا شروع کی تھیں تو فرمایا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اُن کے یہ تعلقات اگلی نسلوں تک چلیں، لیکن اس نسل میں لفظوں کی جو چاند ماری ہو رہی ہے، اس کے بعد آپ یہ تصور نہیں کر سکتے کہ یہ مستقل طرزِعمل یا کسی وقت ٹرننگ پوائنٹ بھی آ سکتا ہے، لیکن فی الحال سامنے کا منظر وہی ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے ایک بار پھر کہا ہے کہ آصف علی زرداری جرائم پیشہ ہیں، انہوں نے میر مرتضیٰ بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو مروایا، اوّل الذکر تو اس وقت اپنے گھر سے باہر قتل ہوئے تھے جب بے نظیر بھٹو خود وزیراعظم تھیں، بہن کی حکومت میں بھائی کا قتل بہت ہی ہولناک تھا، پھر اس پر مستزاد یہ کہ تھوڑے ہی عرصے بعد صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت ہی ختم کر دی، مرحومہ نے ایک صدمہ تو بھائی کی موت کی شکل میں برداشت کیا اور دوسرا سیاسی صدمہ اس صدر کے اقدام کی بدولت پہنچا جسے محترمہ، فاروق بھائی کہہ کر بلایا کرتی تھیں اور دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد جب اُنہوں نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا تو جن دو وزیروں نے پہلے دن ان کے ساتھ ہی حلف اٹھایا، ان میں سے ایک فاروق لغاری تھے، پھر وہ صدر مملکت بنا دیئے گئے، محترمہ نے سوچا ہوگا کہ اب ایوانِِ صدر میں اُن کا جیالا بیٹھا ہے، اس لئے یہ محاذ محفوظ ہے لیکن اب کی بار ایوانِ صدر سے جو تیز کھینچ کر مارا گیا، اُس کی کمان اسی جیالے نے کھینچی تھی۔ مثالیں تو اور بھی بہت سی دی جا سکتی ہیں لیکن سیاست میں دوستیوں اور دشمنیوں کی بے ثباتی ثابت کرنے کے لئے اس سے بڑی مثال کیا ہوگی۔ جنرل پرویز مشرف نے 2008ء کے انتخاب سے پہلے محترمہ کے ساتھ جو این آر او کیا تھا، اس کی روح یہ تھی کہ انتخاب جیت کر بے نظیر وزیراعظم بنیں گی تو صدر پرویز مشرف ہی رہیں گی، الیکشن مہم کے دوران بے نظیر بھٹو لیاقت باغ (راولپنڈی) کے باہر دہشت گردی کا نشانہ بنیں تو الیکشن جیت کر پیپلزپارٹی برسراقتدار آ گئی، آصف علی زرداری اس سے پہلے بے نظیر بھٹو کی ایک وصیت کے صدقے جو اب تک عام نہیں کی گئی، پارٹی کی چیئرمین شپ سنبھال چکے تھے، الیکشن میں پیپلزپارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری لیکن اسے اسمبلی میں اکثریت حاصل نہ تھی، دوسرے نمبر پر مسلم لیگ (ن) تھی، جسے شریک حکومت کیا گیا، لیکن آگ اور پانی کا یہ ملاپ کتنی دیر جاری رہ سکتا تھا؟ اس لئے یہ سیاسی بندھن بھی زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا، مسلم لیگ (ن) کے جو وزیر وفاقی کابینہ میں شامل ہوئے، انہوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر حلف لیا کیونکہ حلف صدر پرویز مشرف لے رہے تھے، این آر او کے تحت تو انہوں نے پانچ سال کے لئے صدر رہنا تھا کیونکہ انہیں جاتی ہوئی اسمبلیوں (قومی 228 چار صوبائی اسمبلیاں228 سینیٹ) نے صدر منتخب کیا تھا، حکومت میں شامل ہو کر بھی مسلم لیگ (ن) نے صدر کے خلاف بیان بازی جاری رکھی، بلکہ ایک وقت وہ بھی آیا جب مسلم لیگ (ن) نے یہ موقف اختیار کر لیا کہ صدر کے خلاف پارلیمینٹ میں مواخذے کی تحریک پیش کی جائے گی اگرچہ عملاً اس کی نوبت نہ آئی تاہم اس قسم کی بیان بازی نے صدر پرویز مشرف کی پوزیشن کافی خراب کر دی، اگر تو یہ بیان بازی صدر پر دباؤ ڈالنے کا حربہ تھی تو یہ حربہ کامیاب رہا اور 18 اگست 2008ء کو صدر پرویز مشرف نے استعفا دے دیا۔ صدر پرویز مشرف کو مستعفی ہونے کی کیا جلدی تھی اور اس میں کس کا کتنا کردار تھا، اس کی تفصیلات کبھی سامنے نہیں آئیں حالانکہ اس کہانی کے سارے کردار اس وقت ماشاء اللہ بقید حیات ہیں اور سیاست میں بھی متحرک ہیں، سب سے اہم تو خود جنرل پرویز مشرف ہیں جنہوں نے آج تک یہ وضاحت نہیں کی کہ جب وہ 2013ء تک صدر ’’منتخب‘‘ ہو چکے تھے اور این آر او کے تحت انہیں یہ گارنٹی حاصل تھی کہ وہ اپنی صدارتی مدت پوری کریں گے تو انہیں استعفا دینے کی کیا جلدی تھی، پیپلزپارٹی این آر او کا دوسرا اہم فریق تھی۔ اس نے اس معاہدے کا احترام بھی کیا، یاد نہیں پڑتا کہ حکومت سنبھالنے کے بعد پیپلزپارٹی کے صدر یا وزیراعظم گیلانی نے صدر کے خلاف کوئی بیان دیا ہو، مسلم لیگ (ن) البتہ ایسا کرتی رہتی تھی لیکن کیا محض مواخذے کی تحریک پیش کرنے کے ڈراوے سے مرعوب ہو کر انہوں نے استعفا دے دیا۔ یہ بات خود پرویز مشرف نے وضاحت کے ساتھ کبھی بیان نہیں کی، وہ مختلف چینلوں کو انٹرویو دیتے رہتے ہیں، اپنی پارٹی سے فاصلاتی خطاب بھی کرتے رہتے ہیں لیکن انہوں نے کبھی وہ تفصیلات بیان نہیں کیں جنہوں نے انہیں استعفے پر مجبور کیا۔ اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ پرویز مشرف وضاحت کے ساتھ بتائیں کہ انہوں نے صدارت کیوں چھوڑی؟ بہتر ہے کہ وہ اپنی کتاب ’’ان دی لائن آف فائر‘‘ کا دوسرا حصہ لکھ دیں جب ان کی کتاب منظرعام پر آئی تھی تو وہ ہمہ مقتدر صدر تھے، ملک کے سیاہ و سفید کے مالک تھے، کوئی ان کے فیصلوں کے سامنے دم نہیں مار سکتا تھا۔ انہوں نے ایمرجنسی لگا کر ملک کے چیف جسٹس سمیت بہت سے ججوں کو گھروں میں بند کر دیا تھا اور بہت سوں کو گھر بھیج دیا تھا پھر اپنی مرضی کی سپریم کورٹ بنا ڈالی تھی لیکن محروم اقتدار ہونے کے بعد جو واقعات پیش آئے اور جن کا وہ حصہ تھے، اس بارے میں ان کا نقطہ نظر سامنے نہیں آیا۔ ابھی چند روز پہلے چودھری شجاعت حسین کی کتاب میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ گوادر میں بھی جنرل پرویز مشرف کی جائیداد ہے جسے انہوں نے جھوٹ قرار دیا ہے لیکن چودھری شجاعت کی کتاب کا نام ہی سچ ہے، جنرل پرویز مشرف اگر اپنے حصے کا سچ لکھ دیں تو قوم پر بڑا احسان ہوگا۔ آصف علی زرداری نے ان کے بعد صدارتی منصب سنبھالا اور پانچ سال تک صدارت کی، اس عرصے میں بطور صدر ان کے ایک بیان کا بڑا چرچا ہے جس میں انہوں نے اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کی تھی۔ نوازشریف نے اس کا تذکرہ اپنے انداز میں کیا ہے لیکن اس میں تشنگی باقی ہے۔ بہتر ہے دونوں حضرات اس ضمن میں اپنا موقف کتابی شکل میں سامنے لائیں تاکہ مورخ کے لئے حقائق محفوظ رہیں اور بوقت ضروری حوالے کا کام دیں ۔

مزید :

تجزیہ -