صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں نا اہل افراد کو تعینات کیا گیا:جسٹس قیصر رشید

صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں نا اہل افراد کو تعینات کیا گیا:جسٹس قیصر رشید

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید نے کہاہے کہ اس و قت سرکاری ہسپتالوں میں نااہل افراد کوتعینات کیاگیاہے جو غریب عوام کی جانوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں غریب مریضوں کی مشکلات میں روزبروزاضافہ ہوتاجارہا ہے جس سے ہسپتال کی کارکردگی پرسوالات اٹھ رہے ہیں یہ لوگ مسیحا کی بجائے لوگوں کو تکالیف دینے پر تلے ہوئے ہیں فاضل جسٹس نے یہ ریمارکس حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں یاسمین اخترنامی خاتون کو غلط سی ٹی سکین رپورٹ دینے کے خلاف دائررٹ کی سماعت کے دوران دئیے دورکنی بنچ جسٹس قیصررشید اور جسٹس لعل جان خٹک پرمشتمل تھافاضل جج نے ڈاکٹرممتازعلی کی جانب سے دائررٹ کی سماعت کی تو اس موقع پر یاسمین اختر کی جانب سے عدالت کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی کہ انہوں نے بذریعہ آپریشن پتہ (گال بلیڈر) نکالا تاہم جب وہ معدے کے سی ٹی سکین کے لئے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس گئیں تو رپورٹ میں انکشاف ہواکہ اس کاپتہ پیٹ میں موجود ہے اوراسے نہیں نکالاگیا جس پرعدالت نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ڈائریکٹرکو طلب کرلیادوران سماعت قائمقام ڈائریکٹرنے عدالت کو بتایا کہ یہ رپورٹ ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے دی ہے اورہسپتال و میڈیکل ڈائریکٹراسلام آباد ایک میٹنگ کیلئے گئے ہیں جس پرجسٹس قیصررشید نے کہاکہ آپ لوگ ہسپتالوں میں بھی بھاری فیسیں لیتے ہیں اوررپورٹس کایہ حال ہے آپ لوگوں کاکیاعلاج کریں گے یہ آپ لوگوں کی بے حسی ہے کیوں نہ غلط رپورٹ دینے والے ڈاکٹروں کالائسنس منسوخ کرکے سی ٹی سکیشن مشین کافارنزک آڈٹ نیب کے ذریعے کرایاجائے عدالت نے اس موقع پر سیکرٹری ہیلتھ ٗ ہسپتال ڈائریکٹرٗمیڈیکل ڈائریکٹر اوررپورٹ جاری کرنے والے متعلق ڈاکٹرحیات آباد میڈیکل کمپلیکس کو 10مئی کو عدالت طلب کرلیا ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -