تین بجلی گھروں کی سرزمین تحصیل درگئی ملاکنڈ کے مکین بجلی کے لئے ترسنے لگیں

تین بجلی گھروں کی سرزمین تحصیل درگئی ملاکنڈ کے مکین بجلی کے لئے ترسنے لگیں

  

بٹ خیلہ (بیورورپورٹ )تین بجلی گھروں کی سرزمین تحصیل درگئی ملاکنڈ کے مکین بجلی کے لئے ترسنے لگیں ۔ گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھایا گیا۔ نجی کارخانوں کو بجلی فراہمی کے لئے پرمٹ کے نام پر دس دس گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے جبکہ باقی کسر غیر اعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ نے پوری کی ہے ۔ تحصیل درگئی کے عوام کے حصے کی بجلی نجی کارخانوں کو دیکر مکینوں کو بجلی کے لئے ترسانا ظلم و نا انصافی ہے ۔تفصیلات کے مطابق :۔انسانی حقوق کے علمبردار اور سینئر صحافی ولایت خان باچہ(باچہ جی) نے کہا ہے کہ تحصیل درگئی کے علاقوں سخاکوٹ ، درگئی ، خرکی ، میاں کلے ، گھڑی عثمانی خیل ، ہیروشاہ ، غنی ڈھیرئی ، بدرگہ اور کوٹ میں گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی بجلی لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں مذید اضافہ ہو گیا ہے جبکہ مہینے کے بیشتر دن نجی کارخانوں کو بجلی لائن دینے اور بجلی فراہمی کے لئے پرمٹ کے نام پر دس دس گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے جس سے ان علاقوں کے عوام میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے کیونکہ تحصیل درگئی میں ملاکنڈ تھری سمیت تین بجلی گھر موجود ہیں جس سے ملک کے دیگر حصوں کو بجلی دی جاتی ہے لیکن یہاں کے مکین بجلی کے حصول کے لئے ترس رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال ماہ رمضان میں علاقہ ورتیر اور ملحقہ علاقوں کے مشتعل عوام نے بجلی کے طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا جس کے دوران واپڈا درگئی کے دفاتر کو آگ لگائی گئی تھی جبکہ مشتعل مظاہرین پر فائرنگ سے انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے تحصیل صدر جاوید خان طوفان شہید اور متعدد آفراد زخمی ہوئے تھیں ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -