16 سال تک کے بچوں کو مفت تعلیم سے متعلق وفاق سے جواب طلب

16 سال تک کے بچوں کو مفت تعلیم سے متعلق وفاق سے جواب طلب

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ نے پانچ سے16سال تک کے بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی سے متعلق وفاق سے جواب مانگ لیاہے عدالت عالیہ کے چیف جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس ایوب خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے شیرزادہ کی رٹ پٹیشن کی سماعت کی تو اس دوران ان کے وکیل سلمان فیاض میر نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گذار سکیورٹی فورسزمیں بطورمالی تعینات ہے جس کے چاربچے کنٹونمنٹ بورڈ پشاورکے سکول میں زیرتعلیم ہیں 2017ء میں ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے کنٹونمنٹ بورڈ کے حکام نے سکولوں کی فیسوں میں300گنااضافہ کیاجس کی وجہ سے ان کے 4بچوں کی فیسیں 6ہزار روپے تک پہنچ گئی ہیں جو اس کے لئے ناقابل برداشت ہے اس حوالے سے پشاورہائی کورٹ نے بھی ایک فیصلے میں قرار دیاہے کہ سکول فیسوں میں تین فیصد سے زائد اضافہ نہیں کرسکتے علاوہ ازیں آئین کے آرٹیکل225اے کے تحت یہ سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی یقینی بنائیں تاہم کنٹونمنٹ بورڈ کے حکام کاموقف ہے کہ وہ ریاست کی تعریف کے زمرے میں نہیں آتے حالانکہ قانون کے تحت جو ادارہ ٹیکس عائد کرتاہے وہ بھی تعریف کے زمرے میں آتاہے اس موقع پر کنٹونمنٹ بورڈ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ سرکاری سکول نہیں ہیں اوروہ فیسوں میں اضافہ کرنے کے مجازہیں جبکہ کینٹ میں16دیگر فیڈرل گورنمنٹ کے سکول ہیں اوروہ بھی فیسیں وصول کررہے ہیں جس پرعدالت نے وہاں موجود ڈپٹی اٹارنی جنرل مسرت اللہ سے استفسار کیاکہ اس حوالے سے آپ کیاکریں گے انہوں نے عدالت کو جواب دیاکہ وہ وفاق سے رابطہ کرکے عدالت کو آگاہ کریں گے جس پرعدالت نے وفاق کو باقاعدہ فریق بناتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -