مانسہرہ ،عدم تحفظ کی وجہ سے ایکس چینج کمپنیاں بند کرنے کا اعلان

مانسہرہ ،عدم تحفظ کی وجہ سے ایکس چینج کمپنیاں بند کرنے کا اعلان

  

مانسہرہ(نمائندہ پاکستان)ہزارہ ڈویژن کی ایکس چینج کمپنیوں نے کے پی کے پولیس اورقانون نافز کرنے والے اداروں کی جانب سے فول پروف تحفظ نہ فراہم کی صورت میں تمام ایکس چینج کمپنیاں بند کرنے کااعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مرکزی صدر ملک محمد بوستان نے بدھ کومانسہرہ میں ہری پور حویلیاں ایبٹ آباد اور بٹگرام کی ایکس چینج کمپنیوں کے مالکان کے ہمراہ احتجاج کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہزارہ ڈویژن کی ایکس چینج کمپنیوں سے لوٹی گئی کروڑوں روپے مالیت کی غیرملکی کرنسی کی دھشت گردی میں استعمال ہونے کے خطرات پیدا ہوگئیہیں۔ گزشتہ ایک سال میں صرف ہزارہ ڈویژن میں ڈکیتیوں کی7 وارداتیں ہوئیں جن میں ایکس چینج کمپنیوں کی بکتربند گاڑیوں سے مجموعی طورپر11 کروڑ روپے مالیت کی غیرملکی کرنسی لوٹی گئی لیکن کے پی کے کی مثالی پولیس تاحال انکی ریکوری اور ڈاکوؤں کے منظم گروہوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ 2007 میں بھی منظم ڈکیتیوں کے بعد طالبان کو عروج ملا اس تناظرمیں اب حکومت اور متعلقہ ذمہ داراداروں کو جاگنا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ پہلے سول اب سرکاری اداروں کی وردیوں میں ڈکیتیاں کی جا رہی ہیں۔آرمی چیف اور وزیر اعلی کے پی کے ایکشن لیں۔منظم ڈکیتیوں کے باعث ہزارہ میں کئی ایکس چینج کمپنیاں بند ہو چکی ہیں۔انہوں۔نے کہا کہ سرکاری جعلی وردیوں میں ڈکیتی فوج کے خلاف سازش ہے اور ملک کی معشیت تباہ کرنے کی کوشش ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -