اے سی آر میں درج منفی ریمارکس حذف اور سپاٹ انسپکشن کو قانونی قرار دینے کے احکامات

اے سی آر میں درج منفی ریمارکس حذف اور سپاٹ انسپکشن کو قانونی قرار دینے کے ...

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ نے سول جج جمشید کنڈی کے خلاف اے سی آر میں درج منفی ریمارکس حذف کرنے اورسپاٹ انسپکشن کوقانونی قرار دینے کے احکامات جاری کردئیے ہیں عدالت عالیہ کے چیف جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس محمد ایوب پرمشتمل دورکنی بنچ نے سول جج کرک محمدجمشید کنڈی کی رٹ کی سماعت کی تو ان کے وکیل میاں حکمت شاہ نے عدالت کو بتایا کہ اس کاموکل سول جج ہے جس نے پہلی مرتبہ اے ڈی آر کے ذریعے سینکڑوں مقدمات نمٹائے جس پرانہیں متعدد توصیفی اسناد بھی ملیں تاہم اس دوران پشاورہائی کورٹ کی انتظامیہ نے اس کے خلاف انکوائری شروع کی اورموقف اختیار کیاکہ درخواست گذار جج نے سپاٹ انسپکشن کی مد میں ہزاروں روپے وصول کئے ہیں حالانکہ یہ اقدام غیرقانونی ہے قانون کے تحت دیوانی مقدمات آرڈر85رولز85کے تحت کوئی بھی عدالت سپاٹ انسپکشن کی مجازہے اورانہیں قانونی تحفظ حاصل ہے سپاٹ انسپکشن کے دوران بہت ہی کم معاوضہ عدالتی حکم کے تحت ریڈرکے پاس جمع کیاجاتاہے تاکہ صرف وہاں جاکرانسپکشن کیاجاسکے مگردرخواست گذار کے پاس اس حوالے سے قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انکوائری شروع ہوئی جس کے باعث اس کی سینیارٹی بھی متاثرہوئی لہذااے سی آر میں درج منفی ریمارکس حذف کئے جائیں جس پر عدالت نے اس حوالے سے منفی ریمارکس حذف کرنے کے احکامات جاری کئے اورسپاٹ انسپکشن کو قانون کے مطابق قرار دیا۔

Back to Conversion Tool

مزید :

پشاورصفحہ آخر -