اکادمی ادبیات کراچی کے زیر اہتمام مشاعرے کا انعقاد

اکادمی ادبیات کراچی کے زیر اہتمام مشاعرے کا انعقاد

  

کراچی( اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام ’’ہمارا سماج اورپاکستانی زبانیں ‘‘ اور مشاعرے کا انعقاد اکادمی ادبیات کراچی دفتر میں کیا گیا۔ جس کی صدارت امریکا سے آئے ہوئی معروف شاعرہ دانشور ڈاکٹر صبیحہ صبا نے کی، مہمان خاص سہیل احمد چیئرمین ادبی کمیٹی آرٹس کونسل تھے صدر محفل نے اپنی صدارتی خطاب میں کہا کہ دنیا کی بڑی زبانوں کی فہرست پر نظر دڑوائیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ دنیا کی زیادہ بڑی زبانیں وہی ہیں جن میں دوسری زبانوں کے علمی و ادبی سرمائے کو زیادہ سے زیادہ تراجم ہوئے ہیں آج انگریزی زبان محض اس لئے پوری دنیا میں چھائی ہوئی ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں جب کوئی قابل ذکر ادبی کتاب چھپ کر منظر عام پر آئی ہے تو اس کا انگریزی میں فوراً ترجمہ ہوتاہے مثلاً اگر میں فرانسیسی کی کوئی کتاب پڑھنی ہوتو ظاہر مجھے انگریزی کے ذریعے ہی اس سے استفادہ کرنا ہوگا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب ان ممالک میں بھی جہاں انگریزی زبان نصاب کے طور پر نہیں پڑھائی جاتی انگریزی سیکھنے کا رجحان بڑہ رہاہے اس وقت پاکستان میں بھی ۸۱ زبانیں بولی جاتیں ہین لیکن اردو ، بلوچی، راجھستانی،کچھی، براہوی، پشتو، سرائکی،کشمیری، مارواڑی، بروششکی ، پنجابی، سندھی، کوہستانی، ہندکو، بکتی پوٹھوہاری،شینا ، گوجری، ان کا جو علمی وا دبی ذخیرہ موجود ہے ان کو کیسے پڑھیں اور کیسے سمجھیں جبکہ تمام زبانوں کے کئی الفاظ ایک دوسرے میں ضم بھی ہوچکے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام زبانوں کے ادب کے تراجم کو عام کیا جائے ۔ مہمان خاص سہیل احمدنے کہا کہ ترجمے ہونگے تو ہم ایک دوسرے کی ثقافت لوک ادب ہویا مزاحمتی ادب یا جدید ادب اس کو سمجھنے میںآسانی ہوگی جب سمجھ آئے گی تو ہم ایک دوسرے کے قریب آئیں گے قریب آئیں گے تو محبت بڑھے گی اور نفرتوں کا خا تمہ ہوگا۔ سرائیکی اور پنجابی میں مرثیہ صرف ایک صنف سخن ہی نہیں بلکہ دینی شاعری کا ایک مستقل موضوع رہاہے۔ ان زبانوں میں مرثئے شہادت ناموں جنگ ناموں اور حسینی دوھڑوں کی شکل میں مختصر نظموں کی شکل میں ملتے ہیں۔ فارسی کی اردو میں جلوہ نمایا ں ملیں گے۔ ہم پیالہ وہم نوالہ ہم مشربی کے طور پر ملی جلی زبان بولی جاتی ہے۔ سندھی کی براہوی مستقل مزاجی لوک کہانیوں میں ملتی ہیں ۔بکتی پوٹھواڑی شینا گوجری غزل گوہوںیا نظمیں یا ثقافت زبانوں کی حوالے سے ایک دوسرے کا ساتھ ایسے جڑے ہوئے ہیں ۔جیسے ایک ہی زبان سے نکلی ہوئی شاخیں ہیں کوہستانی ہندکو بروششکی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئی ہیں پشتو اور ہندکو کاجائزہ لیں تو یک ہی لہجہ محسوس ہوتا ہے ۔ اس موقع پر ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ اسی طرح اردو ایک ایسے جلوس کی مشکل میں رواں دواں ہے جولشکر کی طرح ہر بازار سے گذرتا ہے ،یہ قدرِ ضرورت سیراب ہوتا ہے اس میں تمام زبانوں کے علم بھی جابہ جالھراتے نظرآتے ہیں ۔لیکن سب سے زیادہ جلوہ نما اپنے شمسوں کو چمکاتی فارسی کی بلند عماریاں ہیں جو اس جلوس کی رونق کو دوبالا کئے جاتی ہے ۔اس موقع پر جن شعرا ء کرام نے کلام پڑھا ان میں صبیحہ صباؔ ، سہیل احمد، عرفان علی عابدی، سید مشرف علی ، سید علی اوسط جعفری، عظمی جون، گوہر فاروق،محمد رفیق مغل، محمد معظم صدیقی، تنویر حسین سخنؔ ، ڈاکٹر محمد ربنوازخانزادہ، زیب النساء زیبی، الحاج یوسف اسماعیل، سید صغیر احمد جعفری، ڈاکٹر رحیم ھمرزو،ذوالفقار حیدر سرواز،دلشاد احمد دہلوی، الطاف احمدنے اپنا کلام پیش کیا۔ قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے آخر میں اکادمی ادبیا ت پاکستان کے جانب سے شکریہ ادا کیا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -