ایران و پاکستان آزاد فلسطین کے سب سے بڑے حمایتی کیوں ؟

ایران و پاکستان آزاد فلسطین کے سب سے بڑے حمایتی کیوں ؟
ایران و پاکستان آزاد فلسطین کے سب سے بڑے حمایتی کیوں ؟

  

مسئلہ فلسطین کو رواں ماہ مئی 14کو پورے ستر سال بیت جائیں گے جبکہ اس کے تاریخی پس منظر کو دیکھا جائے تو مسئلہ فلسطین کو ایک سو سال بیت جانے کو ہیں کہ جس دن 1917ء میں بالفور اعلامیہ جاری ہو اتھا ۔دراصل اسی دن سے فلسطینیوں کے لئے مصائب اور مشکلات کا وقت شروع ہو گیا تھا، پھر بالآخر سنہ1948ء میں 14مئی کو بالفور اعلامیہ پر عمل درآمد کرتے ہوئے برطانوی بوڑھے استعمار نے عالم اسلام کے قلب فلسطین پر اسرائیل نامی جعلی ریاست کا خنجر گھونپ دیا اور اس عمل پر امریکہ بھی اپنی آشیر باد دینے سے قاصر نہ رہا تھا۔بہر حال جس طرح فلسطینیوں کی مشکلات کی ایک سو سالہ تاریخ ہے اسی طرح فلسطینی عوام نے اپنی ان مشکلات میں استقامت اور شجاعت و بہادری کی بھی ایک سو سالہ تاریخ رقم کی ہے، اگر فلسطینی بہادر اور شجاع قوم کی استقامت نہ ہوتی تو یقیناًآج فلسطین کے حق میں بات کرنے والا ایک بھی سنجیدہ انسان باقی نہ ہوتا۔

وقت گزرتے ساتھ ساتھ جہاں فلسطینیوں کی انفرادی جد وجہد جاری تھی بالآخر یہ جد وجہد سنہ1979ء کے بعد اجتماعی جد وجہد میں تبدیل ہو گئی کئی ایک فلسطینی منظم گروہ قائم ہوئے جو آج سے پہلے انفرادی حیثیت میں اسرائیل جیسے خونخوار دشمن کے خلاف نبرد آزما تھے اور اپنے وطن و سرزمین کا دفاع مقدس کر رہے تھے۔

مسئلہ فلسطین سے متعلق چند ایک اسلامی ممالک کا کردار انتہائی اہم رہا ہے جس میں پاکستان ، ایران سر فہرست ہیں ۔پاکستان نے تحریک پاکستان کے وقت سے ہی بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانا شروع کی تھی اور برصغیر کے عوام کو مطلع کیا تھا کہ جو واقعات سرزمین مقدس فلسطین میں رونما ہو رہے ہیں یہ سب صیہونیوں کی سازش ہیں اور صیہونی فلسطین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔بابائے قوم کی مسئلہ فلسطین کے ساتھ لگن کا اندازہ آپ کی جانب سے برطانوی حکومت کو لکھے گئے متعدد خطوط اور اس میں واضح موقف کے بیان کئے جانے سے لگایا جا سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت کے مفتی اعظم فلسطین و القدس نے قائد اعظم کی ان انتھک کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا اور شکریہ ادا کیا تھا اور خط بابائے قوم کے نام ارسال کیا تھا۔بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی با بصیرت قیادت اور نظر ہی کا احسان ہے کہ پاکستان آج فخریہ انداز میں پوری دنیا میں یہ کہہ سکتا ہے کہ غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ یہ بابائے قوم کا دیا گیا وہی درس تھا کہ جسے آج پاکستان میں جنم لینے والی نئی نسل اپنے خون میں شامل کئے جنم لے رہی ہے اور اسرائیل جیسے غاصب اور جعلی ریاست کو نہ صرف فلسطین کا دشمن بلکہ دنیا کے امن کے لئے خطرہ تصوّر کرتی ہے۔

دوسری اہم مسلمان حکومت ایران کی ہے کہ جہاں انقلاب کی کامیابی کے بعد سے فلسطین کے مظلوم عوام کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا گیا جبکہ انقلاب کی تحریک کے ایام میں بھی انقلاب کے بانی رہنما امام خمینی کی تقاریر اور تحریروں میں مسئلہ فلسطین سے متعلق کافی مواد ملتا ہے کہ جس میں آپ نے ایسے دور میں ایران کے عوام کو مسئلہ فلسطین کی حمایت کے لئے کھڑا کیا جب ایران میں شہنشاہیت کا دور تھا اور فلسطین کے حق میں جبکہ امریکہ و اسرائیل کے خلاف بات کرنا گناہان کبیرہ سمجھے جاتے تھے۔سنہ 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے یقیناًفلسطینیوں کی تحریک کو ایک نئی روح بخش دی جس کا اعتراف تحریک آزادیءفلسطین کے معروف رہنما یاسر عرفات نے سنہ1979ء میں اپنے دورہ تہران کے دوران کچھ اس طرح کیا تھا۔

ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سب سے پہلا سیاسی فیصلہ یہ تھا کہ اسرائیلی سفارت خانے کو فلسطینی سفارت خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس فیصلے نے دنیائے اسلام کو اور خاص طور سے مشرق وسطیٰ کو اپنی طرف متوجہ کر لیا اور خطے کی سیاست کا رخ متعین کرنے میں اس فیصلے نے اہم کردار ادا کیا۔اس زمانے میں یاسر عرفات ، الفتح اور تحریک آزادی فلسطین کا سربراہ تھا۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے دس دن بعد یاسر عرفات ایک سرکاری وفد کے ہمراہ تہران آیا۔ امام خمینی کے ساتھ ملاقات میں انتہائی اہم جملوں کا تبادلہ ہوا :

امام خمینی نے کہا” انقلاب کی کامیابی میں مادی وسائل کی بجائے معنویت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ بڑی شیطانی قوتیں اور ان کی پشت پناہی کرنے والی سیاسی بڑی طاقتیں ، اپنے تمام مادی وسائل کے ساتھ ایک طرف کھڑی تھیں اور دوسری طرف ہماری قوم تھی ، جس کے پاس اپنا مکا اور خون تھا ، یہی مکا اور خون ، اِن تمام شیطانی طاقتوں پر غالب آگیا۔ یہ کامیابی کا ایک راز ہے۔ اس قوت ایمان کے ساتھ ساتھ دوسرا اہم راز ہماری قوم کا اتحاد تھا ، جو غلبہ کا باعث بنا۔ یہی اتحاد تھا کہ جس کے سامنے شیطانی طاقتیں کھڑی نہیں رہ سکیں اور یکے بعد دیگرے انہوں نے مورچے خالی کر دیے۔ میں پروردگار عالم سے دعا کرتا ہوں کہ ہماری فلسطینی برادر قوم کو بھی اپنی مشکلات میں کامیابی عطا فرمائے۔ ہم اِن کے بھائی ہیں۔ میں پندرہ سال پہلے سے ، جب انقلابی تحریک شروع ہوئی ، اپنی گفتگو میں ، اپنی تحریر میں فلسطین کے مسئلہ کو بیان کر تا رہا ہوں ، نیز اسرائیلی مظالم کا پردہ چاک کرتا رہا ہوں۔ ان شاء اللہ آئندہ بھی ، جب ہم اس مشکل سے فارغ ہو جائیں، آپ کے ساتھ ہیں۔ جیسے ہم پہلے بھی آپ کے ساتھ تھے ، جیسے آج بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ مجھے ا مید ہے کہ ہم بھائیوں کی طرح مشکلات کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔“

تحریک آزاد?ءفلسطین کے سربراہ جناب یاسر عرفات نے بھی اس ملاقات میں ایسے جملے کہے جو سننے کے لائق اور دلچسپ ہیں۔ انہوں نے کہا” اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں بیت المقدس کو آزاد کروانے کا ذمہ دار ہوں ، بلکہ آپ سب اس کو آزاد کروانے کے ذمہ دار ہیں۔ اس حوالے سے ، میں جو فلسطین میں پیدا ہوا ہوں ، ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد آپ کی ذمہ داری مجھ سے زیادہ ہے۔ آپ کی کامیابی پر بگین نے ایک اہم جملہ کہا ہے کہ اب اسرائیل میں اندھیروں کا دور شروع ہوگا۔۔۔ میں نے دایان اور بگین سے کہا ہے کہ آپ امریکہ پر بھروسہ کرو ، مجھے بھی ایک سہارا مل گیا ہے ، میرا سہارا ایرانی قوم ہے کہ جس کی قیادت حضرت آیت اللہ خمینی کر رہے ہیں۔۔۔ گزشتہ سال فلسطینی اور جنوب لبنان کی مسلمان عوام کو قتل کرنے کے لیے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں بڑی پیش قدمی کی گئی۔ ان کا مقابلے کرنے والے مجاہدین کی تعداد دو ہزار سے زیادہ نہ تھی جبکہ ان کے مقابلے میں پینسٹھ ہزار اسرائیلی فوجی تھے۔ برجنسکی نے کہا: تحریک آزادی فلسطین خدا حافظ ، تم اب گئے۔۔۔ لیکن میں نے دیکھا کہ پروردگار عالم نے ہمیں کامیابی عطا فرمائی۔ ایک سال بعد اس سے بھی بڑی اور عظیم کامیابی ہمیں نصیب ہوئی ، یعنی ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوگیا۔

بگین نے جب یہ کہا تھا کہ ہماری تاریکیوں و اندھیروں کا دور شروع ہوگیا ہے ، تو اس کے بہت گہرے معانی ہیں۔ اس میں ان کا چھپا ہوا خوف ہے۔ کیسینجر نے کہا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑا حادثہ ایران میں انقلاب کی کامیابی ہے۔۔ اگر امریکہ ، ایران میں وہ کام نہ کرے جو اس نے ویتنام میں کیے ہیں تو یہ انقلاب پھیلتا ہوا ، اسرائیل تک جا پہنچے گا۔۔۔ جب میں بغداد گیا تھا ، وہاں عرب حکام کے منہ سے میں نے یہی جملے سنے کہ تمہیں ایران سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے ، تمہاراآیت اللہ خمینی سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ کچھ نے کہا: شاہ کی موجودگی سے ہی تمہارے سارے مسائل حل ہو رہے تھے۔ انقلاب کی کامیابی سے چند پہلے خلیجی حکام نے مجھے بتایا کہ ہم تک اطلاعات پہنچی ہیں کہ بختیار کامیاب ہو جائے گا اور امریکی بختیار کے پیچھے پوری طرح سے کھڑے ہیں“ عرفات نے اپنے آخری جملوں میں کہاتھا” جنوبی لبنان کے گاو¿ں ، شیعہ نشین علاقے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسرائیل ان پر فضائی حملے کرے گا اور ان شیعہ نشین علاقوں کو نیست و نابود کر دے گا ، بگین کو بہت غصہ ہے ، ایران میں پیش آنے والے واقعات سے وہ بہت دکھی ہے ، لیکن ان شاءاللہ جنوبی لبنان پر اسرائیل کے حملے میں خدا ضرور اِن کی مدد فرمائے گا۔“

درج بالا کلمات امام خمینی اور یاسر عرفات کے مابین ہونے والی ملاقات کے جملے ہیں جو دونوں رہنماو¿ں کے مابین تبادلہ ہوا۔

یقیناًفلسطین کے مظلوم عوام کو کئی برس کے بعد ایک ایسا سہارا حاصل ہو ا تھا کہ جس نے نہ صرف زبانی طور پر فلسطین کی مد دکی بلکہ عملی طور پر ہر میدان میں مالی اعتبارسے اور مسلح اعتبار سے ہر طریقوں سے فلسطین کے عوام کی مدد کی تا کہ وہ غاصب دشمن اسرائیل کے مظالم سے نجات حاصل کریں۔کاش مسلمان دنیا کے تمام ممالک پاکستان اور ایران کی طرح عملی طور پر غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل اور ان کے سرپرستوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں اور مظلوم فلسطینیوں کے درد کا مداوا کر پائیں تا کہ وہ دن جلد آئے کہ قبلہ اوّل بیت المقدس غاصب صیہونیوں کے شکنجہ سے آزاد ہو۔

..

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ