فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر418

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر418
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر418

  

اے جے کاردار نصرت کاردار سے تعلیم میں کم مگر ہوشیاری میں بہت زیادہ تھے۔نصرت کاردار گریجویٹ تھے مگر اے جے کاردار غالباََبی اے بھی نہ کر سکے۔وہ ایک بلند خیال اور ذہین نوجوان تھے۔کچھ کرنے کی امنگ انکے دل میں مچلتی رہتی تھی۔فلم سے انہیں بھی دلچسپی تھی ۔انہوں نے لاہور میں ایک فوٹو گرافی کی دکان بھی کھولی تھی ۔اور ایڈورٹائزنگ بھی کرتے رہے۔مگر یہ کام ان کی امنگوں کے مطابق نہ تھے۔لہذا وہ بھی ٹکٹ کٹا کر بمبئی چلے گئے۔اور اے آر کاردار کے ساتھ کچھ وقت رہے ۔اشفاق کاردار نے تو اے آر کاردار سے باقاعدہ ہدایت کاری کی تربیت حاصل کی تھی اور بمبئی میں ایک فلم کی ہدایت کاری بھی کی تھی ۔نصرت کاردار کو ہدایت کاری کا شوق نہیں تھا ا س لیے ادکار بن گئے ۔مگر اے جے کاردار کوئی فیصلہ نہ کر سکے ۔اے آرا کاردار صاحب سے انہوں نے کچھ سیکھا یاخود کھانے کی کوشش کی یہ کوئی نہیں جانتا۔مگر کچھ عرصے بعد وہ دوبئی سے انگلستان چلے گئے۔وہاں وہ کیا کرتے رہے ،کسی فلم انسٹیوٹ سے تعلیم حاْصل کی یا پھر کسی ہدایت کار کے ساتھ کام کرتے رہے۔ہاں ا تنا ضرور سنا تھا کہ انہوں نے لبنانی دو شیزہ سے شادی کر لی ہے جو کسی وزیر یا وزیر اعظم کی بیٹی ہے ۔مگر یہ سب سنی سنائی باتیں ہیں جن کی آج تک تصدیق نہیں ہوئی ۔نہ ہم نے ان سے پوچھا اور نہ ہی انہیں بتانے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر417 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پھر ایک بار غلغلہ بلند ہوا کہ اے جے کاردار انگلستان سے پاکستان آئے ہیں ۔وہ ایک حقیقت پسندانہ فلم بنا ئیں گے ۔بتایا گیا کہ انہوں نے ہندوستان کی فلمی صنعت میں بہت زیادہ کارنامے سر انجام دیے ہیں ۔(کارناموں کی تفصیل کا علم نہ ہو سکا)اب وہ عالمی پیمانے پر ایک بہت عظیم فلم بنا رہے ہیں جس کے لیے انگلستان سے ایک ماہر کیمرا مین مارشل ساتھ آئے ہیں ۔اس فلم کیلیے سرمایہ غالباََایک لقمان صاحب نے فراہم کیا تھا ۔کاردار صاحب نے ان کو یقین دلایا تھا کہ اس فلم کی ریلیزکے بعد وہ عالمی شہرت یافتہ ہو جائیں گے ۔اور دنیائے فلم کی تاریخ میں ان کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

اس فلم کا نام ’’جاگو ہوا سویرا‘‘تھا ۔اخبارات اس فلم کے بارے میں روزانہ خبریں شائع کرنے لگے۔اے جے کاردار نے آتے ہی بہت اونچی سطح کے لوگوں کا تعاون حاصل کر لیا تھا ۔فیض احمد فیض اس کا اسکرپٹ لکھ رہے تھے ۔نغمات بھی ان ہی کہ تحریر کردہ تھے۔کہانی میں مشورہ دینے والے اور بھی بہت نامور ہستیوں کے نام تھے۔دیکھتے ہی دیکھتے اے آر جی کاردار میڈیا پر چھا گئے ۔ان کی خبریں اور انٹرویو شائع ہونے لگے۔کچھ صحافیوں نے ان کی تعریف میں زمیں اور آسمان کے قلبے ملا دیے۔

اے جے کاردار صاحب سے ہماری بھی ملاقات ہوئی ۔وہ جس حلقے میں بیٹھے تھے اس کے کچھ شریک ہمارے بھی دوست تھے۔ہم نے انہیں ایک کم گو اور سنجیدہ انسان پایا۔کم از کم انہوں نے ہمارے سامنے بہت کم گفتگو کی ۔

ہمارا خیال تھا کہ اپنی فلم اور ورلڈ سینما کے بارے میں ان سے کچھ تبادلہ خیال ہو گا اور ہماری فلمی معلومات میں کچھ اضافہ ہو گا۔اس زمانے میں غیر ملکی معروف و مقتدر فلمی جرائد بھی پاکستان میں آتے تھے جن کا مطالعہ ہم بہت انہماک سے کرتے تھے۔اور دنیا بھر میں سینما کے سلسلے میں کیا تجربات ہو رہے ہیں ۔اور کیسے کیسے لوگ کیا کام کر رہے ہیں ۔یہ جان کر ہمیں بہت خوشی ہوتی تھی اور رشک بھی آتا تھا آخر ہمارا کوئی پاکستانی ایسا کام کیوں نہیں کرتا یا کیوں نہیں کر سکتا؟

اے جے کاردار صاحب کے بارے میں سن کر اور پڑھ کر ہمارے حوصلے بلند ہو گئے اور امنگیں تازہ ہو گئیں کہ اب کوئی بھی پاکستانی بھی اس میدان میں نام پیدا کرے گا ۔اے جے کاردار کی تخلیقی صلا حتیوں کا ہمیں زیادہ اندازہ نہیں ہو سکا ۔کیونکہ چند ملاقاتوں میں انہوں نے فلموں اور فلمی تکنیک ،اور عالمی رجحانات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی لیکن ان کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئی تھیں ان کے پیش نظر ہم نے ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لی تھیں ۔ان کے بڑے بھائی نصرت کارداربھی ہمیں اپنے چھوٹے بھائی کی خدادا حیرت انگیز صلا حتیوں کے بارے میں بہت کچھ بتاتے رہتے تھے اور ہماری توقعات میں اضافہ کرتے رہتے تھے۔

’’جاگو ہوا سویرا‘‘بنتی رہی اور پھر اس کے بارے میں رفتہ رفتہ خبریں بھی کم ہو گئیں۔یہاں تک کہ یہ نمائش کے لیے پیش کر دی گئی۔

پاکستان میں بہت سارے لوگوں نے ہماری طرح پہلے ہی شو میں فلم دیکھی تھی۔ایسی ہی تھی جیسے رئیلسٹک فلم کو ہونا چاہیے تھا۔یعنی غربت،افلاس،بیماری،مصائب،مختلف کردار مختلف عوارض میں مبتلا تھے۔ان میں اکثر کھانسے بغیر یا ہانپے بغیر گفتگو نہیں کر سکتے تھے۔اس فلم کا پس منظر مشرقی پاکستان تھا۔مشرقی پاکستان میں اس وقت بھی بہت غربت تھی۔دیہاتی آبادی اتنی کمزور ،مریل لگتی تھے جیسے کہ میڈیکل کے طلبا کے لیے یونیورسٹیوں میں ڈھانچے ہوں ۔مگر کاردار صاحب نے ان میں سے بے حد مریل اور کمزور کردار ڈھونڈ کے فلم میں پیش کیے تھے جنھیں دیکھ کے حیرت ہوتی تھی کہ آخر یہ کیونکر زندہ ہیں اور چلتے پھرتے کیسے ہیں ۔یہ کردا ر ایک فقرہ کئی منٹ میں ادا کرتے تھے۔اگر ان کو ندی کے کنارے سے جھونپڑی تک جانا پڑتا تھا تو چند گز کا فاصلہ کئی منٹ میں طے کرتے تھے اور اس تمام عرصے میں کیمرا تماشائیوں کو ان کی سست روی کا مظاہرہ دکھاتا رہتا تھا۔اس فلم کی کہانی،مقصد نہ تو اس وقت ہماری سمجھ میں آیا تھا اور نہ ہی بعد میں کسی نے سمجھایا حالا نکہ ہم کاردار صاحب کے مداحوں سے دریافت بھی کرتے رہے۔مجمو عی طور پر یہ اسی نوعیت کی فلم تھی جیسی اس زمانے میں حقیقت پسندانہ فلمیں بنا کرتی تھیں۔

اٹلی کی فلموں میں غربت کے ساتھ گلیمر بھی ہوتا تھا اس طرح عام فلم بینیوں کو بھی دلچسپی پیدا ہو جاتی تھی مگر برصغیر کی فلموں میں یہ بھی نظر نہیں آیا کرتا تھا۔ستیہ جیت رے کی ابتدائی فلموں کا بھی یہی نمونہ تھا جس پر انہیں بہت سارے اعزازات ملے تھے اور وہ دنیا کے دس بہترین ہدایت کاروں کی صف میں شامل ہو گئے لیکن بعد میں انہوں نے شہری زندگی اور عام لوگوں کے مسائل کے بارے میں بھی فلمیں بنائیں جن میں خوش شکل ہیروئنیں نظر آ جاتی تھیں لیکن یہ ان کے اپنے ملک میں بھی فلمیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ہمیں یاد ہے کہ ایک بار بمبئی کے ایاک سینما میں ان کی شہرہ آفاق فلموں کا فیسٹیول منعقد ہوا تھا۔ہر روز ایک فلم دکھائی جاتی تھی ۔ یہ تاریخ ساز فلمیں تھیں لیکن کسی دن کسی ایک فلم کا ایک بھی شو فل نہیں ہو سکا تھا اور اور بمبئی کے فلم نقادوں اور دانشوروں نے اس بد ذوقی پر عوام کے خوب لتے لیے تھے۔اگر اے جے کاردار کی فلم ’’جاگو ہوا سویرا‘‘کو بھی عام فلم بینیوں نے نہیں دیکھا تویہ کوئی انوکھی اور انہونی بات نہیں تھی ۔ستیہ جیت رے کی فلموں کے ساتھ ہمسایہ ملک میں ان کے ہم وطنوں نے یہی سلوک روا رکھا تھا۔دراصل بات یہ تھی (بلکہ اب بھی ہے)یہ غربت و بیماری اور مصائب بھری زندگی مغرب والوں کے لیے ایک عجوبہ تھی جیسے کہ ہاتھی کا مہاوت ،بین بجا کر پٹاری سے سانپ نکالنے والا سپیرا اور کیلے بھرے بستر پر بٹھا ننگ دھڑنگ جوگی ان کے لیے ایک عجوبہ تھا۔مگر خود بر صغیر کے لوگوں کے لیے تو یہ روز مرہ کی بات تھی۔وہ صبح شام یہی کردار اور مناظر دیکھتے تھے(آج بھی دیکھتے ہیں )یہاں کی آبادی کی اکثریت بذات خود ایسی ہی دکھ بھری زندگی بسر کرتی ہے۔وہ ان مصائب اور دکھوں سے کچھ دیر کے لیے نجات حاصل کرنے اور رنگین،خوبصورت ،خوشیوں بھری زندگی دیکھنے کے لیے فلمیں دیکھتے ہیں اور تھوڑے سے پیسے خرچ کر کے ایسے خواب آنکھوں میں بسا کر لے جاتے ہیں ۔جن سے وہ زندگی بھر محروم رہتے ہیں ۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر419 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -