میرے بابا نہیں ہیں ناں!

میرے بابا نہیں ہیں ناں!
میرے بابا نہیں ہیں ناں!

  

یہ ایک سچی کہانی ہے۔امریکی ریاست ورجینیا میں رہنے والے باہمت Steve اور اس کے بیٹے Tony کی کہانی۔ٹونی 16 سال کا تھا تو اپنے ہم عمر دوستوں کو اپنے بابا سے اپنے دوستانہ رشتے کے قصے سنایا کرتا تھا۔16 سال کی عمر میں ٹونی ایک سکول کے تفریحی دورے سے واپسی پر شدید بیمار ہوگیا۔ٹونی کے کان میں شدید درد تھا،اس کا گلا خراب تھا اور اس کی ٹانگیں کام نہیں کر رہی تھیں۔دو نا تجربہ کار ڈاکٹرز نے Steve کو تسلی دے کر چلتا کیا کہ ٹونی معمولی بیمار ہے۔10 نومبر 1990ء کو ٹونی کو زبردست قسم کا دماغ کا دورہ پڑا اور وہ بے ہوش ہوگیا۔جب اسے بڑے ہسپتال لایا گیا تو پتہ چلا کہ ٹونی کا دماغ مردہ ہوگیا ہے اور وہ Vegetative سٹیٹ میں ہے یعنی وہ ایک مردہ اپاہج انسان ہے ۔

سٹیو دن رات اپنے بیٹے کے ساتھ رہنے لگا۔وہ خوراک کی نالی سے ٹونی کو کھانا کھلاتا،اس کو صاف کرتا،نہلاتا،اس کے مردہ جسم سے گھنٹوں بیٹھ کر باتیں کرتا۔قدرت نے باپ کے پیار کے معجزہ کے طور پر ٹونی کو نئی زندگی عطا کرنا شروع کردی۔ٹونی کو خوراک کی نالی کے ساتھ سٹیو 6 ماہ بعد گھر لے آیا۔سٹیو نے اپنی نوکری چھوڑ دی،وہ گھنٹوں ٹونی سے باتیں کرتا اور ٹونی کے پورے جسم کو ورزش ( فزیو تھراپی) کرواتا رہتا۔20 مئی 1993 ء کو ٹونی 3 گھنٹے میز کے ساتھ کھڑا رہا۔یہ میز سٹیو کو ہسپتال میں ایک زخمی عورت نے یہ کہہ کر دیا تھا کہ جب تمہارا بیٹا اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا تو اسے میری طرف سے یہ تحفہ ضرور دینا۔وہ عورت یہ جانتی تھی کہ ایک باپ کا پیار ،اس مردہ اپاہج جسم میں جان ڈال دے گا۔

سٹیو روزانہ صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک ٹونی کو ورزش کرواتا اور اسے دنیا میں ایک کامیاب انسان بننے کی تلقین کرتا۔11 جولائی 1994ء کو ٹونی بیساکی کے سہارے کھڑا ہوگیا۔20 بڑے ہسپتالوں میں پھرنے کے بعد بھی سٹیو کو کسی دماغ کے ڈاکٹر نے ٹونی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور چلانے کی اجازت نہ دی۔سٹیو نے یہ کہہ کر آخری ہسپتال کو خیر باد کہا کہ میرا بیٹا زندہ ہے اور زندہ لوگ اپنے پیروں پر چلا کرتے ہیں۔30 مارچ 2005ء کو Lisa Wilson نامی ایک ڈاکٹر نے ٹونی کی کہانی کو ایک معجزے کے طور پر ایک جریدے میں شائع کیا۔ٹونی تب 31 سال کا تھا۔اس کے بعد نہ تو سٹیو دنیا کے سامنے آیا ،اور نہ ہی ٹونی۔مگر Lisa کی تحریر کے بعد ریسر چرز نے جب ان باپ بیٹے کو تلاش کیا تو وہ ایک مردہ اپاہج انسان کو اپنے بوڑھے باپ کو کندھوں پے اٹھائے فٹبال کھیلتے دیکھ کر دنگ رہ گئے ۔ٹونی مردہ اپاہج نہیں تھا،ایک باپ کے پیار نے اسے زندہ کردیاتھا۔

14 سالہ سلیمان پاکستان کے دارالحکومت میں ایک کچی بستی رہتا ہے۔اس کی پانچ بہنیں ہیں اور وہ دو بھائی ہیں۔وہ سب سے بڑا ہے ۔راقم الحروف پہاڑوں سے گھرے اس شہر میں گھر سے نکلا تو اس گورے پٹھان نے 6 کلومیٹر دور ایک چوک تک کی لفٹ مانگی۔کار کی پچھلی نشست سے اردو مکس پشتو میں سلیمان چھ ہزار میٹر کے راستے میں مسلسل بولتا رہا۔اس کی بہن کی اگلے ہفتے شادی تھی۔وہ کہہ رہا تھا کہ میں پٹھان ہوں،ہم بھیک نہیں مانگتے،میں مجبور ہوں۔اگلے چوک پر ایک دکان کے مالک سے چند ہزار ادھار مانگنے ہیں۔کچھ ماہ پہلے پشاور میں شاہین بازار میں ایک دھماکہ ہوا تھا۔میرے بابا کی کپڑے کی دکان تھی۔وہ دکان میں ہی مر گیا تھا۔ہمیں اس کی ٹانگیں اور سر نہیں ملا،جو ملا اس سے ایک شناختی کارڈ نکلا، وہ میرے بابا کا ہی تھا۔میری مدد کردو میں بھیک نہیں مانگ رہا، میرے بابا نہیں ہیں ناں !۔میں روزانہ والدہ سے قرآن پڑھ کر پانچ وقت نماز کے بعد دعا کرواؤں گا۔وہ میرے ساتھ بہت سستے میں ،بہت مہنگی تجارت کررہا تھا۔وہ اگلے چوک پر اتر چکا تھا۔واپس آنے پر معلوم ہوا کہ سلیمان کی کہانی بھی سچی تھی۔ہمارے معاشرے میں جہاں وراثتی وزیر،ایم این اے،ایم پی اے،ڈاکٹر،انجینئر پیدا ہوتے ہیں۔وہاں سلیمان جیسے زندہ اپاہج بھی پیدا ہوتے ہیں۔ایک معاشرے کی سچی کہانی میں ایک ٹونی کو اس کا والد سٹیو مردہ اپاہج سے زندگی کی طرف لے آتا ہے اور وہ چیخ چیخ کر سب کو کہتا ہے کہ میرا بیٹا زندہ ہے اور زندہ لوگ اپنے پیروں پر چلا کرتے ہیں ۔دوسرے معاشرے کی سچی کہانی میں دہشت سے وحشت کا سفر ایک سلیمان کے والد سے اس کی زندگی چھین کر اسے زندہ اپاہج بنا دیا جاتا ہے۔چھ ہزار میٹر کے اس راستے میں ایک گونج پہاڑوں سے ٹکراتی رہی اور کہتی رہی

میں تپتی دوپہر میں

شہر کی سڑکوں پہ اپنے جسم کا 

ایندھن جلاتا ہوں

تو گھر میں چولہا جلتا ہے

میرے ہاتھوں میں چھالے پڑگئے ہیں

پاؤں میں چپکی ہوئی یہ تار کولی ریت

میرے ساتھ روزانہ مرے بستر میں جاتی ہے

مجھے اپنے بدن سے

شہر کی روندی ہوئی سڑکوں کی 

میلی باس آتی ہے

میرے بابا نہیں ہیں ناں!

راقم الحروف جب بڑی بڑی گاڑیوں پر ٹین ایجرز کو شاہانہ انداز میں عیاشی کرتے دیکھتا ہے تو باقی عوام کی طرح دل سے یہی آواز نکلتی ہے کہ یہ اس کے باپ کا پیسہ ہے۔مگر کیا ہم میں سے کسی نے کبھی کسی غریب بے سہارا ،کار صاف کرتے،پوپ کارن بیچتے بچے کی زندگی کی حقیقت جاننے کی کوشش کی کہ ان کا باپ اور اس کا پیسہ کہاں ہے؟ ایسے اکثر بچوں کے والد حیات نہیں ہوتے یا پھر شدید معاشی پستی کا شکار ہوتے ہیں۔دنیا میں اپنی محنت سے پیسہ کما کر عیاشی کرنے والے نوجوانوں کی تعداد بہت کم ہے۔اوّل تو جو نوجوان اپنی محنت سے کماتے ہیں وہ عیاشی نہیں کرتے، دوم جو عیاشی کرتے ہیں ان کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ ان کے والد کتنی محنت سے یہ پیسہ کما رہے ہیں۔ہم میں سے ہر دوسرے نوجوان ٹین ایجر کا معاشی سٹیٹس اس بات پر منحصر ہے کہ اس کے والد کیا کرتے ہیں۔نجانے والدین کے پیسے پر عیاشی کرکے ان کو عزت نہ دینے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انسان کا اپنا کیا ہے،پیدا دوسرے نے کیا،اہمیت دوسروں نے دی،تعلیم دوسروں نے دی،رشتہ بھی دوسروں سے جوڑا،کام کرنا بھی دوسروں نے سکھایا،آخر میں لہد میں بھی دوسروں نے اتارا ۔تو انسان کا اپنا کیا ہے۔کوئی قسمت والا ہوا تو سٹیو اور ٹونی کی طرح موت کو بھی شکست دے دے گا اور اگر بدقسمتی سے سلیمان کی طرح قسمت نے منہ موڑ لیا تو ایک ہی گونج ہوگی میرے بابا نہیں ہیں ناں! اپنے والدین سے پیار کریں،کیوں کہ بھوک ،موت اور مفلسی صرف ان سے ڈرنا جانتی ہے۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -