’’ عالم اسلام کا وہ بڑا سائنسدان جس کے مشورے پر ہلاکو خان نے اپنے ایک مشیر کو اپنی والدہ کے ساتھ قبر میں دفن کردیا تاکہ وہ منکر نکیر سے۔۔۔‘‘عقل و دانائی کا ایسا واقعہ جو حاسدوں کی بلا ٹال دیتا ہے 

’’ عالم اسلام کا وہ بڑا سائنسدان جس کے مشورے پر ہلاکو خان نے اپنے ایک مشیر کو ...
’’ عالم اسلام کا وہ بڑا سائنسدان جس کے مشورے پر ہلاکو خان نے اپنے ایک مشیر کو اپنی والدہ کے ساتھ قبر میں دفن کردیا تاکہ وہ منکر نکیر سے۔۔۔‘‘عقل و دانائی کا ایسا واقعہ جو حاسدوں کی بلا ٹال دیتا ہے 

  

ذہانت اور جرات اظہار انسان کوکئی مصائب سے بچا لیتی ہے ۔یہ واقعہ ایک ایسے مسلمان سائنسدان کا ہے جس نے ساتویں صدی میں ریاضی کی کتابیں لکھ کر تہلکہ مچا دیا تھا ۔یہ خواجہ نصیر الدین طوسی تھے جو طوس ایران میں پیدا ہوئے لیکن حاسدین ان کی لیاقت سے اسقدر خائف تھے کہ انہیں بدترین مشکلات کا شکار ہونا پڑا ۔ہلاکوخان نے ان کی قدر افزائی کی اور مالیات کا مشیر بھی بنایا ۔ علامہ طوسی کی اہم ترین کتاب ‘‘شکل القطاع’’ ہے، جس نے مثلثات کے حساب کو علمِ فلک سے الگ کیاتھا ۔ جغرافیہ، حکمت، موسیقی، فلکی کیلینڈر، منطق، اخلاق اور ریاضی پر بیش قیمت کتابیں لکھنے والے علامہ طوسی نے اپنی رصد گاہ میں فلکیاتی ٹیبل (زیچ) بنائے جن سے اہل یورپ نے بھرپور فائدہ اٹھایاتھا ۔

نصیرالدین طوسی کی ہلاکو خان کے دربار میں بڑی عزت تھی ۔ وہاں طوسی کا ایک حاسد بھی تھا ۔ جو ہر وقت طوسی کے خلاف سازش میں مصروف رہتا تھا ۔ اتفاقاً ان ہی دنوں ہلاکو کی والدہ بیمار تھیں۔ وہ تندرست نہ ہوسکیں اور ان کا انتقال ہوگیا۔ طوسی کے حاسد نے ہلاکو خان سے کہا ۔ ’’جہاں پناہ ! مرنے والے سے منکر نکیر قبر میں طرح طرح کے سوال کرتے ہیں۔ طوسی ایک عالم فاضل شخص ہے۔ طوسی کو والدہ محترمہ کے ساتھ دفن کر ا دیجیے تاکہ یہ والدہ صاحبہ کی طرف سے منکر نکیر کو سوالوں کے صحیح جواب دے سکے‘‘ 

ہلاکو خان نے طوسی سے اس مشورہ کا ذکر کیا۔ طوسی نے کہا ۔ ’’ بے شک قبر میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ مگر مجھے آپ اپنے لیے مخصوص رکھیں۔ کیونکہ ایک روز آپ نے بھی اس دنیا سے کوچ کرنا ہے۔ اپنی والدہ کے ساتھ اس مشورہ گیر عالم کو دفن فرمادیں۔‘‘

طوسی کی بات ہلاکو خان کے من کو لگی ، اسی طرح طوسی کے مشورے سے اتفاق کیا اور طوسی کے حاسد کو اپنی ماں کی ساتھ دفن کرادیا۔

مزید :

روشن کرنیں -