نیب نے آصف زرداری اور پیپلزپارٹی کیلئے ایسا کام کردکھایا کہ ہرپاکستانی کے واقعی ہوش اڑ جائیں گے

نیب نے آصف زرداری اور پیپلزپارٹی کیلئے ایسا کام کردکھایا کہ ہرپاکستانی کے ...
نیب نے آصف زرداری اور پیپلزپارٹی کیلئے ایسا کام کردکھایا کہ ہرپاکستانی کے واقعی ہوش اڑ جائیں گے

  

کراچی  (ویب ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) نے مبینہ طورپر سندھ میں پیپلزپارٹی کی قیادت اور وزراء کو کلین چیٹ دیناشروع کردی ہے ، کسی کے خلاف شواہد نہیں ملے تو کسی کیخلاف انکوائری ہی داخل دفتر کردی گئی اور کچھ لوگوں کو انکوائری میں کلیئر قراردیدیا گیا۔ 

دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی کامران خان نے بتایاکہ پیپلز پارٹی کے لیڈروں کے خلاف کرپشن کے خلاف جاری انکوائریاں بند ہورہی ہیں اور حالیہ دنوں میں کئی کیس پر اسرار طور پر بند کر دیئے گئے ہیں،مستند معلومات ہیں  کہ سندھ میں وزراء کے خلاف ایک کے بعد ایک انکوائری بند ہوگئی ہے ۔آصف زرداری کی بہن فریال تالپور کے شوہر منور تالپور کے خلاف ناجائز اثاثوں کا کیس ختم کردیا گیا ہے اسی طرح آصف زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی کے خلاف آمدن سے زائد جائیداد کی تحقیقات داخل دفتر ہوگئی ہیں ،وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کے خلاف کرپشن کی تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی ختم کر دی گئی ہیں ۔ سندھ کے وزیر بلدیات جام خان شورو کے فرنٹ مین رمضان سولنگی کی گرفتاری کے باوجود انہیں تحقیقات میں شامل نہیں کیا گیا۔یہ مصدقہ معلومات ہیں اور پیپلز پارٹی کے وزرا ء کے لئے بڑے اطمینان کا ماحول ہے جو نیب میں جنم لے رہا ہے ۔

انہوں نے بتایاکہ وزیر قانون ضیا الحسن لنجار کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کا کیس بھی فائلوں میں بند ہو گیا  ۔اسی طرح سابق وزیر گیان چند اسرانی کے خلاف کرپشن سے اثاثے بنانے کا کیس بھی ختم کردیا گیا ہے ۔ سابق وزیر آئی ٹی مکیش کمار چاولہ کے خلاف سی سی ٹی وی کیمروں کی خریداری میں اربوں کی کرپشن کا کیس بند کردیا گیا ہے، سابق وزیر بہبود علی مردان شاہ کے خلاف نیب کی تحقیقات کسی نتیجے کے بغیر بند کر دی گئیں ۔ گھوٹکی کے مہر برادران کے خلاف زمینوں پر قبضے کے کمزور کیس ختم کر دیئے گئے ہیں ۔صوبائی وزیر کوآپریٹو اکرم دھاریجو کے خلاف کرپشن کی تحقیقات بھی بند کر دی گئی ہیں گویا یہ ایک سلسلہ ہے جو رک نہیں رہا،یہ انکوائریاں 2015اور 2016 میں شروع ہوئی تھیں جب آصف زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا بیان دیا تھالیکن اب آصف زرداری کی کیفیت کچھ اور ہے ۔اب پیپلز پارٹی پر دبائونہیں ہے اور پیپلز پارٹی کے وزرا ء کے کیسز ایک کے بعد ایک مسلسل بند ہو رہے ہیں ۔سابق وزیر تعلیم پیر مظہر الحق پر غیر قانونی بھرتیوں میں 5ارب کی کرپشن کا الزام تھاوہ کیس بھی ختم ہو گیا ہے کوئی ثبوت نہیں ملا۔

کامران خان کاکہناتھاکہ نیب کے ذرائع نے اس کی بھی تصدیق کی ہے کہ فریال تالپور کے خلاف کرپشن اور کک بیکس کی تمام شکایات غلط ثابت ہوئی ہیں اس لئے ان کے خلاف کوئی انکوائری نہیں ہو رہی ۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سابق ڈی جی منظور قادر کاکا30ارب کی کرپشن کر کے کراچی سے کینیڈا فرار ہو گئے تھے اس کے خلاف آج تک نیب کا کوئی کیس یا ریفرنس دائر نہیں ہوا اس معاملہ پر پردہ پڑ چکا ہے ۔اس وقت کراچی اور سکھر میں 316کیسز ٹرائل کے مرحلہ میں ہیں ۔ نیب ملتان میں 416کیسز پر کارروائی ہورہی ہے نیب خیبر پختونخوا میں 194اور نیب بلوچستان میں 96کیسز ٹرائل کے مرحلے میں ہیں اور یہ تمام معلومات ہمیں نیب نے فراہم کی ہیں ۔

 اس ضمن میں نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل شاہ خاور نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب قانون چیئرمین نیب کے ارد گرد گھومتا ہے جس قانون میں صوابدیدی اختیارات ہوں گے اس کا غلط استعمال ہوسکتا ہے ،موجودہ چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتالیکن یہ قانون بڑا پیچیدہ ہے اس میں ترامیم کی ضرورت ہے یہ قانون سیاسی مخالفین کا بازو مروڑنے کے لئے بنایا گیاتھا،نیب آرڈیننس کے آج تک رولز نہیں بنائے گئے یہاں سالہا سال سے تحقیقات التوا میں پڑی ہیں ، نیب میں سب سے کمزور ادارہ تحقیقاتی ٹیم ہے اس ٹیم میں نا تجربہ کار لوگ شامل ہیں جن کی بنیادی تعلیم ایل ایل بی بھی نہیں ، چیئرمین نیب کو ان تمام چیزوں کو بغور دیکھنا چاہئے ان کے اقدامات میں شفافیت کا عنصر واضح نظر آنا چاہئے ،صوابدیدی اختیارات کم سے کم استعمال ہوں ،کچھ رولز بنالیں اور اس کا ٹائم فریم بنا لیں ،جب تک ملزم کے خلاف ٹھوس شہادت نہ ہو اس کو گرفتار نہ کیا جائے موجودہ نیب کو کچھ معیار طے کرنا پڑیں گے ۔

مزید :

قومی -