عراق سے لوٹے گئے نوادرات ایک عرصے تک امریکہ میں کوڑیوں کے داموں بکتے رہے لیکن اب نہیں۔۔۔ بہت بڑا فیصلہ آگیا

عراق سے لوٹے گئے نوادرات ایک عرصے تک امریکہ میں کوڑیوں کے داموں بکتے رہے لیکن ...
عراق سے لوٹے گئے نوادرات ایک عرصے تک امریکہ میں کوڑیوں کے داموں بکتے رہے لیکن اب نہیں۔۔۔ بہت بڑا فیصلہ آگیا

  

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)عراق پر امریکا کی فوج کا نتیجہ محض انسانی جانوں کے ضیاع اور انفراسٹرکچر کی تباہی کی صورت میں ہی نہیں نکلا بلکہ ہزاروں سال قدیم تاریخی ورثے کے بھی تباہ وہ برباد کر دیا گیا۔ وہ انمول نوادرات جو عراق ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کا اثاثہ تھے لوٹ لئے گئے۔ حیرت کی بات ہے کہ ان قیمتی اثاثوں کو امریکا میں ہی لے جا کر کوڑیوں کے بھاﺅ بیچا گیا اور خریدنے والے بھی امریکی ہی تھے۔ مشہور آرٹ اینڈ کرافٹ کمپنی ’ہابی لابی‘ بھی ہزاروں نوادرات کی خریدار تھی، مگر اس کی بدقسمتی کہ اب اسے یہ تمام نوادرات عراق کے حوالے کرنے پڑ رہے ہیں۔

امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ ہابی لابی نے 2010ءمیں 16 لاکھ ڈالر (تقریباً ساڑھے اٹھارہ کروڑ پاکستانی روپے)کے عوض ساڑھے پانچ ہزار سے زائد نوادرات خریدے جن میں سے اب 3800 واپس کئے جائیں گے۔ برطانوی جریدے ٹائم کی رپورٹ کے مطابق ہابی لابی نے جب یہ خریداری کی تو نوادرات کے ایک ماہر کی جانب سے انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ یہ غیر قانونی اور چوری شدہ تاریخی نوادرات ہوسکتے ہیں مگر اس کے باوجود انہوں نے یہ تاریخی اشیاءخرید لیں۔ ان میں ہزاروں سال قدیم تحریر کی حامل تختیاں، قدیم دو رکی مہریں، برتن اور مجسمے وغیرہ شامل ہیں۔ اس خریداری پر ہابی لابی کے خلاف مقدمہ دائر کردیا گیا تھا اور گزشتہ سال کمپنی نے 30 لاکھ ڈالر (تقریباً 35 کروڑ پاکستانی روپے) ہرجانے کی پیشکش کر کے مقدمہ ختم کروانے کی کوشش بھی کی تھی لیکن یہ ممکن نا ہو سکا۔

مزید :

بین الاقوامی -