”مودی کی کامیابی کے لئے دُعاگو“

”مودی کی کامیابی کے لئے دُعاگو“
”مودی کی کامیابی کے لئے دُعاگو“

  

بھارت میں مختلف مراحل میں الیکشن کا سلسلہ جاری ہے۔پاکستان میں الیکشن کا مرحلہ ایک ہی دن میں مکمل ہو جاتاہے، لیکن بڑا ملک ہونے کی وجہ سے بھارت میں حالیہ الیکشن کا سلسلہ گیارہ اپریل سے19 مئی تک سات مراحل میں تکمیل تک پہنچے گا۔الیکشن کے نتائج 30 مئی کو آنا شروع ہوں گے، کیونکہ اسی دن ووٹنگ مشینیں کھولی جائیں گی اور ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی،چنانچہ اس سے قبل وثوق سے کہنا مشکل ہے اور نہ پیشین گوئی کی جاسکتی ہے کہ کون جیتے گا۔

انڈین الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی نتائج سے متعلقہ ایگزٹ پول، جائزوں اور تخمینوں پر پابندی عائد ہے، اس کے باوجود قرائن بتا رہے ہیں کہ اس مرتبہ کے الیکشن مودی جی کے لئے بڑے مشکل ہیں اور ان کے جیتنے اور ہارنے کے چانس برابر ہیں۔

پچھلی بار مودی جی نے قوم کو ترقی کے بڑے سہانے خواب دکھائے تھے، روزگار اور کسانوں کے لئے پروگرام بنانے کے وعدے کئے تھے،اس کے ساتھ ”ہنددتوا“ کا تڑکا لگایا تھا اور مسلمانوں کے خلاف درپردہ نفرت کی تحریک چلائی تھی۔ ترقی اور روزگار کے خواب تو پورے نہ ہوسکے اور نہ ہی کسانوں کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے ہوئے۔اب تک متعدد کسان قرض نہ اتارنے اور نقصان کے سبب خودکشیاں کر چکے ہیں۔البتہ مسلمانوں سے نفرت کا ایجنڈا برقرار ہے اور ترقی کر کے درپردہ سے کھلم کھلا ہو گیا ہے۔ مزید اب مسلمانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف بھی نفرت اور بیان بازی کے زور پر الیکشن جیتنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

بھارت سرکاری طور پر ایک سیکولر ریاست ہے، لیکن اس کے برعکس مودی جی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کا کھلا نظریہ یہ ہے کہ سارے بھارتی عوام اصل اور بنیادی طور پر ”ہندو“ ہیں۔ پچھلی بار انہوں نے اسی ”ہندو بنیاد پرستی“ یا ”ہندد توا“ کے نعرے لگا کر الیکشن جیتے تھے، مگر اس بار یہ فارمولا کمزور پڑرہا ہے،کیونکہ اس فارمولے نے اس بار کروڑوں مسلمان ووٹروں کو بی جے پی کے خلاف متحد کر دیا ہے۔اس کا احساس بی جے پی کے مرکزی رہنماؤں اور امیدواروں کے ردعمل سے ہو رہا ہے۔ مسلمانوں اور ہندو ووٹروں سے الگ الگ برتاؤ اور رویے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

ہندو ووٹروں سے مخاطب ہو کر بی جے پی کے ایک لیڈررنجیت بہادر شری واستو کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی نسل کو ختم کرنا ہے تو مودی کو ووٹ دو۔ایک اور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کے صدر امیت شاہ کا کہنا ہے کہ ہم ہندوؤں، بدھسٹوں اور سکھوں کو چھوڑ کر باقی تمام دراندازوں کو ملک سے باہر نکال دیں گے۔

مسلمانوں سے مخاطب ہو کر سابقہ ادوار کی طرح پیار، محبت اور وعدوں کے برعکس اس بار دھونس اور دھمکیوں سے کام لیا جا رہا ہے۔ ایک امیدوار آنجہانی سنجے گاندھی کی بیوہ مانیکا گاندھی نے مسلم ووٹروں سے مخاطب ہو کر کہا کہ مَیں مسلم حلقوں کو نگاہ میں رکھے ہوئے ہوں۔ اگر مجھے ان حلقوں سے ووٹ نہ ملے تو پھرآئندہ کوئی مسلمان اپنے کسی کام کے لئے میرے پاس نہ آئے، کیونکہ آخرکارجیت تو مَیں نے پھر بھی جانا ہے۔

بی جے پی کے ایک یوگی ساکشی مہاراج مسلمانوں کو اپنی بددعاؤں سے ڈرارہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف بیانات کے علاوہ بھی کچھ امیدوار دلچسپ بیان اور انوکھے وعدے کر رہے ہیں، جیسا کہ ہمارے ہاں جناب شہزادہ امبر ہیں، اسی طرح تری پور(تامل ناڈو) میں ایک امیدوار شیخ داؤد ہیں۔ انہوں نے ووٹروں سے وعدہ کیا ہے کہ اگر انہیں کامیابی نصیب ہوئی تو وہ ہر خاندان کو ماہانہ 25 ہزار کی اشیائے ضرورت مفت مہیا کرنے کے علاوہ دس لٹر اصلی برانڈی بھی دیا کریں گے تاکہ ان کے غریب ووٹر سستی قسم کی شراب پی کر نہ مرا کریں۔بالی وڈ کے نامورفلمی ستاروں نے بھی الگ رونق میلہ لگایا ہوا ہے۔

پاکستان میں بھی ایک بار فلمی اداکاروں کو الیکشن کا بخار چڑھا تھا۔ مسرت شاہین، عنایت حسین بھٹی، سید کمال اور قوی خان، ان سب کی ضمانتیں ضبط ہو گئی تھیں، مگر انڈیا میں ایسا نہیں ہوتا۔

ہر بار کچھ فلمی ستارے ایوان میں ضرورجگمگاتے اور ٹمٹماتے ہیں۔ دلیپ کمار،سنیل دت،امیتابھ بچن،وجنتی مالا،ونود کھنہ،من من سین،رجیش کھنہ وغیرہ کافی فلمی لوگ ایوان کے ممبر منتخب ہوتے آئے ہیں۔اس مرتبہ معروف ہیروئن ارمیلا ماتونڈگر، ہیرو شتروگن سنہا اور راج ببر کانگرس کی طرف سے اور ہیمامالنی،جیا پرادا،کرن کھیر اور سمرتی ایرانی بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ مودی صاحب کے پاس کارکردگی کے نام پر سوائے کانٹوں کے کچھ نہیں۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف ”نفرت کارڈ“ کا سہارا لیا جا رہاہے۔ اس ماحول میں وزیراعظم عمران خان کا مودی کے حق میں بیان دینا ”طوائف اور سیاست دان“ والا معاملہ بن گیا ہے۔ایک سیاست دان کسی طوائف کے کوٹھے پر راتوں کو چوری چھپے ملنے آیا کرتے تھے۔ ایک رات سیاست دان کا موڈ خوشگوار دیکھ کر طوئف کہنے لگی کہ میری بڑی خواہش ہے کہ میں آپ کے ڈیرے کا ماحول دیکھوں۔

مَیں کل صبح آپ کے ڈیرے پر آؤں گی۔سیاست دان یہ سن کر گھبرا کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور ہاتھ جوڑ کر طوئف سے بولے:”نہ بی بی،یہ غضب نہ کرنا۔ ہمارا تو کاروبار اور روزی روٹی کا دھندا چلتا ہی تمہاری مخالفت پر ہے۔ سارا دن تو ہم سماج دشمن عناصر کے خلاف بھاشن دیتے رہتے ہیں، جس کا بڑا عنصر تو تم ہو۔ دن کے اجالے میں ہم تمہیں نہ جان سکتے ہیں،نہ پہچان سکتے ہیں، البتہ رات کو ہماری یادداشت واپس آجاتی ہے اور نظر بھی ٹھیک ہو جاتی ہے،اس لئے تم تکلیف نہ کرنا، ہم ہی راتوں کو تم سے ملنے آتے رہیں گے“……عمران خان نے مودی کے حق میں بیان دے کر اس کی دکان داری چوپٹ کردی ہے،اس کے ”چھابے“ کو لات مار دی ہے، اسی لئے تو مودی صاحب تلملا اُٹھے ہیں اور کہا ہے کہ عمران خان نے مجھے ”ریورس سوئنگ“ پھینکی ہے۔

کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دِل نہیں ہوتا۔البتہ شاطر دماغ ضرور ہوتا ہے۔ اب ہم یہ نہیں جانتے کہ عمران خان نے واقعی خلوص سے مودی کی کامیابی کی خواہش کی ہے یا پھر مودی کو ”ریورس سوئنگ“ پھینکی یا ”گھگھلی“ کرائی ہے۔ البتہ یہ وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ پورے پاکستان میں خلوص دِل سے کوئی مودی کی کامیابی کے لئے دُعاگو ہے تو وہ یہ سطور لکھنے والا خاکسار ہے۔

ہندوستان کی ترقی کو پچھلے پانچ سال میں ”بریک“ لگانے اور کمزور کرنے کا کریڈٹ مودی سرکار کو جاتا ہے، کیونکہ ان کا ایجنڈا صرف مسلمانوں سے نفرت ہے اور اسی وجہ سے ہندوستان کا دانشور طبقہ مودی کے خلاف چیخ رہا ہے کہ نفرت کی یہ آندھی دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ہندوستان کو ختم کردے گی۔

یہ خاکسار دِل سے یہ سمجھتا ہے کہ اگر مودی سرکار کو مزید پانچ سال مل گئے تو اس کی پالیسیوں سے ہندوستان مزید کمزور ہو گا، اس کے چہرے سے سیکولرازم کا نقاب اترے گا اور یہی پاکستان کے لئے بہتر ہے اور اسی لئے یہ مودی کی کامیابی کے لئے دُعاگو ہے۔

مزید :

رائے -کالم -