رواں مالی سال کے اختتام پر ٹیکس جمع کرنے کا ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا 

رواں مالی سال کے اختتام پر ٹیکس جمع کرنے کا ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا 
رواں مالی سال کے اختتام پر ٹیکس جمع کرنے کا ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا 

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

رواں مالی سال ختم ہونے میں صرف 2 ماہ باقی رہ گئے ہیں، لیکن سابق وزیر خزانہ کے ترمیم شدہ بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا جو ٹارگٹ مقرر کیا گیا تھا وہ حاصل ہوتا نظر نہیں آتا۔ گزرے 10ماہ میں ایف بی آر نے 2918ارب کا ریونیو جمع کیا ہے جسے 10ماہ پر تقسیم کیا جائے تو ہر مہینے جمع ہونے والے ریونیو کی رقم 290ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ ان مہینوں  میں کسی مہینے زیادہ رقم جمع ہوئی اور کسی ماہ کم، عام طور پر مالی سال کی آخری سہ ماہی میں ٹیکس ریکوری بڑھ جاتی ہے کیونکہ ٹیکس حکام اس سہ ماہی میں پہلے سے زیادہ محنت کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ بجٹ کا ہدف حاص کرلیں، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار شارٹ فال اتنا زیادہ ہے کہ ہدف کے قریب بھی نہیں پہنچا جاسکے گا۔ بجٹ میں ٹارگٹ 4398ارب روپے رکھا گیا تھا جس میں 1480ارب کا شارٹ فال ہے۔ دو مہینوں میں اگر ٹیکس حکام نے بہت محنت کی تب بھی وہ 7یا 8ارب روپے جمع کرسکیں گے۔ 10ارب روپے بھی جمع ہوگئے، جس کا امکان بہت کم ہے تو بھی 500ارب کا شارٹ فال رہے گا، جو اس لحاظ سے الارمنگ ہے کہ اگلے سال کے لئے آئی ایم ایف مزید 600ارب کے ٹیکس لگانے کی ایڈوائس دے رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم سال رواں میں پورا زور لگا کر 4398ارب روپے کا ہدف بھی پورا نہیں کر پا رہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگلے سال 600ارب روپے زیادہ جمع کر پائیں گے۔

اگرچہ ایف بی آر  کو سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے سے بہت زیادہ اطمینان حاصل ہوا ہے کہ ریونیو جمع کرنے کے ایک بڑے سیکٹر موبائل فون کا پری پیڈ کارڈ لوڈ کرنے پر سابقہ ٹیکس بحال کردیئے گئے ہیں جو موبائل فون کمپنیوں نے وصول کرنا شروع کردیئے ہیں۔ یہ ٹیکس ہر اس شخص سے وصول کیا جا رہا ہے جو پری پیڈ کارڈ اپنے موبائل فون میں لوڈ کرتا ہے، چاہے اس کی مالی حیثیت کچھ بھی ہو، اگر وہ موبائل فون یوزر ہے تو اس سے یہ ٹیکس وصول کیا جائے گا، ٹیکس کولیکشن کا یہ انتہائی آسان طریقہ ہے جس کے لئے ٹیکس حکام کو کوئی زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔ جن موبائل فون کمپنیوں نے اپنے صارفین سے ٹیکس وصول کرنا ہے وہی اس بات کی پابند ہیں کہ ٹیکس وصول کرکے سرکار کے خزانے میں جمع کراتے ہیں۔ ایسے ٹیکسوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ارب پتی اور عام مزدور یکساں شرح سے ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران یہ سوال بار بار زیربحث رہا کہ جو لوگ قانوناً ٹیکس ادا کرنے کے مکلف نہیں ہیں وہ ٹیکس کیوں دیں، لیکن سرکار ٹیکس جمع کرنے کے اس آسان طریقے سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں، اسی طرح بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیاں اپنے صارفین سے 7مختلف قسم کے ٹیکس وصول کرتی ہیں اور صارفین کو جو بل موصول ہوتے ہیں ان کا 30% (یا کم و بیش) ٹیکسوں پر مشتمل ہوتا ہے، بجلی کمپنیاں یہ ٹیکس بھی جمع کرکے سرکار کے خزانے میں جمع کرانے کی پابند ہیں یہ دونوں ٹیکس بالواسطہ ہیں اور کسی کو پسند ہوں یا نہ ہوں، کسی کو ادا کرنے کی سکت ہو یا وہ بجلی کا بل بھی بمشکل ادا کرتا ہو اسے اپنا بل ٹیکسوں سمیت ہی جمع کرانا ہوگا۔ اسی طرح  پٹرول کی قیمتوں میں بھی جو ٹیکس شامل ہیں وہ بھی ہر اس شخص کو ادا کرنے ہیں جو اپنی گاڑی (یا موٹر سائیکل) میں پٹرول ڈلوانے کے لئے پٹرول پمپ کا رخ کرتا ہے۔ آپ کی گاڑی مرسیڈیز ہے یا سب سے کم قوت کی سوزوکی، یا پھر آپ محض دو پہیوں والی سواری چلاتے ہیں جو بھی صورت ہے آپ جتنا پٹرول خریدیں گے اسی کے حساب سے ٹیکس بھی دیں گے۔ ایسا کوئی میکانزم نہیں (اور شاید ناپسندیدہ اور طبقاتی تقسیم کی ذیل میں بھی آتا ہے) کہ بڑی گاڑی والا مہنگا پٹرول خریدے اور سستی گاڑی والا سستا، آپ کہہ سکتے ہیں کہ مرسیڈیز والا تو ایک وقت میں 10ہزار کا پٹرول ڈلواتا ہے جبکہ بائیک والے نے تو بمشکل 50,100 کا  پٹرول ہی خریدنا ہوتا ہے اس لئے دونوں برابر کیسے ہوگئے۔ آپ کی بات میں وزن ہے لیکن ہم ایک لیٹر کی قیمت میں شامل ٹیکس کی بات کر رہے ہیں۔ اس طرح کے اور بھی بہت سے بالواسطہ ٹیکس ہیں جو غریب امیر روزانہ یکساں شرح سے ادا کرتے ہیں۔ جبکہ ٹیکس کی دنیا بھر میں معلوم فلاسفی یہ ہے کہ امیروں سے لے کر غریبوں پر خرچ کیا جائے، لیکن ہمارے ہاں ایسا کوئی تردد نہیں حتی کہ غریبوں کے نام کی مالا جپنے والی حکومتیں بھی اس جانب نہیں آتیں۔ 

پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جہاں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بہت کم ہے زیادہ تر ٹیکس وہ لوگ دیتے ہیں جن کا ٹیکس ان کی تنخواہ سے کٹ جاتا ہے، حتیٰ کہ یہ تنخواہ دار وہ ہیں جن کی ایک دن کی تنخواہ (ان کی رضا مندی کے بغیر بھی) سیلاب فنڈ یا ڈیم فنڈ میں عطیہ کرنے کے لئے کاٹ لی جاتی ہے۔ 

جن کی آمدنیاں زیادہ ہیں اور جنہیں اس شرح سے زیادہ ٹیکس دینے چاہیں ان کے پاس ٹیکس بچانے کے سینکڑوں طریقے ہیں اور بالآخر وہ جو ٹیکس ادا کرتے ہیں وہ کم سے کم ہوتا ہے، یعنی وہ جتنا بچا سکتے ہیں بچا لیتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ٹیکس کے ماہرین ملازم ہوتے ہیں یا پھر وہ ایسی چارٹرڈ کمپنیوں سے مشاورت کرلیتے ہیں جن کا کام ہی یہ مشورہ دینا ہے کہ ٹیکس کیسے بچایا جائے۔  جو عین قانونی کام ہے۔  ایسے میں دو مہینوں کے اندر 1480ارب روپے جمع کرنا ایک محال کام ہے۔ اگرچہ حکومت اس دعوے کے ساتھ برسراقتدار آئی تھی کہ وہ جونہی سریر آرائے حکومت ہوگی لوگ ٹیکس جمع کرانے کیلئے بینکوں کی جانب دوڑ پڑیں گے۔ لیکن ایسا کوئی منظر نہیں دیکھا گیا، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے آخری سال میں 3842ارب کے ٹیکس جمع کئے تھے لیکن موجودہ حکومت اس ہندسے کو بھی چھوتی نظر نہیں آتی چہ جائیکہ اپنا ہدف (4398 ارب) حاصل کرے۔

ٹیکس اہداف

مزید : میٹروپولیٹن 1 /تجزیہ