کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے دنیا کے امیر ترین افراد نے لگژری بنکرز میں پناہ لے لی

  کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے دنیا کے امیر ترین افراد نے لگژری بنکرز میں پناہ ...

  

لاہور(خصوصی رپورٹ)دنیا بھر میں نوول کوروناوائرس کے باعث لگے لاک ڈاؤن سے جہاں مختلف ممالک میں لوگ بنیادی ضرورتوں سے محروم ہو رہے ہیں، وہیں عالمی سطح پر دنیا بھرکے امیر ترین افراد نے کوروناوائرس سے بچانے کیلئے لگژری بنکرز میں پناہ ڈھونڈ لی ہے۔ گذشتہ سال کے آخر میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونیوالی نوول کورونا وائرس کی وباء نے دنیا بھرکو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے،او ر د نیا بھر میں کورونا کی وباء سے متاثرین کی تعداد 35لاکھ 43 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے تو 2 لاکھ 42 ہزار سے زائد افرادوباء کے باعث لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ دنیا بھر کی معیشت منجمد ہوکر رہ گئی ہے، کروڑوں افراد بیروزگار ہیں، غریب لوگوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول تک مشکل ہوگیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے بلوم برگ کے مطابق ایسی صورتحال میں امیر ترین افراد جدید ترین آ سا ئشوں سے مزین لگژری بنکرز میں رہ رہے ہیں جن کی مالیت اربوں روپے ہے۔ جدید ترین اور پرآسائش بنکرز کی اکثریت امریکہ کی مختلف ریاستوں سمیت کیریبیئن جزائر اور نیوزی لینڈ میں موجود ہے۔اربوں روپے مالیت کے ان لگژری بنکرز میں سوئمنگ پول،جِم،باغات،مے خانے، لگژری باتھ رومز،گیراج، گرین ہاؤس گارڈن اور سرجیکل بیڈزسمیت پرتعیش زندگی کی تمام سہولتیں موجود ہیں۔اس ضمن میں سوشل میڈیا پر ایسی بہت سی تصاویربھی وائرل ہورہی ہیں جن پر صارفین کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر ان لاکھوں کروڑوں لوگوں کا مذاق اڑا رہی ہیں جنہیں اپنے ملک میں رہتے ہوئے طبی سہولتیں تک میسر نہیں یا جو حصول رزق کیلئے گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔

لگژری بنکرز

مزید :

صفحہ اول -