کورونا سے صحت یابی پر بھی وائرس کا مریض کے پھیپھڑوں میں موجود رہنے کا انکشاف

کورونا سے صحت یابی پر بھی وائرس کا مریض کے پھیپھڑوں میں موجود رہنے کا انکشاف

  

نیویارک (این این آئی) سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کوروناسے صحتیاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑوں کی گہرائی میں یہ وائرس موجود ہو سکتا ہے۔ جریدے جرنل سیل ریسرچ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ممکنہ طور پر اسی وجہ سے کچھ مریضوں میں صحتیابی کے بعد اس وائرس کی دوبارہ تشخیص ہوئی ہے۔چین کی آرمی میڈیکل یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اس سے پہلی بار پھیپھڑوں میں اس وائرس کے ذرات موجود رہنے کے شواہد ملتے ہیں اور وہ بھی ایک ایسے مریض میں جس کے 3 مسلسل ٹیسٹ نیگیٹو آئے تھے۔یہ تحقیق اس وقت سامنے آئی ہے جب جنوبی کوریا اور چین میں اس کوروناسے صحتیاب ہونے والے متعدد افراد کے دوبارہ ٹیسٹوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔امریکہ کے جارج واشنگٹن یونیورسٹی ہسپتال کے چھاتی کی سرجری کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر کیتھ مو رٹ مین نے بتایا کرونا وائرس سے درحقیقت دونوں پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے جبکہ کوروناسے صحت یاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑوں کو طویل المیعاد بنیادوں پر نقصان پہنچنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ ہاکنگ کانگ میں طبی ماہرین نے دریافت کیا تھا کہ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑے کمزوری کا شکار ہوسکتے ہیں اور کچھ افراد کو تیز چلنے پر سانس پھولنے کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ہسپتال کے انفیکشن ڈیزیز سینٹر کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر اوئن تسانگ تک ین نے بتایا کہ کورونا سے مکمل نجات کے بعد کچھ مریضوں کے پھیپھڑوں کے افعال میں 20 سے 30 فیصد کمی آسکتی ہے۔ڈاکٹر نے بتایا کہ صحت یاب مریض سوئمنگ جیسی مختلف ورزشوں سے اپنے پھیپھڑوں کو بتدریج مکمل صحت یاب ہونے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

انکشاف

مزید :

صفحہ آخر -