نا اہل سرکاری افسروں سے نجات کیلئے ڈائریکٹ ریٹائرمنٹ فرام سروس قواعد 2020متعارف

نا اہل سرکاری افسروں سے نجات کیلئے ڈائریکٹ ریٹائرمنٹ فرام سروس قواعد ...

  

اسلام آباد(آن لائن)حکومت نے ناکارہ افسران سے نجات حاصل کرنے کیلئے سول سرونٹ (ڈائریکٹ ریٹائرمنٹ فرام سروس) قواعد 2020 متعارف کروادیئے، حکومتی اقدام سے بیوروکریٹس کی صفوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، گریڈ 20 اور اس سے زائد افسروں کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ ایف پی ایس سی چیئرمین کی سربراہی میں کابینہ، خزانہ، اسٹیبلشمنٹ، قانون ڈویژنز کے سیکرٹری اور متعلقہ محکمے کے سیکرٹری یا سربراہ پر مشتمل بورڈ کرے گا،قواعد کے تحت ریٹائرمنٹ بورڈ یا کمیٹی کو یہ اختیار مل گیا کہ ان افسروں کو قبل از وقت ریٹائر کردیں کہ جن کی کارکردگی جائزے کی رپورٹ (پی ای آرز) اوسط ہو یا ان کی 3 مختلف کارکردگی رپورٹس پر 3 مختلف افسروں کے مخالف ریمارکس ہوں، سینٹرل بورڈ آف سلیکشن، ڈپارٹمنٹل سلیکشن بورڈ یا ڈپارٹمنٹل پروموشن بورڈ ان کی معطلی کی 2 مرتبہ تجویز دے چکا ہوں یا اعلی سطح کا پروموشن بورڈ 2 مرتبہ ترقی نہ دینے کی تجویز دے چکا ہو، بدعنوانی کے مرتکب یا نیب اور کسی اور تحقیقاتی ادارے کے ساتھ پلی بارگین کی ہو، سول سرونٹس پروموشن (بی ایس 18 سے21)قواعد 2019 کے تحت سی ایس بی، ڈی ایس بی یا ڈی پی ایس نے ایک سے زائد مرتبہ سی کیٹیگری میں رکھا ہو اور اپنے منصب سے ہٹ کر کام کیا ہو۔وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین کا ا س حوالے سے کہنا تھاکہ یہ قواعد اس لیے بنائے گئے کہ بیوروکریسی میں سب سے بہترین افسروں کو رکھا جاسکے۔ ان قواعد کو مثبت انداز میں پیش کرے کیونکہ یہ سول سروس کی کارکردگی یقینی بنانے کیلئے تشکیل دئیے گئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ترقی کے قواعد سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں تشکیل دئیے ہیں۔

قواعد 2020

مزید :

صفحہ آخر -