بھارت ریاستی دہشتگردی بند،گرفتار حاملہ اسکالر صفورہ زرگر کور ہا کرے:ایمنسٹی انٹرنیشنل

بھارت ریاستی دہشتگردی بند،گرفتار حاملہ اسکالر صفورہ زرگر کور ہا ...

  

نئی دہلی(آن لائن)ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہلی میں شہریت کے متنازع قانون سی اے اے کے خلاف مظاہروں کے الزام میں گرفتار حاملہ اسکالر صفورہ زرگر کو رہا کرے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے سماجی رابطے کی ویب ٹوئٹر پر مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ ریسرچ اسکالر صفورہ زرگر کو جب گرفتار کیا گیا اس وقت وہ 3 ماہ کی حاملہ تھیں۔بھارتی حکومت نے بے دردی سے ایک حاملہ خاتون کو گرفتار کیا اور کورونا وائرس کے دوران گنجائش سے زائد موجود قیدیوں کی جیل میں منتقل کردیا۔ 27 سالہ خاتون کو 10 اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر انسداد دہشت گردی کے سخت قانون غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ 2019 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ صفورہ زرگر نے گزشتہ سال دسمبر میں متنازع شہریت قانون کے خلاف نئی دہلی میں کئی ہفتوں تک پرامن احتجاج کیا تھا۔ بھارتی حکومت نے صفورہ زرگر کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت تہاڑ جیل بھیج دیا تھا۔ دہلی پولیس نے کہا ہے کہ صفورہ زرگر کو تہاڑ جہل میں الگ سیل میں رکھا جارہا ہے جہاں انہیں طبی نگرانی اور سہولیات فراہم کردی گئی ہیں۔پولیس کی جانب سے صفورا زرگر پر فروری میں ہونے والے فسادات کا اہم ”سازشی“ ہونے کا الزم لگایا گیا ہے۔دہلی میں پرامن دھرنے پر حکومت کے ہندو قوم پرستوں نے متعدد حملے کیے تھے جس کے بعد دہلی کے شمال مشرقی حصے میں فسادات نے جنم لیا تھا اورکم ازکم 53 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔یاد رہے کہ 10 فروری کو صفورا زرگر پولیس اور طلبہ کے درمیان تصادم کے نتیجے میں بیہوش ہوگئی تھیں جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔اس بارے میں ان کے شوہر نے بتایا کہ اس کے بعد سے حمل کے ایام جیسے بڑھ رہے تھے انہوں نے اپنی نقل و حرکت کو محدود کردیا تھا جبکہ کورونا وائرس کے بعد سے انہوں نے ضرورت کے کام کے علاوہ گھر سے باہر نکلنا بھی بند کردیا تھا اور وہ زیادہ تر گھر سے کام کرتی تھیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل

مزید :

علاقائی -