آرم سٹرانگ لنگڑا تے نئی سی

آرم سٹرانگ لنگڑا تے نئی سی
آرم سٹرانگ لنگڑا تے نئی سی

  

یہاں سے پنجاب اور سندھ اور کے پی کے اور یہاں تک کے بلوچستان میں اگر کوئی وفاقی وزیر اونچی آواز میں بولتا ہے تو اس کی ماں کہتی ہے چپ ہو جا چپ ہو جا ورنہ اعظم خان آ جائے گا۔

ایک محاورہ ہے نانی نے خصم کیا برا کیا اور کر کے چھوڑ دیا اس سے بھی برا کیا۔ پتہ نہیں خان صاحب کو وزارت اطلاعات سے اصل بیر کیا ہے، اب فردوس آپا،لاکھ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان پر الزام دھریں لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ دلہن وہی جو پیامن بھائے،خان صاحب کو جو پسند وہی اعظم خان کی پسند ہو گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وزارت اطلاعات کیلئے فواد چوہدری سے اچھی چوائس پہلے تھی نہ اب ہے۔ لیکن فواد چوہدری جن کی نظر ہوئے اب وہ خود نذر نیاز بانٹتے پھر رے ہیں، فردوس آپا سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں کیونکہ اختلاف کیلئے پہلے اتفاق ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ہاں ایک صحافی کے طور پر ہماری ننھی سے خواہش تھی کہ وہ ہمیں یاد رکھیں۔

اساں تے اے آکھیا سی ساہنوں نہ بھلائیں وے

ایہہ تے نئی سی آکھیاں جہاں چھڈ جائیں وے

چلیں فردوس آپا پہلے بھی ایسے کرائسس سے گذر چکی ہیں انہیں عادت ہے ایسے معاملات کی۔ لیکن حالات یہ بتا رہے ہیں کہ اب شاید ان کا پی ٹی آئی میں دانہ پانی مک گیا۔ لیکن ہمارا یقین ہے کہ اللہ نے ان کا بہت رزق لکھا ہے اور ان کا یہ رزق ہماری تحریر تک کہیں نہ کہیں گج وج کے سٹمپ ہو چکا ہو گا، سیاست کے میدان میں اللہ شروع سے ان پر کھل ڈل کر انہے واہ مہربان رہا ہے۔ رہی بات اعظم خان کی تو بھائی جہانگیر ترین سے لیکر فردوس آپا تک سب نے ان پر جاتے جاتے ملبہ ڈالا اور اس ملبے نے اعظم خان کو سپر ڈپر گھبر بنا دیا ورنہ ہم کیا جانیں وزیر اعظم ہاؤس میں کون کون چھپا بیٹھا ہے اور کیا کیا کرتا پھرتا ہے، فواد چوہدری سمجھدار انسان ہیں انہیں پتہ ہے کہ مگرمچھوں سے بیر نہیں پالنا چاہئے۔ بہرحال جب بندہ پنگا لیتا ہے تو تھوڑی بہت ٹینشن بھی لینا پڑتی ہے اور پھر ٹینشن خود آپا فردوس کوکہتی پھرتی ہے کہ کم پے گیا اے تیرے نال تھوڑی دیر دا۔ رہے فردوس آپا پر لگے الزام اور اگر یہ الزام سچ ہیں تو پھر اس ملک میں ان سے زیادہ پارسا کوئی نہیں۔ بھیا میرے یہاں گریڈ 18کا افسر مان نہیں، اس کے گھر کتنے مالی کتنے ڈرائیور اور کتنے گارڈر ہوتے ہیں آپ انگلیوں پر نہیں گن سکتے،وزارت مشاورت تو ویسے بھی سوہنی اور سوتی پئی اٹھی والی بات ہے۔ ہماری ہاتھ جوڑ کر بنتی ہے یا یہ الزام واپس لے لئے جائیں یا پھر الزامات کی سنگینی بڑھا دی جائے۔ سنتا سنگھ گلی کے نکڑ پر بیٹھا رو رہا تھا۔ بنتا سنگھ نے پوچھا تو بولا یار میں اپنی گرل فرینڈ کو بھولنا چاہ رہا ہوں۔ بنتا سنگھ بولا تو رو کیوں رہے ہو سنتا سنگھ بولا یار میں او سدا ناں بھل گیا۔ یہی حال ہمارا ہے ہم فردوس آپا کو بھولنے کے چکر میں یہاں شبلی فراز کو ہی بھول گئے۔ ان کے والد محترم سے ہمارا بچپن سے یارانہ ہے۔ جب ہم نے ان کی 'جاناں جاناں ' پڑھی تھی امید ہے شبلی فراز میڈیا اور خصوصاً جینوئن صحافیوں کو جاناں جاناں جتنی حیثیت ضرور دیں گے اور اگر نہیں دینگے تو پھر میں انہیں چتاؤنی دیتا ہوں کہ مجھ سے ورکر پرانی تنخواہ پر خاموشی سے کام کرتے رہیں گے کیونکہ اگر بھوک غربت میں خدا نیڑے ہوتا ہے تو گھسن بھی زیادہ دور نہیں ہوتا۔ویسے وہ تیزی بے روزگار ہوتے صحافی اور مارکیٹنگ ایجنسیون کے یروزگار ہونے والے چھوٹے ورکرز کی بد دعاؤں سے محفوظ رہیں ان بددعاِوں کا ٹریک ریکارڈ بہت سوں کو لے ڈوبا ہے۔

ٹیچر نے سنتا سنگھ سے پوچھا چاند پر سب سے پہلا قدم کس کا پہنچا۔ سنتا بولا نیل آرم سٹرانگ کا، ٹیچر بولیں اور دوسرا، سنتا بولا اوہ وی نیل آرم سٹرانگ دا۔وہ کونسا لبگڑا تھا۔ بھیا وفاق لنگڑا تھوڑی ہے وہ جس صوبے میں چاہے ایک قدم رکھے اور اگر ایک رکھے گا تو اسے دوسرا رکھنے سے کون روک سکتا ہے۔پاہ جی یہ وفاق ہے مختارا نہیں جو وڑ جانی دا کہیں لک چھپ جاؤں گا۔ اٹھارویں ترمیم اپنی خیر منائے اب کیونکہ کپتان اگر ایک بار فیصلہ کرے تو پھر اعظم خان کی بھی نہیں سنتا۔ یہ کیا ٹوپی ڈرامہ ہے کہ ابّے سے پیسے لیں اور بیٹے ابّے کی ہی مانیں۔بھیا ابّا تو ابّا ہے چاہے وہ کتنا ہی ڈب کھڑبّا ہو۔ یہ کیا صوبے کھائیں بھی اور غرائیں بھی۔چوں چاں کریں گے تو پھر یہ تو ہو گا۔ ڈاکٹر سنتا سنگھ پھولوں کا ہار لیکر آپریشن تھیٹر میں داخل ہوا۔ مریض نے گھبرا کے پوچھا یہ ہارکس کے لئے وہ بولا میرا پہلا آپریشن ہے کامیاب ہو گیا تو میں پہنوں گا ناکام ہوا تو تم پر ڈال دوں گا۔ خیر سے آئین میں چھیڑ چھاڑ کے حوالے سے خان صاحب کا یہ پہلا بڑا آپریشن ہے۔ دیکھتے ہیں یہ ہار کس کے گلے میں پڑتا ہے۔ لیکن میلہ میلہ کرنے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہئے کہ پلے کوئی دھیلا شیلا بھی ہے کہ نہیں۔ اٹھارویں ترمیم ختم کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں اکثریت کہاں سے آئے گی۔بہرحال کپتان ہمارا دھن کا پکا ہے، جو سوچ لے وہ ایک بار کر کے ضرور دکھاتا ہے، میرا خیال ہے اب وہ دور گئے جب صوبے وفاق کو کہتے تھے کہ مینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے۔ خیر ہم آئین کو ضیاء الحق کی طرح ردی کا ڈھیر نہیں سمجھتے،ہمارے کھاتوں میں ا ٓئین اس ریاست کی مقدس ترین دستاویز ہے اللہ ذوالفقار علی بھٹو کے درجات بلند کرے اور بلاول کو بھی زرداری سے زیادہ بھٹو کے نظریات کا امین بنائے۔ ہمارا بے فضول سا مشورہ ہے کہ آئین میں چھیڑ خانی اور چیڑ چھاڑ احتیاط سے ہی کی جائے تو بہتر ہے بعد میں یہ نہ ہو کہ بوٹا چھپڑ پھاڑ کے گالاں کڈتا رہ جائے۔

مزید :

رائے -کالم -