آپ اُنہیں کیسے جانتے ہیں؟

آپ اُنہیں کیسے جانتے ہیں؟
آپ اُنہیں کیسے جانتے ہیں؟

  

ہمارے ہاں پڑھا لکھا ہونے کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ایسا آدمی پیچیدہ سوالوں کا جواب آسانی سے دے لیتا ہے، مگر یہ بھی ہوا کہ کسی نے کوئی سیدھی سادی بات پوچھ لی اور مت ماری گئی۔ دیگر پڑھے لکھوں کو تو مَیں صرف رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے بیچ میں لے آیا، ورنہ یہ اعترافی بیان تو بس اپنے ہی بارے میں تھا۔ وجہ یہ کہ آج تک جن بھی مسائل کا تجزیہ کیا، اُن میں امکانی موقف کو پُر سہولت رکھنے کی خاطر پہلے تو ہمیشہ اپنی مرضی کا بنیادی ڈھانچہ بنایا اور پھر اُس پہ کھڑی ک دی دلائل کی عمارت۔ آپ اِس مکان کو ایل ڈی اے کی خونخوار نظر وں سے بھی دیکھیں تو رنگ روغن کی چپچپاہٹ سے پتا نہیں چلتا کہ اصل چکر تو بنیادی نقشہ کی لکیروں میں دیا گیا۔ بھولے بھالے برجستہ سوال خواہ کتنے ہی بے ضرر کیوں نہ ہوں، اُن کا جواب دینے میں چکر بازی کی یہ آسانی نہیں ہوتی۔

”آپ انہیں کیسے جانتے ہیں؟“ کون کہے گا کہ یہ کوئی پیچیدہ سوال ہے۔ دیکھئے نا، روزمرہ ملاقات، ٹیلی فون کال یا ای میل اور سوشل میڈیا کے رابطوں کی صورت میں کسی بھی تیسرے فریق کے ذکر پر یہ سوال سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ یہی کچھ تین روز پہلے میرے ساتھ ہوا جب ایک سابق شاگرد کا استفسار تھا کہ فلاں نام کی صاحبہ کو آپ کیسے جانتے ہیں۔ مَیں نے تشویش کا سبب پوچھا تو معلوم ہوا کہ خاتون فیس بک پر استاد اور شاگرد کے میوچل فرینڈز میں شامل ہیں۔ جواب نکالنے کی خاطر پہلے تو خاندانی رشتوں کے گرد و نواح میں جھانکا، آس پڑوس کے گھروں کو دیکھا بھالا، پھر یاری دوستی کی کچی بستیوں پہ نظر ڈالی۔ مگر ہر بار تصویر کی جگہ لکیریں سی ابھریں اور تصویر جو آئی تو آواز بند۔

عام حالات میں مجھ جیسے کہنہ مشق رپورٹر کے ساتھ یہ ہونا تو نہیں چاہئیے تھا۔ خیال آیا کہ ہو نہ ہو، یہ سب سرکاری طور پہ بزرگی حاصل کر لینے پہ حافظہ کمزور پڑ جانے کا نتیجہ ہے یا یہ کہ گرد و پیش کے لوگوں میں میری دلچسپی اب پہلے سے کم رہ گئی ہے۔ ذرا سا غور کرنے پر دلچسپی والی بات غیرحقیقی سی لگی کیونکہ آج تک دوست، آشنا جب جب ملے یہ قوالی ضرور ہوئی کہ ”میری تمام سرگز شت کھوئے ہوؤں کی جستجو‘‘۔ اِس کے برعکس اگر حافظہ کمزور پڑ گیا ہے تو پھر چہروں کا سیاق و سباق ہی نہیں، اِس مد میں وہ سب کچھ بھی ذہن سے محو ہو جانا چاہئیے تھا جسے ایک شاعر نے ”غم جہاں کا حساب“ اور دوسر ا گھبرا کر پکار اٹھا کہ ”کاش میں کچھ نہ جانتا ہوتا‘‘۔ تو بھائی جی، پھر مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ گمبھیر ہے اور اسے وہی سمجھ سکتا ہے جو میری طرح تھوڑا بہت مشہور آدمی ہو۔

یہ شرط سن کر آپ کا رد عمل مرحوم صحافی حبیب الرحمان ’جنگی‘ کی طرح ڈانٹ ڈپٹ کا ہو سکتا ہے کہ ریڈیو پہ آواز لگانے والے کب سے مشاہیر میں شمار ہونے لگے۔ اسی طرح ٹی وی کے کسی ایسے ٹاک شو میں کبھی کبھار شریک ہونے کے کیا معنی جس میں تیسری کمرشل بریک گزر جانے پر بھی میزبان اسی کوشش میں ہو کہ ناظرین کو کہیں موضوع کا پتا نہ چل جائے۔ پھر، اگر میری مبینہ شہرت کی بنیاد نو عمری میں تقریری مقابلوں کے در جن بھر انعامات ہوں تو یہ ایک وقتی سی بات ہوئی۔ آج کسے یاد کہ جب انٹر کالجئیٹ مباحثوں کے مقبول مقرر اور بعد کے منفرد کالم نگار خالد حسن نے مرے کالج، سیالکوٹ میں سائینس اور آرٹ والی ڈیبیٹ میں سر درد کے لئے لتا منگیشکر کے گیت کو اسپرو سے بہتر گولی قرار دیا تھا تو صاحب صدر فیض احمد فیض نے مقرر کے والد ڈاکٹر نور حسین کی طرف غور سے کیوں دیکھا۔

مشہور آدمی سے یہ مراد نہیں کہ انسان قائم مقام وزیر اعظم یا زمبیا میں پاکستانی سفیر بننے کی اہلیت رکھتا ہو۔ اِس قسم کی مشہوری کا کیڑا تو اپنے دماغ سے اسٹوڈنٹس یونین کے الیکشن میں ایک آدھ ہیرا پھیری کرنے اور ایک آدھ ہیرا پھیری سہنے کے بعد ہمیشہ کے لئے نکل گیا تھا۔ پھر بھی دن اور رات کے جھٹپٹوں کے درمیان ایک شفق کا علاقہ بھی ہوتا ہے۔ جیسے تیس بتیس سال پہلے کے پی ٹی وی لاہور سے اپنی نوخیز کمپئیرنگ کی داد مری کی مال پہ ایک چار سالہ بچے کی زبان سے یہ سُن کر ملی کہ امی، وہ۔۔۔ وہ ڈرامے والا آدمی جا رہا ہے۔ اِس پہ میرے زیر کمان دوستوں کی پلٹن نے خوب قہقہے لگائے تھے، مگر بندے کو اطمینان تھا کہ واقفیت کا دائرہ آہستہ آہستہ وسیع تر ہو تا جا رہا ہے۔ کیا پتا تھا کہ آنے والے دنوں میں انسانی تعلق کی اجنبی چڑھائیاں بھی چڑھنا ہوں گی۔

شعبہ ء تدریس میں آ جانے کے بعد اُن طلبہ کو یاد رکھنا کبھی مشکل نہیں لگا جن کی تخلیقی اٹھان منفرد نوعیت کی ہوتی۔ دوسرے وہ ’چھانگے‘ جنہوں نے کلاس روم میں کار کردگی تو نہ دکھائی مگر عملی زندگی میں یوں سرپٹ گھوڑے دوڑائے کہ کئی بار منزل کو اوور ٹیک کرتے ہوئے آگے نکل گئے اور پھر سوچا کہ اوہو، جانا تو دوسری طرف تھا۔ یہ تو ہیں وہ لوگ جن کی پہچان آسانی سے ہو جاتی ہے۔ لیکن دونوں گروہوں کے درمیان ایک مجمع ء عام بھی ہے جس نے پروفیسر صاحب کو ایک ایسی جگہ لا کھڑا کیا جہاں شہرت کا سورج عین سر پہ تو نہیں چمکتا، لیکن ٹھٹھرتے ہوئے اکیلے پن میں ایک نیم گرم سی دھوپ دل و جاں کو حرارت ضرور بخشتی ہے۔ ”بھئی تمہارا چہرا جانا پہچانا سا لگتا ہے‘‘۔ آپ نے یہ کہا اور سابق شاگرد یا ریڈیو، ٹی وی، اخبار کے نوجوان ساتھی نے اپنا تعارف خود ہی کرا دیا۔

جن لوگوں نے نیم شناسائی کی اسِ کامیاب تکنیک کو اوج کمال پہ پہنچایا اُن میں انعامی ٹرافی تو شعر و ادب کے استاد اور مستند ایڈیٹر فیض احمد فیض کو ملے گی اور رنر اپ ہوں گے گورڈن کالج راولپنڈی کے پروفیسر نصراللہ ملک۔ دونوں بزرگوں نے کبھی پتا نہ چلنے دیا کہ وہ آپ کو جانتے ہیں یا نہیں، اور اگر جانتے ہیں تو کس حد تک۔ ”تمہارے نام پہ آئیں گے غمگسار چلے‘‘ کہنے والے فیض صاحب کو مسکرانے کے لئے کبھی شعوری کوشش نہ کرنی پڑی۔ نصر اللہ ملک کو بھی نیم آشنا شکلوں کو جوڑے رکھنے کا ملکہ حاصل تھا۔ اسی لئے تو 1980کی دہائی کے آغاز پر جب وہ کسی مفروضاتی بائیں بازو سے وابستگی کی بنا پہ بطور سزا ڈیرہ غازی خان میں متعین تھے، ایک دن پنڈی میں انہوں نے پہچانے بغیر بھر پور ’ٹیوا‘ لگا کر مجھے خوش کر دیا ”لگتا ہے حالیہ برسوں میں تم خاصے میچیور ہو گئے ہو“۔

انسانوں کے بارے میں یہ قیافہ شناسی ہر کسی کے بس کا روگ نہیں ہوتی۔ فوج میں عمومی علاقے کا ایک تصور ہے، جیسے ’جنرل ایریا آف گوجر خان‘۔ اسی طرح آزمودہ کار اساتذہ پہلے تو کسی کا ایک عمومی زائچہ بناتے ہیں اور پھر اندازہ لگاتے ہیں کہ اگر کسی طالب علم نے میرزا ریاض سے اردو اور آفاق حسین قاضی سے سوِکس پڑھی تو یہ میرزا صاحب کی ریٹائرمنٹ سے پہلے کا زمانہ ہو گا جب ہمارے مذکورہ دوست لیلائے افسری کی تڑپ میں بے چین نہیں ہوئے تھے۔ جب بندہ رینج میں آ گیا تو تاریخی نیوز ریڈر شکیل احمد دادا کی طرح ٹھیک ٹھیک نشانے لگانے کے لئے اُس دور کے چند طلبہ کے نام لے کر مزید پڑتال کر لی۔ اب داغا تپاک کا گولہ۔ اگر چھوٹتے ہی کہہ دیتے کہ اہا، آپ مجھ سے پڑھتے رہے ہیں تو میری طرح جواب ملتا کہ ”نہیں سر، میں آپ کے چھوٹے ماموں کا بیٹا نومی ہوں‘‘۔

ویسے بسا اوقات یوں بھی ہوا کہ کسی معمولی سے اشارے نے پہیلی بجھوا دی اور ہدف کا یہ حال کہ گولہ اسے نہیں لگا بلکہ وہ خود جا کر گولہ کو جا لگا۔ اب اسے کیا کہئے کہ راولپنڈی کی سٹی صدر روڈ پہ خان ٹائر شاپ پہ کسی کے ساتھ پتا نہیں کیوں چائے پیتے پیتے دکان والے نے کہہ دیا کہ اس نے ایف۔ جی۔ سرسید کالج سے ایف ایس سی کی تھی۔ تعلیمی سال بھی وہی بتایا جو میری زد میں تھا۔ اب جو پوچھا ہے کہ آپ نے انگریزی کس سے پڑھی تو جواب ملا کہ وہ کوئی نئے نئے ایم اے کر کے آئے تھے، تین ماہ کے بعد چلے گئے مگر تھے رائل آدمی۔ خدا کی قسم، مَیں نے اپنا موکل اِنہی دو جادوئی الفاظ سے قابو کیا۔۔۔ ’رائل آدمی‘۔ میرے منہ سے نکلا ”یار وہ مَیں تھا‘ ‘۔ دونوں اٹھ کر ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں۔ چائے کی پیالی رات کے کھانے میں بدل جاتی ہے، ساتھ بے تحاشا قہقہے۔

ایک کہانی اور ہے، جب لاہور کی عسکریX میں میری بہن کے پڑوسی نے سرسری ملاقات میں آبائی شہر کا نام لے لیا۔ آگے سوال کرنے کا حق میرا تھا، اس لئے کالج، کلاس اور تعلیمی سیشن کا پوچھ کر ایک اضافی تصدیق چاہی۔ وہ یہ کیا آپ فرسٹ ائر میں بنچوں کی درمیانی قطار میں دوسرے نمبر پر اور استاد کے ویو پوائنٹ سے انتہائی دائیں جانب بیٹھ کر ایک شریفانہ ہنسی ہنستے رہتے تھے۔ کرنل صاحب اُٹھ کر کھڑے ہو گئے اور میری یادداشت کی داد دی۔ پر وہ جن کے ذکر سے بات شروع کی تھی، وہ حوالہ خاصی کھدائی کے باوجود ہاتھ نہیں آیا۔ ہاں، کورونا رُت میں ماضی کے مقبول کمپئیر اور یاروں کے یار دلدار پرویز بھٹی البتہ یاد آ گئے ہیں۔ اِس لئے کہ انہوں نے پہلی بار ہاتھ ملا کر پوچھا ”کیوں جی، آپ مجھے نہیں جانتے؟‘‘ اور مَیں نہ جانتے ہوئے بھی نفی میں جواب نہیں دے سکا تھا۔

مزید :

رائے -کالم -