ہماری سیاست اور کورونا، کوئی تبدیلی نہیں!

ہماری سیاست اور کورونا، کوئی تبدیلی نہیں!
ہماری سیاست اور کورونا، کوئی تبدیلی نہیں!

  

قرنطینہ (خود اختیاری) میں ہونے کی و جہ سے جدید مواصلاتی آلات غنیمت ہیں۔ جن کی وجہ سے اس سماجی دوری میں کچھ کمی محسوس ہوتی ہے۔ لینڈ لائن فون کے استعمال کی نوبت تو اب مشکل ہی سے آتی ہے۔ موبائل فون ہی رابطے کا ذریعہ ہے اور اسی پر فیس بک، ٹویٹر اور ویٹس ایپ کی وجہ سے حالات حاضرہ سے آگاہی ہوتی ہے تو دوستوں، رشتہ داروں کی خیریت بھی معلوم ہوتی ہے۔ اب چند روز سے مزاج میں ایسی مایوسی نما بیزاری پیدا ہوتی جا رہی ہے کہ خود سے اپنوں کی بھی خیریت معلوم کرنے میں سستی چھا گئی ہے۔ اب تو یہ سطور لکھتے ہوئے بھی ذہنی یکسوئی حاصل نہیں، صبح ہی صبح ایک دوست کا فون آیا اور اس کی طرف سے توجہ دلانے پر یہ سطور موضوع زیر بحث تحریر کرنے کی ہمت کر ہی لی۔ جب فون نے خیریت کم معلوم کی اور اظہار خیال زیادہ کیا۔ بہر حال ان کا اصل مدعا اور منشاء یہ معلوم کرنا تھا کہ کارونا وبا کے اس مشکل ترین مرحلے کے دوران بھی سیاسی چپقلش اور سیاسی حکمت عملی کیوں؟ میرے پاس کہنے کے لئے بہت کچھ ہے لیکن طبیعت ہی مائل نہیں ہو رہی۔ تاہم دوست کے توجہ دلانے پر یہ بتانا ضروری خیال کیا کہ چودھری برادران (چودھری شجاعت+ چودھری پرویز الٰہی) آج نہیں ہمیشہ سے محفوظ سیاست کے کھلاڑی ہیں اور برے وقت کو بھی خوبصورتی سے ٹالنے کا فن جانتے ہیں، یوں بھی اگر حساب ہی لگایا جائے تو اقتدار میں ان کے حصے کی مدت باقی سب سیاست دانوں سے زیادہ ہے۔ ان کے بزرگ چودھری ظہور الٰہی نے جو مشکل وقت گزارا وہ تو اس خاندان کی سیاست کا صدقہ تھا ورنہ چودھری شجاعت حسین سابق وزیر اعظم ہیں، چودھری پرویز الٰہی سپیکر وزیر اعلیٰ پنجاب، ڈپٹی وزیر اعظم رہے اور اب بھی سپیکر ہیں وہ کون سا دور اقتدار ہے، جو جنرل ضیاء الحق سے اب تک آیا ہو جس میں یہ خاندان اقتدار میں شامل نہیں رہا۔ ان کا ایک کریڈٹ بہر حال یہ بھی ہے کہ ان کے حلقے مضبوط ہیں اور یہ منتخب بھی ہو جاتے ہیں۔ ایک آدھ بار ہی ایسا ہوا۔ جب ان کو اپنے حلقے سے شکست ہوئی۔ یہ سب ان حضرت کے فون ہی کی وجہ سے یاد آیا اور ہم نے ان کو یاد دلایا کہ چودھری پرویز الٰہی اگر آئین میں کوئی شق نہ ہونے کے باوجود نائب وزیر عظم تھے تو انہوں نے ایک مشکل دور میں پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا کردار بھی نبھایا تھا، تب حال قائد قومی حزب اختلاف محمد شہباز شریف ”علاج“ کے لئے لندن تشریف لے گئے اور چودھری پرویز الٰہی نے ان کی عدم موجودگی میں غیر سرکاری طور پر قائد حزب اختلاف (پنجاب اسمبلی) کے فرائض پورے یقین اور اعتماد سے نبھائے تھے اور پارٹی میں اپنی پوزیشن مضبوط کی اور یہ ان کے کام اس وقت آئی جب جنرل (ر) پرویز مشرف کی معاونت کے لئے مسلم لیگ (ق) بنائی گئی اور میاں محمد اظہر سے بھی پارٹی اقتدار لیا گیا۔

یہ پس منظر بیان کرنا بھی مجبوری کہ آج کی صورت حال کا ادراک نہ ہو پاتا اگر یہ نہ بتایا جاتا تو، آج کل چودھری پرویز الٰہی سپیکر ہوتے ہوئے اتنے فعال ہیں کہ ان کو ”ڈیفیکٹو“ پنجاب کا حکمران ہی سمجھا جاتا ہے۔ وزارت اعلیٰ کی ریس میں ان کے نام کی دھوم تھی، تجربے کی بناء پر فیورٹ بھی تھے کہ مقتدر حلقوں کو اعتراض بھی نہیں تھا، تاہم وزیر اعظم عمران خان نے ان کو سپیکر بننے پر راضی کر لیا اور پھر چودھری صاحبان نے سردار عثمان بزدار کی حمایت بھی کر دی اور اب تک وہ ان کی وزارت اعلیٰ کے تحفظ کی ذمہ داری بھی نبھا رہے ہیں، تاہم وہ (ماشاء اللہ) اتنے ماہر اور سیانے ضرور ہیں کہ اپنا اور اپنے ساتھیوں کا تحفظ بھی یقینی بناتے اور محدود نشستوں کے باوجود اقتدار کے مزے لے رہے ہیں، قارئین! خود ہی اندازہ لگا لیں کہ چودھری پرویز الٰہی کل جماعتی پارلیمانی کمیٹی بنا کر کتنے فعال ہیں اور ویڈیو اجلاس منعقد کر کے ایسی تجاویز دیتے ہیں جن سے ان کے وجود اور سیاسی قد کاٹھ کا اندازہ ہوتا ہے۔ بہر حال مسلم لیگ (ق) کی بیساکھی بہت مضبوط ہے۔ میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو چلتا رہے گا۔

یہ بھی ہمارے دوست کی مہربانی کہ اتنا بتانا ہی پڑا کہ اقتدار کے پردے میں کیا کیا ہوتا ہے۔ محاذ آرائی تو تحریک انصاف ہی کے حصے میں رہے گی ا ور اللہ بھلا کرے ان کا کہ یہ خدمت، وہ مسلسل انجام دے رہے ہیں اور ہمارے اکثر بھائیوں کی یہ بھی بھول ہے کہ اس پالیسی میں کوئی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ تبدیلی یہی ہے جس کا پہلے ذکر کیا جا رہا ہے کہ غیر اعلانیہ سہی اقتدار میں شرکت موجود ہے۔ ویسے بھی سیاسی گراؤنڈ (میدان) کا منظر بھی کھلا ہے کہ تحریک انصاف کو وفاق میں حزب اختلاف (بکھری ہوئی) پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور سندھ میں پیپلزپارٹی سے نمٹنا ہوتا ہے۔ پنجاب میں اقتدار والا تو مسئلہ نہیں۔ صرف برسر زمین حمایت والی بات ہے کہ بلدیاتی اداروں میں مسلم لیگ (ن) کی بہت بھاری اکثریت تھی، جسے نئے قانون کے باعث ادارے توڑ کر ختم کرنا پڑا اور اب (انشاء اللہ) تحریک انصاف یہ معرکہ جیتے گی جب بھی وقت آیا کہ یہ ٹائیگر فورس صرف غریبوں کی محبت میں تو نہیں بنی۔ انہی میں سے بلدیاتی قیادت ابھرے گی کہ پاکستا ن کو نیا پاکستان بنانے کا عمل جاری ہے۔ ایسے میں اپنے قائد حزب اختلاف کی تڑپ بھی عوام کو محظوظ کرنے کا ذکر ہوا۔ جو قومی الیکٹرونک میڈیا پر تو زیادہ دیر نہ چلا لیکن سوشل میڈیا پر اب بھی جاری و ساری ہے۔ اپنے شہباز کرے پرواز نے جو کچھ بتایا وہ آس امید والا تو کہلا ہی نہیں سکتا بلکہ اگر یہ کہیں کہ محترم نے فرزند راولپنڈی شیخ رشید کی تحیر آمیز گفتگو ہی کی تائید کر دی ہے اچانک ذکر تو اس انٹرویو کا چلا، حالانکہ اس سے قبل ایک کالم نویس سے ملاقات ہوئی اور اس محترم نے اپنے کالم میں یہ سب بتا دیا تھا جو سچ ہی محسوس ہوتا ہے اور افسوسناک کہا جا سکتا ہے، کہ سر آئینہ اور پس آئینہ کا راز بھی آشکار ہو جاتا ہے اور موصوف نے خود ہی ایک صفحہ والی تصدیق کر دی، اب ڈر کاہے کا کہ ”سیاں بھیئے کوتوال“ لہٰذا سیاست تو یہی ہے، جس کا ذکر کر دیا، اگرچہ آپ سب خود بڑے سیانے ہیں اور ایسے ہی سمجھدار کا فون تھا جس کی وجہ سے قلم ادھر چل نکلا۔

بات مکمل نہیں ہوئی اگر نئی صورتحال حال (جو بہت پرانی ہے) کا ذکر نہ کیا گیا تو، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری یہ کہہ کر قرنطینہ میں چلے گئے تھے کہ کورونا وبا کی وجہ سے سیاست نہیں ہو گی۔ وہ طویل خاموشی کے بعد بولے اور تھوڑی سی گرمی دکھائی تو جناب محترم کپتان کے کھلاڑی تو پہلے ہی سے فیلڈ پوزیشن پر موجود تھے، بیک وقت پورا بریگیڈ ہی حملہ آور ہو گی اور ثابت ہوا کہ کورونا وبا نے ہماری سیاست پر کوئی مثبت اثر نہیں ڈالا، ہم مرتے رہیں، ان کو اپنی سیاست سے غرض ہے، دلچسپ حقیقت جو آشکار ہوئی وہ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کی وہ تنقید ہے جو بلاول بھٹو کے بیان پر کی گئی بہت سے لوگ مایوس ہوگئے کہ وہ بھول گئے تھے کہ شبلی فراز تحریک انصاف کے باقاعدہ رکن ہیں، بہرحال یہ داد تو دیں کہ بات سخت لیکن مہذب انداز میں کی گئی۔

مزید :

رائے -کالم -