کرونا اور یہودی سیاست

کرونا اور یہودی سیاست
کرونا اور یہودی سیاست

  

یروشلم کا میاشرم علاقہ دنیا بھر میں معروف ہے۔ یہ الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کی آبادی ہے۔ کالے ہیٹ اور سیاہ سوٹ میں ملبوس یہودی یہاں ہمہ وقت چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ دنیا بھر سے سیاح انہیں دیکھنے کے لئے آتے ہیں مگر ان کے علاقے میں جانے کے لئے خواتین کا مناسب لباس میں ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح سیاح کوئی بھی غیرمناسب حرکت کرنے سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ یہاں کے باسی اپنے کلچر اور مذہب کے متعلق بہت حساس ہیں۔ مگر 16 اپریل کو اسرائیلی پولیس نے اس علاقے میں دھاوا بول دیا۔ جس پر شدید ردعمل ہوا۔یہودیوں نے اسرائیلی پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔ انہیں نازی قرار دیا۔ ان کے خلاف سو سے زائد لوگوں نے مظاہرہ کیا۔ تاہم اسرائیلی پولیس نے یہاں ایسی سختی برتی جو عام طور پر عرب علاقوں میں نظر آتی تھی۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھر، انڈے اور دوسری اشیاء پھینکیں۔ تین پولیس آفیسر زخمی ہوئے۔ ان میں سے ایک کو ہسپتال بھی شفٹ کرنا پڑا۔

اسرائیل میں یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ پولیس نے میاشرم میں ہی یہ آپریشن نہیں کیا تھا بلکہ پورے اسرا ئیل میں الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کی آبادیوں میں آپریشن کیا تھا۔ یہ آپریشن کورونا وائرس کی وجہ سے کیا گیا تھا۔اسرائیل میں الٹرا آرتھوڈاکس یہودیوں کی تعداد کل آبادی کا تقریباً 15 فی صد ہے۔یہ اسرائیلی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔ صہیونیت کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ یہ اسرائیل کو جائز حکومت قرار نہیں دیتے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ مذہبی تقاضوں کو پورا نہیں کرتی۔ یہ اسرائیل کی آزادی کی تقریبات میں حصہ نہیں لیتے اور یہ اپنے بچوں کو فوج میں بھی نہیں بھجواتے۔ یہ الیکشن کے خلاف مظاہرے کرتے رہتے ہیں مگر ان کے نمائندے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں اور چند نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے ان کی نشستیں حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ اس لئے یہ حکومت کو ایک حد تک بلیک میل بھی کرتے ہیں۔

الٹرا آرتھوڈکس یہودیوں کا اپنا طرز زندگی ہے۔ ان کے مرد عام طور پر کوئی کام نہیں کرتے اور اکثرحکومت کے فراہم کردہ الاؤنس پر گزارہ کرتے ہیں۔ یہ سارا دن مذہبی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ تورات پڑھنا ان کی زندگی ہے۔ یہ پاپولیشن پلاننگ کے متعلق حکومتی ہدایات پر بالکل عمل نہیں کرتے اور اکثر لوگوں کے درجن سے زائد بچے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں کی بیویاں جاب کرتی ہیں۔ تاہم وہ پردے کی سختی سے پابندی کرتی ہیں۔ وہ اپنے بالوں کو دوسرے مردوں سے چھپانے کا خصوصی اہتمام کرتی ہیں۔ لمبے سکرٹ پہنتی ہیں۔ سیکولر یہودی انہیں زیادہ پسند نہیں کرتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکومت کے فنڈز پر زندہ ہیں۔ تاہم ان کی مذہبی حیثیت کی وجہ سے ان کا احترام بھی کیا جاتا ہے۔ اکثر آرتھوڈوکس یہودیوں کوکٹر اور ضدی سمجھا جاتا ہے۔ وہ جس چیز کو مذہبی طور پر درست سمجھیں اس پر سختی سے عمل کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ اس پر عمل کریں گے۔یہ کٹر یہودی کورونا وائرس کے متعلق اسرائیلی حکومت کی ہدایات کو پسند نہیں کرتے۔ وہ اپنی عبادت گاہوں کو سرکاری ہدایات کے مطابق بند نہیں کر رہے ہیں۔ اجتماعات سے گریز نہیں کرتے۔

اسرائیل کا شمار کورونا وائرس کے حوالے سے متاثرہ ممالک میں ہوتا ہے۔ 98 لاکھ آبادی والے اس ملک میں تقریباً سولہ ہزار افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں اور 219 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ یعنی اسرائیل کی آبادی لاہور سے بھی کم ہے اور اتنے چھوٹے ملک میں اسے خاصی گھمبیر صورتحال قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار ان لوگوں کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہو سکتے ہیں جو کورونا کو یہودی سازش قرار دیتے ہیں اور ان کے خیال کے مطابق اسرائیل میں اس کی ویکسین تیار ہو چکی ہے۔ لیکن اگر آپ اسرائیلی اخبارات کا مطالعہ کریں تو بالکل ایک دوسری تصویر سامنے آتی ہے جس میں اسرائیلی حکومت بڑی حد تک بوکھلاہٹ کاشکار ہے اور ان آرتھوڈوکس یہودیوں کے متعلق اسے سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ کیا پالیسی اختیار کی جائے۔ کورونا وائرس کی ابتداء میں انہوں نے ان یہودیوں سے الجھنا مناسب نہیں سمجھا۔ جس وقت دنیا بھر میں تمام مذاہب کے لوگ اپنی عبادت گاہوں کو بند کر رہے تھے اس وقت اسرائیلی حکومت نے ان یہودیوں کے دباؤ کی وجہ سے مقدس ترین یہودی عبادت گاہ دیوار گریہ کو بند نہیں کیا۔ اس کے علاوہ بہت سی دیگر یہودی عبادت گاہوں کے لئے ہدایات جاری کیں لیکن ان پر عملدرآمد پر اصرار نہیں کیا۔ ماہ اپریل میں ہی یہودیوں کے ایک تہوار میں لوگ بڑی تعداد میں مختلف جگہوں پر رات کو اکٹھے ہوئے۔ اس کے بعد کورونا وائرس تیزی سے پھیلا اور حکومت کے لئے اقدامات کرنا ناگزیر ہو گیا۔

اسرائیل کے بعد الٹرا آرتھوڈوکس یہودی نیویارک میں آباد ہیں۔ وہاں بھی انہوں نے سرکاری ہدایات کو نظرانداز کر دیا اور اپنے معمولات اس اعلان کے ساتھ جاری رکھے کہ ان کا اکٹھے ہو کر تورات پڑھنا نہ صرف یہودیوں بلکہ پوری دنیا کی بقا کے لئے ضروری ہے۔ نیویارک کے میئر اس وقت چیخ اٹھے جب انہیں پتہ چلا کہ کٹر یہودیوں کی بڑی تعداد ایک یہودی عالم (ربی) کی تدفین کی رسومات میں شامل ہونے کے لئے اکٹھی ہوئی ہے۔

چند برس قبل نیویارک ٹائمز کے معتبرصحافی تھامس فرائیڈ مین نے"From Beirut to Jerusalem" کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جس میں انہوں نے اسرائیل میں الٹرا آرتھوڈکس یہودیوں کے کردار کا جائزہ لیا تھا۔ تھامس فرائیڈ مین خود بھی یہودی ہیں اور انہوں نے نیویارک ٹائمز کے بیورو چیف کے طور پر اسرائیل میں خاصا وقت گزارا ہے۔ تھامس فرائیڈ مین کا کہنا ہے کہ اسرائیل سیکولر یہودیوں نے بنایا تھا۔ اس کے بعد پوری دنیا سے یہودیوں کو یہاں آباد ہونے کی دعوت دی گئی۔ اسرائیل آنے والے یہودیوں میں الٹرا آرتھوڈوکس یہودی بھی شامل تھے۔ ان کے اسرائیلی حکومت کے متعلق خیالات کے متعلق ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں۔ فرائیڈمین کے خیال کے مطابق مختلف اقسام کے ان یہودیوں کی وجہ سے اسرائیل ایک قسم کے تعطل کا شکار ہو گیا۔ قومی امور کے متعلق پالیسیاں بنانا ممکن نہیں رہا۔ ہو سکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو فرائیڈ مین کے خیالات پر حیرت ہو کہ سچی بات یہ ہے کہ اندرونی تضادات کی وجہ سے اسرائیل بہت سے اہم فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس کے رہنما اہم معاملات کو کل پر ڈالتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اسرائیل عربوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہے۔ معروف اطالوی صحافی اوریانافلاسی نے ایک مرتبہ یاسرعرفات سے یہ سوال کیا تھا کہ آپ یہ تو تسلیم کریں کہ اسرائیلی زبردست ہیں اور وہ جیت رہے ہیں۔ اس پر یاسرعرفات نے برجستہ کہا تھا کہ اسرائیلی اپنے مثبت نکات کی وجہ سے نہیں جیت رہے ہیں بلکہ وہ عربوں کے منفی نکات کی وجہ سے جیت رہے ہیں۔

کورونا نے اسرائیل کی سیاسی وحدت کے متعلق تضادات کو نمایاں کیا ہے اور یہاں ہمیں کیرن آرمسٹرانگ یاد آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ عربوں کے پاس جنگیں ہارنے کے ہزار مواقع ہیں مگر اسرائیل ایک جنگ ہارنے کا رسک بھی نہیں لے سکتا۔ کیرن تو اسرائیل کے قیام کو عیسائیوں کی سازش قرار دیتی ہے۔اس کا خیال ہے کہ عیسائیوں نے سینکڑوں سالوں پر محیط صلیبی جنگوں کے تجربے سے یہ سیکھا تھا کہ حریف عرب ریاستوں کے درمیان عیسائی ریاست قائم نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے اس جگہ یہودی ریاست قائم کر دی مگر اس یہودی ریاست نے بھی اسی طرح ناکام ہونا ہے جس طرح یروشلم میں قائم ہونے والی عیسائی ریاستیں قائم ہوتی رہی ہیں۔ مگر یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہو گا اگر اسلامی ریاستیں دورجدید کے تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت حاصل کریں گی وگرنہ اسرائیل کی طاقت میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم -