برصغیر کے جاتی سسٹم میں مسلمانوں کا مقام(1)

برصغیر کے جاتی سسٹم میں مسلمانوں کا مقام(1)
برصغیر کے جاتی سسٹم میں مسلمانوں کا مقام(1)

  

میں َ نے 1951 میں 15 سال کی عمر میں دہلی سے ہائر سکنڈری تک تعلیم حاصل کی۔ تقسیم ِہند کے وقت میں َ تحصیل جگراؤں (اب یہ ضلع بن گیا ہے) ضلع لدھیانہ میں اپنے دادا کے ساتھ رہتا تھا۔تقسیم کے بعدوالد صاحب نے ملازمت کے سلسلے میں ہندوستان میں ہی رہنا پسند کیا اور اس لئے میرے دادا پاکستان ہجرت کرنے سے پہلے مجھے میرے والد صاحب کی تحویل میں دے کر پاکستان ہجرت کر گئے۔ سکول کے زمانے میں میری دوستیاں ہندو کلاس فیلوز کے ساتھ ہو گئیں۔ سِکھ بھی دوست بن گئے۔ اُن کے گھروں میں آنا جانا بھی ہوتا تھا۔ 15 سال کی عمر کافی سمجھداری کی عمر ہوتی ہے۔ میں َ جب بھی کسی ہندو دوست کے گھر جاتا تھا تو میرے لئے گھر کی رسوئی (باورچی خانہ)میں داخلہ ممنوع تھا۔ سِکھ دوست یا پنجابی ہندؤں کے گھروں میں اتنی سخت پابندی نہیں تھی لیکن مقامی ہندو ضرور یہ چھو ت چھات رکھتے تھے۔ اُس وقت میرے ہم عمر ہندو اور سِکھ یہ سمجھتے تھے کہ ہم مسلمان اصل ہندوستان کے باشندے نہیں ہیں بلکہ ہم عرب سے آئے ہیں۔ غالباً یہ لڑکے اپنے بزرگوں سے اس قسم کی غلط باتیں سنتے ہونگے۔ مجھے بھی زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ سکول کی تعلیم ختم کرتے ہی والد صاحب نے محسوس کر لیا تھا کہ مسلمان نوجوانوں کا ہندوستان میں کوئی مستقبل نہیں ہے اس لئے اُنہوں نے مجھے 1951 میں ہی پاکستان بھیج دیا تھا۔ ابھی ہندوپاک کے سفر کے لئے پاسپورٹ سسٹم شروع نہیں ہوا تھا۔ پرمٹ ہوتا تھا جو پاکستان کے ہائی کمیشن دہلی سے ملتا تھا۔ پاکستان پہنچ کر بہت ساری ملازمتیں کیں۔ ملازمت کے دوران ہی اپنی تعلیمی استعداد بڑھائی،ملازمتوں کے دوران 30 سال تک تمام دنیا دیکھی، خاص طور پر عرب ممالک میں 10 سال تک لگاتار (کم از کم 2 ماہ اور زیادہ سے زیادہ 6 سال) رہائش رکھنے کی وجہ سے ہر عرب ملک کی ثقافت، عربی زبان کے مختلف لہجے اور اسلوب اور اِن ملکوں کے عوام کا پاکستانیوں کے ساتھ سلوک کا بھی مشاہدہ کیا۔ ہندوستانیوں کے ساتھ عربوں کا بہتر سلوک بھی دیکھا۔ تمام جزیرۃ العرب میں مالا باری اور حیدر آبادی مسلمانوں کا اثر و رسوخ زیادہ ہے۔ مصر، لیبیا، مراکش اور سوڈان میں بھی ہندو کافی تعداد میں ملازمت کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ اب 2014 میں جب میں َ عمر کے 78 سال سے زیادہ گرم سرد دیکھ چکا ہوں تو مجھے خیال آیا کہ بچپن میں میرے ہندو اور سِکھ دوست کیوں کہتے تھے کہ ہم ہندوستانی مسلمان عرب سے آئے ہیں۔

اپنے اس مضمون میں میری کوشش ہے کہ میں بتا سکوں کہ آج کے برصغیر میں جو 58 کروڑ مسلمان رہتے ہیں، کیا وہ تمام کے تمام عرب نسل کے ہیں یا مقامی آبادی جو ہندؤں کی چار ذاتوں (جاتی) پر مشتمل ہے اُن ذاتوں میں سے آئے ہیں، دراصل بچپن میں جو میں َ سنتا تھا کہ ہندوستانی مسلما ن عربی النسل ہیں تو یہ اتنا غلط بھی نہ تھا۔ دراصل دینِ اسلام برصغیر میں اوّلاً عرب تاجروں کے ذریعے ہی آیا تھا۔ ظہور ِ اسلام سے قبل بھی عرب تاجر ہندوستان کے مالابار کے ساحلوں سے گذرتے ہوئے مدراس، اڑیسہ، ملایا، انڈونیشیااور چین کی بندرگاہوں تک جاتے تھے۔ جب عرب دین ِ اسلام پر ایمان لے آئے تو تجارت کے ساتھ ساتھ وہ اپنے مقامی تاجروں کو دعوت ِ اسلام بھی دیتے تھے۔ اسلام سے پہلے عرب بھی ہندؤں کی طرح بُت پرست تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد جب عرب تاجروں نے ہندوستان کے ساحلی ہندو تاجروں کو دعوت ِ اسلام دی تو اُن میں سے اکثر کلمہ گو ہو گئے۔ مالا بار کے اوّلین مسلمان ملیالم زبان میں موپلے کہلائے۔ خیال رہے جغرافیائی لحاظ سے صرف کیرالا کا ساحل مالا بار نہیں کہلاتا بلکہ میسور اور اُڑیسہ تک کا ساحل مالا بار ہی کہلاتا ہے لیکن تاریخی طور پر ہم کیرالا اور ریاست میسور (جو کرناٹک کا اب حصہ ہے) کے مسلمانوں کو موپلے مسلمان ہی کہتے ہیں۔ سلطان حیدر علی اور اُس کا بیٹا ٹیپو سلطان بھی موپلے ہی کہلائیں گے۔ قریباً 100 سال تک اسلام کا پھیلاؤ ہندوستان کے جنوب میں ہی عربوں کے ذریعے ہوتا رہا۔ عرب تاجروں کے بعد ترویجِ دینِ ا سلام ہندوستان کے شمالی صوبہ ملتان میں 711؁ء میں بذریعہ ایک عرب مسلمان حملہ آور سے ہوئی۔ محمد بن قاسم بنی اُمیہ کے زمانے کا بحری سالار تھا جو اُس وقت کے ہندو راجہ داھر کی سر کوبی کے لئے اس لئے آیا تھا کہ راجہ کی تحویل میں کراچی کے ساحلوں کے قریب سے جو بحری جہاز گذرتے تھے اُن کو راجہ کے لوگوں نے نہ صرف لوٹا بلکہ اُن کی خواتین کو یرغمال بنایا اور اُن کی بے عزتی بھی کی۔ عرب مسلمان حکمران اس قابل ہو چکے تھے کہ وہ اپنے شہریوں کی مدد کے لئے کسی بھی ملک کو سزا دے سکتے تھے۔ سندھ اور ملتان تک محمد بن قاسم فتحیاب ہو کر واپس گیا تو اُس کے با اِخلاق روّئیے سے بہت سے اعلیٰ جاتی کے ہندو بھی مسلمان ہو گئے۔ انہی نو مسلم ہندو سرداروں کو مفتوحہ علاقوں کی حکومت سونپ دی گئی۔ چھوٹی ذاتوں کے ہندو بھی مسلمان ہونے شروع ہوگئے۔ سندھ کی ہندو ثقافت کا یہ رواج تھا کہ چھوٹی جاتی کے مرد و زن بڑی جاتی کے آگے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوں، بڑی ذات کے ہندو کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر برکت حاصل کریں، یہ ہی تحقیر آمیز روّیہ ہمارے آج کے سندھ میں ابھی تک رائج ہے۔ گھٹنوں کو ہاتھ لگانا بطور عزت احترام کے تمام ہندوستان میں سوائے سندھ کے اور کہیں نہ تھا اور نہ ہے۔ جنوبی ہندوستان میں تو پیروں کو ہاتھ لگانا بھی بطور تعظیم کے رائج نہیں ہے سوائے شمالی ہندوستان، بہار اور راجھستان کے۔ سندھ میں جب اُونچی ذات کے ہندہ مسلمان ہوئے تو اُنہوں نے بعد میں مسلمانوں کی خانقاہوں پر بھی قبضہ کیا اور اپنے آپ کو سیّد کا خطا ب بھی دے ڈالا۔ سیّد کا مطلب عربوں کے ہاں آل ِ رسول نہیں ہے۔ یہ فقط ایک رسمی سا عزت کا لفظ ہے جس کو چالاک نو مسلم اعلیٰ جاتی کے ہندؤں نے اپنا لیا۔ برہمن اور راجپوت ذات کے ہندؤں کے لئے اپنے آپ کو سیّد کہلانا پنڈت جی یا رانا صاحب کہلانے کے مترادف تھا۔

برصغیر کے شمال سے جو مسلمان حملہ آور آئے وہ محض فتوحات اور ہندوستان کی دولت کے لئے آئے۔ غزنوی، غوری، ترک سلطان، پٹھان اور مغل اسلام پھیلانے نہیں آئے تھے۔ اُن کا مقصد خالصتاً ملک گیری تھا۔ اِن حکمرانوں کے ساتھ اہل دین بھی آئے اور اُنہوں نے کشادہ دِلی سے دین ِ اسلام کی دعوت ِ عام کی۔ ہندؤں کے حکمران طبقے اور پنڈتوں نے حملہ آوروں کے ساتھ امن کا معاہدہ کر لیا۔ لیکن نیچی ذاتوں کے ہندؤں کو ہمارے اولیائے کرام نے سینے سے لگایا۔ یہ چھوٹی جاتیاں تو پہلے ہی بڑی جاتی کے ہندو کی چھوت چھات سے نالاں تھیں، وہ دھڑا دھڑ مسلمان ہونا شروع ہوگئے۔ اُن جاتیوں کے لئے سب سے بڑا تحفظ یہ تھا کہ اُن کا مذہب وہ ہی ہو گیا تھا جو فتح یاب حملہ آوروں کا تھا۔ اِن لوگوں کو تو اپنے مال و جان کی فکر تھی۔ مسلمان ہونے سے اُنہیں تحفظ ملتا تھا، اولیائے کرام کا قرب ملتا تھا کیونکہ وہاں تو چھوت چھات کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ یوں مسلمانوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ تعداد میں اضافے کا مطلب یہ نہیں تھاکہ اِن نو مسلموں نے دین کی روح کو بھی سمجھ لیا ہو گا۔ اُن کے ہندوانہ رسم و رواج قریباًو ہی رہے۔ ان نو مسلموں نے اسلام کو بھی پوجا پاٹ اور علامت کا مذہب بنا لیا۔ مسلمان ہونے کے لئے ختنے، عقیقہ، مسلمانی نام، مسلمانی لباس، مُحرم الحرام کا ماتم، عیدوں پر گلے ملِنا اور ختم شریف کی نذر نیاز دینا۔ سادہ سے دین کو ہندو ثقافت کا مُلغوبہ بنا دیا گیا۔

یقین جانئے اندرونِ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے ہمارے دیہاتی مسلمانوں کو پورا کلمہ نہیں آتا۔ اپنی سرکاری ملازمت کے سلسلے میں چونکہ میں َ کوئٹہ اور قلات ڈویژن اور سندھ میں جیکب آباد، لاڑکانہ، سکھر، نواب شاہ اور خیر پور کے تمام مضافات میں جاتا رہا ہوں اور وہاں کے عوام سے میل جول رکھنا میر ا (Hobby) مشغلہ بھی تھا۔مجھے اُسی وقت سے احساس تھا کہ عملی اِسلام مجھے کہیں بھی نظر نہ آیا حالانکہ برصغیر کا یہ حصہ جسے ہم پاکستان کہتے ہیں یہاں مسلمان اکثریت میں ہیں،کتنے برسوں سے تبلیغی جماعتوں والے ہمارے دیہاتوں میں کام کر رہے ہیں۔ وہاں انھوں نے اپنے خرچے پر مسجدیں بھی بنوائیں لیکن اُنہوں نے اعلیٰ اقدارکے مسلمان نہیں بنائے۔

جب درّہِ خیبر کے ذریعے مسلمان حملہ آور آئے تو شمال کے تمام علاقے بشمول مرکزی پنجاب کی بدہسٹ یا ہندو ذاتیں مسلمان نہیں ہوئی تھیں۔ حملہ آوروں کا یہ مقصد تھا ہی نہیں کہ وہ اسلام کی تبلیغ کا اہتمام کریں۔ بہت ہی ادب کے ساتھ اپنے تبلیغی اکابر سے میں َ یہ پوچھنے کی جُرت کرنا چاہتا ہوں کہ ہر سال وہ اتنا بڑا اجتماع کرتے ہیں، گرِیہ اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں، جو ہم ہر عیداور جمعتہ الوداع کے خطبوں میں سنتے ہیں۔یہود، ہندو کو بد دعائیں، مسلمانوں کے لئے ہدایت، صوم و صلاۃ کی پابندی، درود شریف، عربی میں دعائیں (جو اجتماع میں بیٹھے لاکھوں انسانوں کی سمجھ میں بھی نہیں آتیں)اور پھر تبلیغی جتھے بنتے ہیں تاکہ اندرون ملک اور بیرون ملک دعوتِ دین دی جاسکے۔ یہ کاروائی ہر سال ہوتی ہے۔ میں َ اپنے تبلیغی بھائیوں سے سوال کرتا ہوں کہ آپ نے ہم مسلمانوں کی کِردارسازی کے لئے کیا کوششیں کیں۔ جتھے بنا کر دیہاتوں میں جا کر لوگوں کو ذکر کرنے کے لئے بلانااور اُنہیں مسجدیں آباد کرنے کی تلقین کرنا، میرے خیال میں آپ کی یہ تمام کو ششیں جو 40 سال سے زائد عرصے پر محیط ہیں ہم پاکستانیوں میں معاشرتی،معاشی اور سماجی بُرائیاں جوہیں وہ تو بڑہتی ہی جارہی ہیں حالانکہ مسجدیں بھی لاتعداد بن گئیں، صوم و صلاۃپر بھی بڑا زور ہے، میلاد شریف اور مُحرم کا پورہ عاشورہ بھی بڑے احترام سے منایا جاتا ہے۔ پھر کیا بات ہے کہ ہم حقوق العباد میں کمزور ترین ہوتے جا رہے ہیں۔ معزز قارئیں میں َ اپنے مضمون کے موضوع سے ہٹ کر بات نہیں کر رہا۔ برصغیر کے مسلمان سوائے ابتدائی 100 سالوں کے جب عرب تاجر دینِ اسلام کو اپنے عمل اور قول سے مقبول بنانے میں نہ صرف کامیاب ہوئے بلکہ ہندؤں کی اعلیٰ جا تیوں نے اسلام کو قبول کیا۔ کیونکہ اُن ہندؤں پر نہ فاتح حملہ آوروں کا خوف تھا اور نہ ہی اُن سے کسی نے زور زبردستی کی تھی۔ عرب تاجر نہ ہی اولیأ کرام تھے۔ وہ تو دنیا دار تھے، نفع نقصان کا حساب لگاکر ہند و تاجروں سے بات کرتے تھے، اُن کی عورتوں سے شادی کرتے تھے، بچے پیدا کرتے تھے۔ وہ کسی طور صوفی مُنش نہ تھے کہ کوئی ہندو اُن کی کرامات سے متاثر ہو کر مسلمان ہوتا۔سماجی اُمور کے ماہرین (Sociologists) کا یہ کہنا ہے کہ تبدیلیِ مذہب یا تو ذاتی علم اور ترجیح کی بنا پر ہوتی ہے اور یہ عام طور پر شخصی (Personal) ہوتی ہے یا کسی مبلغ کی تقریروں، دلیلوں، پُر کشش روّیئے یا کرامات سے متاثرہو کر مذہب تبدیل کیا جاتا ہے اور تیسری وجہ خوف ہے۔ حملہ آور فاتح اپنے ساتھ اپنا دین دھرم ساتھ لاتے ہیں۔ جس معاشرے پر یہ فاتح قبضہ کرتے ہیں اُس معاشرے کے نچلے طبقے اونچی جاتیوں کے ظلم و ستم سے بچنے کے لئے فاتح کا دھر م اختیار کرتے ہیں۔ اشوک اعظم جب صرف بادشاہ تھا، بدھ مت اختیار کر چکا تھا۔ بڑا ہی خون خرابہ کر کے جب وہ ظلم سے تائب ہوا تو اُس وقت پنجاب سے افغانستان تک مختلف مذہبوں کو ماننے والے بدہسٹ ہو گئے یعنی جو حاکم کا مذہب وہی رعایا کا مذہب ہو گیا۔ 10 وی صدی سے جب مسلمان حملہ آور درّہ خیبر کے ذریعے ہندوستان میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے اسلام ویشوں اور شودروں نے اختیار کیا۔گکھڑ، کھوکھر،پٹھواری تو 12 ویں صدی تک مسلمانوں سے لڑتے رہے۔ پسی ہوئی جاتیوں نے فوراً اپنی شناخت حملہ آوروں کی شناخت کے مطابق کرنے کے لئے اسلام قبول کیا اور اُنہو ں نے اپنی جانب سے جانا کہ اب وہ اُونچی جاتی کے ہندؤں کے ظلم و ستم سے بچ جائیں گے۔ لیکن درحقیقت ایسا ہوا نہیں۔ بڑے بڑے قبیلوں کے سردار جب ہندوستان میں فا تح بن کر آئے تو اُنہوں نے ہندؤں میں سے اپنے مدد گار Merit پر لئے اور اونچی جاتی کے ہندؤں سے ہی لئے۔ صرف ایک ہندو بنیا (ہیموں بقال) تھا جو شیر شاہ سوری کا وزیر بنا کیونکہ اُس نے ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان بدر کر دیا تھا۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -