ڈاکٹر بننے کی سزا:

ڈاکٹر بننے کی سزا:
ڈاکٹر بننے کی سزا:

  

ہمیں تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہا دم تھا!!

اس شعر کی حقیقت اور تشریح شاید آج سے پہلے کسی نے بھی اتنی بہتر نہ کی ہوگی جیسی کے آج ہو رہی ہے. بچپن میں ہر بچے کی خواہش ہوتی ہے کے وہ بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے اور خدمت خلق کرے اور اس خواہش کو حاصل کرنے کے لیے ان بچوں کی محنت بچپن سے ہی شروع ہو جاتی ہے مگر ان میں سے صرف دس فیصد ہی بچے میڈیکل کالجز میں داخلہ لے پاتے ہے اور انکے ڈاکٹر بننے کا سفر شروع ہوجاتا ہے، ایک میڈیکل سٹوڈنٹ کو پہلے ہی دن پہلی ہی کلاس میں یہ بتادیا جاتا ہے کے آج کے بعد سے آپکی زندگی کا ایک ہی مقصد ہوگا اور وہ ہے انسانیت کی خدمت اور زندگی بچانا، بے شک زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر اللہ نے ڈاکٹر کو ذریعہ بنایا ہے اور مسیہا کا خطاب دلایا ہے. بس یہی ایک مقصد کو لیکر میڈیکل سٹوڈنٹ جو پہلے بھی محنت کا عادی تھا اب اور بھی ذیادہ محنت کرنے لگتا ہے کے کہی اس کی ایک غلطی یا کوتاہی سے کبھی بھی زندگی میں کوئی شخص اپنی جان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے اور ان سارے سالوں میں دنیا کے ہر کونے میں موجود میڈیکل سٹوڈنٹ اپنی تمام خواہشات کو پس پردہ رکھتا ہے اور ان تمام سالوں میں بہ مشکل ہی اپنی فیملی میں کوئی شادی اٹینڈ کر پاتا ہے بہ مشکل ہی کبھی اپنی فیملی کو وقت دے پاتا ہے اور بہ مشکل ہی وہ دوسرے بچوں کی طرح خود کو وقت دے پاتا ہے کیونکہ ان 5،6 سالوں میں ایک میڈیکل سٹوڈنٹ کو تقریباً چالیس سبجیکٹس کے امتحانات دینے ہوتے ہے، بہت سارے پریکٹیکل پاس کرنے ہوتے ہے اور بہت سارے وایواہ دینے ہوتے ہے. یہ سب وہ کرتا ہے عوام کیلئے اپنے لوگوں کیلے انسانیت کی خدمت کیلئے بنا اپنا کوئی فائدہ یا نقصان سوچے، بالآخر پانچ چھے سالوں کی محنت اور سٹڈی کے بعد ڈاکٹرز تیار ہوتے ہے خدمت خلق کیلئے پریکٹس کیلئے پر افسوس صد افسوس کے ایسا ہمارے فارن میڈیکل گریجوئٹس (ایف ایم جیز) کے ساتھ نہی ہوتا، ہمارے ایف ایم جیز جو باہر کے ملکوں سے ایم بی بی ایس کر کے آتے ہے اس جوش و جذبہ کے ساتھ کے وہ علم جو ہم نے یہاں سیکھا وہ ٹیکنالوجی جو ہم نے یہاں استعمال کی وہ پریکٹس جو ہم نے دنیا کے ایڈوانس ملکوں کے ہسپتالوں میں کی ان تمام تجربوں کی مدد سے ہم اپنے ملک پاکستان جاکر عوام کی خدمت کرے گے اور اپنے ملک کو باہر کے ملکوں کی طرح بیماریوں سے پاک ملک بناے گے اور جدید ٹیکنالوجی سے اپنے ملک کو بھی متعارف کروا کر اپنے ملک کو میڈیکل سائنس کی دنیا میں نمبر ون بناے گے!! مگر شاید ملک پاکستان کی بے حس حکومت، عدلیہ اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو اپنے ملک کے نوجوان ڈاکٹروں کی نہ تو قدر ہے اور نہ ہی پرواہ شاید اسکی وجہ بڑے بڑے آفس میں چھوٹی چھوٹی ذہنیت کے لوگوں کا ہونا ہے جنہے اپنے علاوہ کسی سے کوئی سروکار نہی ہے، ملک وقوم کی کوئی فکر نہی ہے. ہمارے ملک پاکستان سے کچھ سالوں میں پچیس ہزار ڈاکٹرز دوسرے ملکوں میں چلے گئے ہے اور پاکستان میں دن بہ دن ڈاکٹرز کی کمی ہوتی جا رہی ہے.

واپس آتے ہے ہمارے ایف ایم جیز پر، اب جو حقیقت اور راز میں بیان کرنے لگا ہو شاید ہمارے ملک کی نوے فیصد عوام اور بڑے بڑے دفتروں اور عہدوں پر بیٹھے چھوٹی چھوٹی ذہنوں کے مالک بھی بے خبر ہے!!.

ایک فارن میڈیکل گریجوئیٹ جب اپنا چھ سال کا ایم بی بی ایس ایک سال کی پریکٹس کے ساتھ مکمل کر کے پاکستان آتا ہے تو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ان ایف ایم جیز کو تین سٹیپ پر مشتمل ٹیسٹ کے مرحلوں سے گزارتی ہے اور ایک میڈیکل سٹوڈنٹ ان ٹیسٹوں سے گھبراتا نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے چھ سالوں میں اتنے امتحانات دے چکا ہوتا ہے کے اسکو دنیا کا کوئی بھی امتحان دیتے ہوے ڈر نہیں لگتا، ایک ایف ایم جی کی تکلیف، ذلالت اور رسوائی کی وجہ تو یہ ہوتی ہے کے اس سے امتحان لیا ہی نہیں جاتا اسکو سالہا سال انتظار کروایا جاتا ہے اور اس ایف ایم جی ڈاکٹر کو معلوم ہی نہیں ہوتا کے اسکا ٹیسٹ کب ہونا ہے؟ ہونا بھی ہے یا نہی!!؟ ذیادہ تکلیف دہ مرحلہ تو ان طالبعلموں کیلئے ہوتا ہے جو اپنا ایک یا دو سٹیپس کو تو پاس کر چکے ہوتے ہے پر تیسرا یا دوسرا سٹیپ فیل کردیئے جاتے ہے اور پھر سے انکو پورا ایک یا دو سال انتظار کرنا پڑتا ہے کے پتہ نہیں دوبارہ سے کب امتحان کی تاریخ آئے گی اور وہ اپنا امتحان پاس کریگے اور پھر ایک سال کی ان پیڈ ہاوس جاب(جی ہاں ان ایف ایم جیز کو ایک سال تیس تیس گھنٹے بنا کسی سیلری کے جاب کرنی پڑتی ہے) کرنے کے بعد اپنے خاندان کو پالنے کے قابل ہوگے؟؟!! اس امتحان کے انتظار میں ہی پچھلے دنوں دو ایف ایم جیز نے تنگ آکر خودکشی کو ذلالت و رسوائی کے انتظار پر فوقیت دی کیونکہ اس انتظار کے دوران ان ڈاکٹروں کو جو اپنی پڑھائی اور ایک سال کی پریکٹس بھی کر چکے ہوتے ہے مگر انہیں اپنے ملک میں پریکٹس کی اجازت نہی دی جاتی اور اگر وہ ڈاکٹر پریکٹس نہیں کرے گا کماے گا نہیں تو اپنے خاندان کو کیسے کھلاے گا یا انکی اور اپنی ضروریات کو کیسے پورا کرے گا.؟؟ بس یہی وجہ ہوتی ہے کے ہمارا قیمتی اثاثہ تھک ہار کر یا تو کسی دوسرے ملک چلا جاتا ہے یا خودکشی کو آسان سمجھ لیتا ہے، نہ جانے کب تک یہ ظلم چلتا رہے گا اور نہ جانے کتنی اور قیمتی جانے اس انتظار میں جاے گی، نہ جانے کب ہمارے حکمران، عدلیہ اور پی ایم ڈی سی ان فارن میڈیکل گریجویٹس پر بھی نظر ثانی کرے گی اور ان تقریباً آٹھ ہزار ڈاکٹرز کیلئے پورے سال کا شیڈول بنایا جاے گا تاکہ بنا کسی پریشانی اور تاخیر کے انکو معلوم ہو کے سال میں تین سے چار دفعہ انکا ٹیسٹ اس اس تاریخ پر لیا جاے گا اور وہ آرام سے اپنی تیاریاں کرے بجاے ٹیسٹ کی ڈیٹس کے انتظار میں مایوسی ڈپریشن اور دوسری ذہنی بیماریوں کا شکار ہو.

اور بھی لکھنے کو بہت ہے مگر میں اک شعر کے ساتھ اختتام کرو گا اور اللہ سے امید کرو گا کے اللہ ان ظالموں کا دل بدل دے تاکہ یہ اپنے ملک اور اسکے قیمتی اثاثہ کے بارے میں سوچ سکے،

اور بھی غم ہے ذمانے میں محبت کے سوا.

مزید :

رائے -کالم -