پاکستان کرکٹ میں میچ فکسنگ

پاکستان کرکٹ میں میچ فکسنگ

  

کرکٹ کھیلنے پر تاحیات پابندی کے شکار سلیم ملک کی کوچنگ کے لئے واپسی کی خواہش اور دوسری بار قوم سے معافی مانگ کر کرکٹ بورڈ سے پابندی ختم کرنے کی اپیل نے ایک نیا پینڈورا بکس کھول دیا اور بورڈ کے سابق سربراہان نے کئی اور کھلاڑیوں کے حوالے دے کر یہ بتا دیا کہ پاکستان کرکٹ کے موجودہ نوجوان کھلاڑی ہی لالچ کے شکار نہیں ہوئے بلکہ ماضی میں بھی نوجوان فکسنگ میں ملوث رہے ہیں، خالد محمود نے وسیم اکرم کے ملوث ہونے اور انکار کا ذکر کیا تو عباسی نے باسط علی کے خلاف الزام لگا دیا جس کی تائید انتخاب عالم نے بھی کی تاہم ساتھ ہی یہ بھی اعتراف کیا کہ کوئی ثبوت نہیں تھا، اس لئے رپورٹ میں ذکر نہیں کیا تھا، باسط علی نے تردید کی اور کہا اگر ثابت ہو جائے تو الٹا لٹکا دیا جائے، سلیم ملک سابق کپتان بھی ہیں اور انہوں نے بھی وسیم اکرم کا ذکر کیا تھا، حال ہی میں عمر اکمل سزا پا چکے اس سے پہلے شرجیل خان کو بھی غلطی کا خمیازہ بھگتنا پڑا تھا، جبکہ آج کے کھیلنے والے محمد عامر اور سلمان بٹ، آصف کے ساتھ ملوث رہے اور سزا پائی۔ سلیم ملک، وسیم اکرم اور عطاء الٰہی نے بھی ماضی میں الزام کا سامنا کیا تھا، کرکٹ کا کھیل زمانہ حال قریب تک بہت مقبول رہا تاہم اس میں فکسنگ بھی ہوتی چلی آ رہی ہے۔ دنیا بھر سے کھلاڑی ملوث اور سزا یاب ہو چکے ہیں،اگرچہ یہ کوئی راز نہیں لیکن وسیم اکرم، محمد عامر اور سلمان بٹ جیسے کھلاڑی فعال کردار ادا کررہے ہیں۔ کرکٹ بورڈ کے دو سابق سربراہوں کی طرف سے میچ فکسنگ کی تصدیق سے کوئی اچھا تاثر پیدا نہیں ہوا اور پہلے سے موجودہ بدنامی میں ہی اضافہ ہوا ہے۔ سابق سربراہان کو یہ الزام لگاتے ہوئے اپنی کمزوری کا بھی اعتراف کرنا چاہیے تھا کہ وہ جان کر بھی اس مرض کا علاج نہ کر سکے اور نہ ہی میچ فکسنگ کے ذمہ دار حضرات کو سزا دے سکے۔ یہ صورت حال ملک کے لئے بدنامی کا باعث ہے۔ بہتر ہو گا کہ ایک بااختیار ٹربیونل بنا کر پھر سے ان تمام الزامات کا جائزہ لیا جائے اور الزام ثابت ہو جانے پر بچ جانے والوں کو بھی سزا دی جائے۔ دوسری صورت میں سلیم ملک کو اب بحال کرنے میں کیا رکاوٹ ہے کہ وہ اپنی سزا مکمل کر چکے۔

مزید :

رائے -اداریہ -