”نیو“ چینل کا مستقبل؟

”نیو“ چینل کا مستقبل؟

  

پرائیویٹ ٹی وی چینل ”نیو“ کو ایک نوٹس کے ذریعے مطلع کیا گیا ہے کہ اس کا اجازت نامہ چونکہ انٹرٹینمنٹ چینل کا ہے اس لئے وہ بطور نیوز چینل کام جاری نہیں رکھ سکتا وہ انٹرٹینمنٹ کے چینل کے طور پر کام کرے بصورتِ دیگر اس کا لائسنس ختم کر دیا جائیگا۔ حکومت نے جب پرائیویٹ چینلوں کی اجازت دی تو بہت سے افراد اور اداروں نے لائسنس حاصل کر لئے جن میں انٹرٹینمنٹ اور حالات حاضرہ کے چینل شامل تھے۔ مقابلے اور مسابقت کی فضا میں جو چینل اپنا مقام نہ بنا سکے وہ آہستہ آہستہ بند ہوتے گئے تو انہوں نے اپنے لائسنس فروخت کرنا شروع کر دیئے اس دوران چونکہ نئے لائسنسوں کا اجرا بند ہو چکا تھا اس لئے جو لوگ چینل چلانا چاہتے تھے انہوں نے پرانے مالکان سے لائسنس خریدنا شروع کر دیئے ”نیو“ پہلے کسی اور نام سے کام کر رہا تھا نئی انتظامیہ نے اسے نیوز چینل کے طور پر چلانا شرع کیا تو ”پیمرا“ نے اعتراض کیا جس پر انتظامیہ نے حکم امتناع حاصل کر لیا جو اب ختم ہو چکا ہے حکومت چونکہ نیا لائسنس جاری نہیں کر رہی اس لئے نیو بطور نیوز چینل کام نہیں کر سکے گا تو بند ہو جائے گا جس سے وابستہ سینکڑوں ملازمین بے روز گار ہو جائیں گے میڈیا انڈسٹری پہلے ہی بحران کا شکار ہے ایسے میں جو مالکان نقصان برداشت کر کے یہ کاروبار جاری رکھنا چاہتے ہیں ان کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہئے۔ بہتر ہے نیو کو بطور نیوز چینل کام کرنے کا اجازت نامہ جاری کردیا جائے تاکہ ملازمین کا روز گار محفوظ رہے۔ نئے لائسنسوں کے اجرا کی پالیسی پر بھی نظرثانی ہونی چاہئے تاکہ جو نئے ادارے اس میدان میں آنا چاہتے ہیں ان کے راستے میں ضابطوں کی دیوار حائل نہ ہو۔

مزید :

رائے -اداریہ -