پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ

پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ

  

پنجاب اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس 8 مئی کو بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، آل پارٹیز خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے ویڈیو لنک اجلاس میں کئے گئے فیصلے کے مطابق اجلاس میں ان حفاظتی اقدامات کو پیش نظر رکھا جائے گا جو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی گائیڈ لائنز میں موجود ہیں۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ ہم سب کی ذمے داری ہے کہ حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کریں اگر خدانخواستہ کِسی کو بھی یہ وائرس لگ گیا تو دوسرے ارکان بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ہاؤس کی سرپرستی کی ذمے داری نبھاتے ہوئے میرا یہ فرض ہے کہ تمام ارکان کی صحت کا خیال رکھوں مشاورتی اجلاس میں جو ایس او پیز طے کئے گئے ہیں ان پر تمام جماعتیں عمل کریں۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ جماعتیں اپنے اپنے ارکان کا کورونا ٹیسٹ کرائیں اسی طرح پنجاب اسمبلی کے ملازمین کے بھی کورونا ٹیسٹ کرائے جائیں گے۔

جب سے کورونا کی وبا پھیلی ہے قومی اسمبلی اور سینٹ سمیت کسی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو سکا۔ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اپوزیشن نے ریکوزٹ کیا تھا لیکن سپیکرنے انکار کر دیا اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ جرأت مندانہ ہے اور سپیکر سمیت آل پارٹیز پارلیمانی کمیٹی بھی مبارک کی مستحق ہے یہ اجلاس اپوزیشن جماعتوں نے ریکوزٹ کیا تھا اور سپیکر کو ایسا اجلاس بلانے کا اختیار ہے۔ انہوں نے اپنے اس اختیار کا استعمال تمام جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے کیا اور پورے ملک کی باقی اسمبلیوں کے اجلاس طلب کرنے کی ایسی مثال قائم کر دی جو بارش کے اس پہلے قطرے کے بعد اس نوعیت کے فیصلے کر سکتی ہیں، جب سے کورونا کی وبا پھیلی ہے اسمبلیوں کے اجلاس طلب نہیں کئے گئے۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ کہیں اس طرح ارکان انفیکشن کا شکار نہ ہو جائیں، یہ خدشہ اگرچہ بے بنیاد بھی نہیں ہے لیکن دوسری جانب صبح و شام لاک ڈاؤن کی مخالفت میں دلائل کے انبار لگائے جا رہے ہیں یہ تک کہہ دیا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن اشرافیہ نے کرایا، اگر صرف غریب اس وبا سے متاثر ہو رہے ہوتے تو اشرافیہ ایسا نہ کرتی اس طرح ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ ایسے میں جب پورے ملک میں کسی نہ کسی انداز میں کاروبار بھی کھولے جا رہے ہیں، بعض صنعتیں بھی چلنا شروع ہو گئی ہیں، بازاروں میں رونق لگی ہے ضروری اشیا کے ساتھ غیر ضروری سامان کی دکانیں بھی کھولی جا رہی ہیں حالانکہ ان کی اجازت نہیں دی گئی لیکن دیکھا دیکھی وہ تمام دکانیں بھی کھلنا شروع ہو گئی ہیں جن میں فروخت ہونے والا مال کسی ایمرجنسی کی ذیل میں نہیں آتا، ایسے میں صرف اسمبلیوں کا اجلاس نہ بلانے کا فیصلہ یا تو بلا وجہ کے خوف کی علامت تھا یا پھر اس کے دیگر غیر مرئی محرکات تھے جن کی بنیاد پر اجلاس نہیں بلایا جا رہا تھا۔ مقام اطمینان ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی نے حسب حال فیصلہ کیا ہے کہ اب قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس بھی بلائے جا سکتے ہیں، حفاظتی تدابیر اور اقدامات البتہ ضروری ہوں گے۔یہ تجویز اچھی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے ارکان کا کورونا ٹیسٹ کرائیں اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ پازیٹو ارکان خود کو قرنطینہ کر سکیں گے اور وائرس پھیلنے کے امکانات بھی محدود ہو جائیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے ملازمین کا ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ بھی صائب ہے ہمارے خیال میں ارکانِ پارلیمینٹ اور ملازمین کے ٹیسٹوں کا آغاز بھی کر دینا چاہئے تاکہ جب تک اسمبلی کے اجلاس بلائے جائیں اس وقت تک تمام ٹیسٹ مکمل ہو جائیں اور اس حوالے سے پوری تصویر سامنے آ جائے۔

پارلیمینٹ اور اسمبلیاں قوم و ملک اور صوبوں کو درپیش مسائل پر غور کا بہترین آئینی فورم ہیں اس وقت جب کورونا کی وبا نے پورے ملک میں دہشت پھیلا رکھی ہے اسمبلیوں کی طرف سے کوئی اجتماعی تجویز سامنے نہیں آئی انفرادی بیان بازی البتہ ہو رہی ہے۔ اس لئے اسمبلیوں کو عضوِ معطل بنائے رکھنا ناقابل فہم ہے۔ حیرت ہے کہ کہیں احتیاطی تدابیر اور کہیں اس کے بغیر ہی باقی سارے کاروبار تو چل رہے ہیں ایسے میں اسمبلیوں کا اجلاس نہ بلانے کی منطق سمجھ سے بالا تر ہے۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلا کر جو روشن مثال قائم کی گئی ہے توقع ہے اس کے بعد باقی اسمبلیاں بھی آگے بڑھیں گی۔ قومی اسمبلی کے سپیکر اگرچہ خود کورونا سے متاثر ہیں تاہم امید کرنی چاہئے کہ وہ مواصلاتی رابطوں کی دستیاب جدید سہولتوں سے فائدہ اٹھا کر ارکان کی رہنمائی کریں گے اسمبلی کی جو پارلیمانی کمیٹی ان کی کوششوں سے قائم ہوئی تھی وہ تو زیادہ مفید ثابت نہیں ہوئی، وزیر اعظم نے ویڈیو لنک کے ذریعے اس کے پہلے اجلاس سے خطاب کیا اور اس کے بعد رخصت ہو گئے انہوں نے کسی دوسرے رکن کا مشورہ سننے کی ضرورت محسوس نہ کی جس پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واک آؤٹ کیا اب وزیر اعظم صاحب ایک بار پھر ویڈیو لنک کے ذریعے پارٹی ارکانِ اسمبلی کو بریفنگ دینا چاہتے ہیں دیکھنا ہوگا کہ ایسا اجلاس کتنا مفید ثابت ہوتا ہے اگر ان کا ارادہ صرف اپنی پارٹی کے ارکان کو اعتماد میں لینے کا ہے تو اس کی افادیت پر ابھی سے سوالیہ نشان لگ جائے گا بہتر ہوتا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جاتا اور وزیر اعظم جو کہنا چاہتے ہیں اسمبلی کے فلور پر کہتے لیکن وہ تو عام حالات میں بھی اجلاس میں کم کم ہی آتے ہیں موجودہ صورتِ حال میں ان سے کیا توقع باندھی جا سکتی ہے پارٹی ارکان کو جو بریفنگ دینا چاہتے ہیں وہ بے شک دے دیں لیکن یہ اجلاس کا نعم البدل تو نہیں ہو سکتی بہتر ہے کہ صدر مملکت قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس فوری طور پر طلب کریں اور بلاول بھٹو زرداری جو یہ الزام لگا رہے ہیں کہ وزیر اعظم کچھ نہیں کر رہے اس لئے مستعفی ہو جائیں اس کا جواب بھی اسمبلی میں دیں جہاں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان موجود ہوں میڈیا پر بیٹھ کر لفظی جنگ وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -