کورونا وائرس’’کھیل کی موت‘‘

کورونا وائرس’’کھیل کی موت‘‘

  

دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مہلک مرض کورونا وائرس کی وجہ سے کھیلوں کی سر گرمیاں ماند پڑ گئی، پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک میں کھیلوں کے مقابلے معطل ہوگئے ہیں، کھلاڑی گھروں میں قید لوگوں کی امداد کے لئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے پی سی بی نے کے این سی بی کے مشورے کے بعد جولائی میں شیڈول دورہ نیدرلینڈز کو غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیااور پاکستان میں جوجسٹو، نیٹ بال، ہینڈ بال، سافٹ بال، رواں سال جون میں ڈھاکا میں کھیلا جانے والا جونیئر ایشیا کپ ہاکی ٹور نامنٹ سمیت کئی ایونٹس ملتوی ہوگئے ہیں۔جبکہ ماضی کے عظیم کرکٹرز ویڈیو لنک کے ذریعے پاکستان کرکٹ ٹیم کے موجودہ کھلاڑیوں کو ٹپس جاری ہے۔ آن لائن سیشنز کے دوران سابق کرکٹرز محدود اور طویل طرز کی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کرکٹرز اور ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کو کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کے دوران اپنے وقت کا مفید استعمال کرنے کے حوالے سے بھی آگاہ کریں گے۔قومی کرکٹ ٹیم کی منیجمنٹ، پی سی بی کے شعبہ انٹرنیشنل کرکٹ آپریشنز کے تعاون سے ان سینشنز کا انعقاد کررہی ہے، جس کا مقصد مستقبل کے بہترین کھلاڑیوں کو ان غیرمعمولی حالات میں کھیل سے جڑے رکھنا اور عظیم کھلاڑیوں کے علم سے فائدہ حاصل کرنا ہے۔جاوید میانداد اور وسیم اکرم کے علاوہ محمد یوسف، یونس خان، معین خان، مشتاق احمد، راشد لطیف اور شعیب اختر بھی آن لائن سیشنز کے ذریعے موجودہ کھلاڑیوں کو اپنے تجربات سے آگاہ کریں گے۔یہ سیشنز مختلف کٹیگریز میں جاری رہیں گے، جیسا کہ جاوید میانداد، محمد یوسف اور یونس خان 3 مختلف سیشنز میں 21 بلے بازوں سے مخاطب ہوں گے۔ اسی طرح وسیم اکرم اور شعیب اختر 13 فاسٹ باؤلرز، مشتاق احمد 6 اسپنرز جبکہ معین خان اور راشد لطیف 5 وکٹ کیپرز کو آن لائن لیکچرز دیں گے۔قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام معتبر کرکٹرز کے مشکور ہیں جنہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنے تجربات سے آگاہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان عظیم کھلاڑیوں کی کہانیاں موجودہ کرکٹرز کے لیے حوصلہ افزائی کا سبب بنیں گی جو نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین تجربہ ثابت ہوگا۔ ان سیشنز کو خصوصیات کی بنیاد پر مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مصباح الحق نے کہا کہ ہمیں انگلینڈ سیریز کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی تیاری کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان عظیم کھلاڑیوں کی اکثریت انگلینڈ میں پاکستان کی کامیابیوں کا حصہ رہی ہے۔ لہٰذا ان کا تجربہ موجودہ کرکٹرز کے لیے سیریز کی تیاری میں کارگر ثابت ہوگا۔چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ قومی کرکٹ ٹیم نے کہا کہ آن لائن سیشنز میں زیر بحث موضوعات میں ورک ایتھکس، کھیل تک رسائی، منصوبہ بندی، پریکٹس، دباؤ کی صورتحال میں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا طریقہ کار اور ہائی پروفائل کھلاڑیوں کی حیثیت سے چیلنجز سے نمٹنا شامل ہے۔سابق کرکٹر جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ کرکٹ سے متعلق اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے صرف کتابی کرکٹ ہی نہیں کھیلی بلکہ تجربے اور تحقیق کا سہارا لیتے ہوئیاس میں کامیابیاں بھی حاصل کیں۔سابق کرکٹر راشد لطیف کا کہنا ہے کہ جدید دور میں وکٹ کیپرز کا کردار اہم ہوچکا ہے، اب ان سے بیٹنگ میں بھی بہتر کارکردگی کی امید کی جاتی ہے اور یہ کردار،وہ اور معین خان 90 کی دہائی میں کامیابی سے ادا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یقیناً اس کے لیے ذہنی پختگی، زیادہ سے زیادہ پریکٹس اور مہارت کے علاوہ بیٹ اور گلووز کے درمیان بہترین اور مثبت توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے سب سے کم عمر فاسٹ باؤلر نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک بہت دلچسپ قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک پورا ہفتہ صرف ان عظیم کھلاڑیوں کی کہانیاں سن کر گزار سکتے ہیں۔ فاسٹ باؤلر نے کہا کہ یہ کرکٹرز ہم میں سے اکثریت کے رول ماڈل ہیں۔نسیم شاہ نے وسیم اکرم اور شعیب اختر کی موجودگی سونے پہ سہاگہ قرار دی۔ انہوں نے کہا کہ ان سیشنز میں یہ جاننے کا موقع ملے گا کہ ان عظیم کرکٹرز نے کیسے حریف ٹیموں کو پرکھنے کے بعد اپنی رفتار اور مہارت سے انہیں زیر کیا۔جبکہ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے مداحوں کے لیے ایک ایسی پرجوش مہم کا آغاز کررہا ہے جہاں شائقینِ کرکٹ کو اپنے خوابوں کی پسندیدہ جوڑیاں بنانے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ اس مہم کے تحت مداحوں کو بیٹنگ اوپنرزاور مڈل آرڈرز اور باؤلنگ فاسٹ باؤلر زاور اسپنرزمیں اپنی پسندیدہ ٹیسٹ کرکٹ جوڑیوں کے انتخاب کا موقع دیا جارہا ہے، جو فیس بک، ٹوئیٹر اور انسٹاگرام پر اپنی پسندیدہ جوڑیاں بناکر اس مہم کا حصہ بن سکتے ہے۔ مہم کے اختتام پر مداحوں کو ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے پسندیدہ وکٹ کیپر کے انتخاب کا موقع بھی دیا جائے گا۔کھیل کے سب سے معتبرفارمیٹ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان نے بہت سے عظیم ستارے اور لیجنڈز پیدا کیے ہیں۔اس حوالے سے کھلاڑیوں کے نام ایک مخصوص پوزیشن پر ان کے رنز بنانے اور وکٹیں حاصل کرنے کی تعداد کی بنیاد پر شارٹ لسٹ کیے گئے ہیں۔ماضی میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے عمدہ بلے باز اور 24 سنچریاں بنانے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف کا کہنا ہے کہ یہ پی سی بی کی جانب سے اٹھایا گیا ایک شاندارقدم ہے جوہمارے نوجوان اور پرجوش مداحوں کو کھیل کے لیجنڈز سے آگاہی کے ساتھ ساتھ ان آزمائشی اوقات میں گھروں میں رہتے ہوئے مصروفیت کا ایک موقع فراہم کررہا ہے۔پاکستان میں کھیلے گئے تینوں ٹیسٹ میچوں میں سنچری بنانے والے قومی ٹیسٹ کرکٹر بابراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ماضی میں بہت سے ایسے ٹیسٹ بلے باز پیدا کیے ہیں جو ہوم اینڈ اوے کنڈیشنز سے قطع نظر، پیس اور اسپن دونوں طرح کی باؤلنگ کے سامنے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے تھے۔بابراعظم نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں محمد یوسف اور یونس خان پر مشتمل جوڑی ان کی پسندیدہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ یوسف بھائی کی اسکلز اور کلاس جبکہ یونس بھائی کے کبھی بھی ہار نہ ماننے والے مائنڈ سیٹ سے ہمارے جیسے کرکٹرز نے بہت کچھ سیکھا اوردونوں سابق کرکٹرز کے تجربیسے سیکھنے کا یہ عمل جاری رہے گا۔اپنی شاندار اسپن باؤلنگ سے متعدد ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کو کامیابیاں دلانے والے سابق کرکٹر سعید اجمل کا کہنا ہے کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ باؤلرز جوڑیوں کی صورت میں شکار کرتے ہیں اور ہم نے میدان میں ایسا دیکھا بھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ انہیں پاکستان کے چند بہترین اسپنرز کے ساتھ باؤلنگ کرنے کا موقع ملا اور وہ ان کے ساتھ مل کر پاکستان کوفتوحات دلانے میں کامیاب بھی رہے۔سابق ٹیسٹ اسپنر نے کہاکہ اگر ان سے پوچھا جائے تو وہ لیجنڈری باؤلر مرحوم عبدالقادر کے ساتھ باؤلنگ کرنا پسند کرتے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالقادر مرحوم ایک عظیم لیگ اسپنر تھے جن کی گگلی شاندار تھی اور میرے پاس دوسرا جیسا ہتھیار تھا، لہٰذا یہ جوڑی بہترین ہوتی۔دوسری جانب ایشیا کپ بھارتی لالچ کی بھینٹ چڑھنے لگا تاہم پاکستان راہ میں حائل ہو گیا۔بھارتی کرکٹ بورڈ کیلئے بھاری آمدنی کا ذریعہ پریمیئر لیگ کا انعقاد مارچ میں ہونا تھا، کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال میں اسے غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی دسمبر میں پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ایشیا کپ کو ملتوی کرواکے اسی ونڈو کو آئی پی ایل کیلئے استعمال کرنے کی خواہش رکھتا ہے، یوں بھارتی لیگ کیلئے ایشیائی کرکٹرز کی بڑی تعداد بھی میسر ہوجائے گی لیکن پاکستان نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ایشیا کپ کو قربانی کا بکرا بنانے سے انکار کر دیا ہے۔ پی سی پی کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے کہاکہ ایشیا کپ ستمبر میں شیڈول ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے صحت اور سلامتی کے مسائل نہ ہوئے تو اسے ملتوی کرکے نومبر، دسمبر میں کرانے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی،ہم کبھی یہ بات قبول نہیں کریں گے کہ آئی پی ایل کا انعقاد ممکن بنانے کیلیے ایشیائی ایونٹ کو ملتوی کردیا جائے، کسی ایک ملک کیلیے پہلے سے طے شدہ ٹورنامنٹ کا شیڈول متاثر کرنا درست نہیں، اسے قطعی طور پر ہماری سپورٹ حاصل نہیں ہوگی۔انھوں نے کہا کہ نومبر، دسمبر میں پاکستان کو زمبابوے کی میزبانی کرنا اور نیوزی لینڈ کے دورے پر جانا ہے، اس لیے ایشیا کپ کا التوا پلاننگ کا حصہ نہیں بن سکتا۔وسیم خان نے کہا کہ آئی سی سی چیف ایگزیکٹیوز کمیٹی کی میٹنگ میں بی سی سی آئی کی جانب سے ایشیا کپ کے التوا اور آئی پی ایل کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی،بہرحال ہمارا موقف واضح ہے کہ اس معاملے میں کسی مصلحت سے کام نہیں لیں گے۔ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ رواں سال اکتوبر، نومبر میں ہونے والا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ بند دروازوں کے پیچھے بھی کرایا جاسکتا ہے،اگر میگا ایونٹ نہیں ہوتا تو ہر رکن ملک کو 15 سے 20 ملین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے، حتمی فیصلہ آئی سی سی اور آسٹریلوی کرکٹ بورڈ حکومتوں کی ہدایات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کرینگے، ہم بند دروازوں کے پیچھے کرکٹ کیخلاف نہیں ہیں لیکن اس میں کھلاڑیوں اور آفیشلز کی صحت کو کوئی خطرات لاحق نہیں ہونا چاہئیں، اگر ہم تمام تر ضروریات احتیاطی تدابیر اختیار کرکے میچز کرا سکتے ہیں توٹھیک ہے۔انھوں نے کہا کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کیلیے یہ سب سے مشکل وقت ہے کیونکہ اسے رواں برس ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا اور پاکستان کی میزبانی کرنا ہے، اگر وہ یہ میچز نہ کرا سکے تو بہت زیادہ مالی نقصان کا سامنا ہو گا۔وسیم خان نے کہا کہ گرین شرٹس کے آئرلینڈ اور انگلینڈ میں شیڈول میچز بغیر شائقین کے کھیلنے کی تجویز کو خارج از امکان نہیں کہا جا سکتا لیکن اس میں خطرات بھی لاحق ہیں، ٹیم کے سفر اور ہوٹلز میں قیام جیسے اہم پہلووں کے بارے میں بھی سوچنا پڑے گا، ہمیں اپنے کھلاڑیوں اور آفیشلز کی صحت کی حفاظت سب سے زیادہ عزیز ہے، اگر آئرلینڈ اور انگلینڈ کے کرکٹ بورڈز بند اسٹیڈیمز میں کھیلنے کی بات کرتے ہیں تو پی سی بی تمام پہلووں کا بغور جائزہ لے گا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -