تخت بھائی‘ کورونا وائرس کے شک سے مرنیوالے شخص کے لواحقین کا مظاہرہ

تخت بھائی‘ کورونا وائرس کے شک سے مرنیوالے شخص کے لواحقین کا مظاہرہ

  

تخت بھائی (نما ئندہ پاکستان)تخت بھائی کے علا قہ ڈھکو با با سے تعلق رکھنے والا کورونا وائرس کے شک میں مرنے والے عنایت اللہ گل کے ورثااور عما ئدین علا قہ کا ڈاکٹروں کی غفلت اور کے ایم یو خیبر پختونخوا کے وائس چانسلر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ۔ متعلقہ ڈاکٹروں کی غفلت برتنے کے الزام میں ان کو فوری طور پر معطل کرنے کے ساتھ ساتھ کے ایم یو خیبر پختونخوا کے وائس چانسلر ڈاکٹر ارشد جاوید کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنے کا بھی مطا لبہ۔ جس کی قیادت امن جرگہ خیبر پختونخوا کے چیئر مین سید کمال شاہ باچا ہ، ضلع مردان کے چیئر مین رحیم زادہ باچا، ضلعی رابطہ سیکرٹری نور شاد، آفس سیکرٹری شیر محمد،ڈاکٹر ابراہیم داؤد، ڈھکو بابا سے تعلق رکھنے والا کورونا وائرس کے شک میں جان بحق ہونے والے عنایت اللہ گل مرحوم کے بھائیوں آصف خان، سردار گل، عیسیٰ، ان کے والد با دام گل، بیٹے جان علی اور عرفان علی، رشتہ دار احسان بھادر اور دیگر عما ئدین علا قہ شاہدعثمان، محمد فقیر اور دیگر کررہے تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر رکھے تھے۔ مظاہرین نے پریس کلب تخت بھائی تک احتجاجی مارچ کیا۔ احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہو ئے مقررین نے کہا کہ عنا یت اللہ گل (مرحوم) 2009سے سینے کی بیماری میں مبتلاء تھے جس کا با قاعدہ علاج وہ مردان میں چیسٹ سپیشلسٹ ڈاکٹر عنبر شاہ سے کرارہا تھا۔ جمعرات کے روز سانس لینے میں دشواری کی وجہ سے معائینے کے لئے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہپسپتال لے گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے فوری طور پر ایم ایم سی مردان منتقل کردیاگیا اس کے بعد اسے قرنطینہ سنٹر میں داخل کردیا گیا۔ 24گھنٹے کے بعد اسے موت واقع ہوئی۔ کورونا ٹیسٹ کے پازیٹیو رزلٹ آنے کے بغیر انتظا میہ نے نہا یت ہتک آمیز طریقے کے ساتھ اسے ڈھکو بابا قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا اوراس کے جنازے میں ان کے والد،بھائیو ں، بیٹوں اور دیگر رشتہ داروں کو شرکت کرنے بھی نہیں دیا جو انتہائی افسوس ناک ہے۔ انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، گورنر خیبر پختونخوا، وزیر اعلیٰ اور دیگر حکام سے کے ایم یو خیبر پختونخوا کے وائس چانسلر ڈاکٹر ارشد جاوید کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور دیگر ڈاکٹروں کی غفلت برتنے کے الزام میں فوری طور پر کارروائی اور قرار واقعی سزادینے کا مطا لبہ کردیا۔ بصورت دیگر بنی گالہ اسلام آباد جا کر وہاں احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائینگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -