نشتر ہسپتال: ایک ہی خاندان کے7افراد آئسو لیشن وارڈ میں زیر علاج،کارڈیالوجی کے 4آپریشن تھیٹرز سپرے کرنے کے بعد بند

نشتر ہسپتال: ایک ہی خاندان کے7افراد آئسو لیشن وارڈ میں زیر علاج،کارڈیالوجی ...

  

ملتان(نمائندہ خصوصی)چودھری پرویز الہی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ملتان کے ٹیکنیشن میں کورونا کی تصدیق کا معاملہ سامنے آیاہے،شوہر بیٹی اور کزن کے بعد ایک اور(بقیہ نمبر20صفحہ6پر)

بیٹی،بیٹا،ساس اور دیور بھی کورونا میں مبتلا ہو گئے،ایک ہی خاندان کے سات افراد نشتر ہسپتال کے آئی سو لیشن وارڈ میں زیر علاج تفصیل کے مطابق کارڈیالوجی ملتان انتظامیہ کی جانب سے مس کنڈکٹ ودخل اندازی سمیت دیگر الزامات پر لیبارٹری ٹیکنیشن حفیظ کی خدمات سیکرٹری صحت کے سپرد کر دی گئی تھیں،جس میں چار روز قبل کورونا پازیٹیو آگیا جسے کارڈیالوجی کالونی سے نشتر ہسپتال منتقل کردیا گیا،ادھر فیملی کا کرونا ٹیسٹ کرنے پر بیوی ارم جو کارڈیالوجی آپریشن تھیٹر میں ٹیکنیشن ہے اور چھ سالہ بیٹی انصی فاطمہ اور ساتھ رہنے والے ارم کے کزن نصیر جو کارڈیالوجی میں ہی ٹیکینیشن بھی ہے میں کورونا کی تصدیق ہو گئی,جبکہ گزشتہ روز ارم کی ایک اور بیٹی، بیٹے اور ساس دیور میں بھی کورونا کی تصدیق ہو گئی،حفیظ خود بھی کارڈیالوجی کا ملازم رہ چکا ہے جو آج کل معطل ہے،جبکہ حفیظ کی اہلیہ ارم اور رشتہ دار نصیر کارڈیالوجی میں کام کرتے ہیں جس کے باعث انکے شعبہ جات سے دیگر ملازمین کو آئی سو لیٹ کر دیا گیا ہے،ادھرحفیظ کا کہناہے کہ مطالبات کے حق میں احتجاج پر انتظامیہ نے پروفیسر کو بچانے اور کرپشن چھپانے پر انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا۔نوکری بچانے کے بار بار لاہور ودیگر جگہوں پر جانے سے طبیعیت خراب ہوئی تو پتہ چلا کہ کورونا ہوگیاہے،اب میری بیوی بیٹیاں بیٹا والدہ بھائی اور رشتہ دار کورونا کا شکار ہو چکے ہیں،وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سمیت دیگر حکام بالا سے نوٹس لینے کا مطالبہ ہے۔اور میرٹ پر انکوائری کرانے کی بھی اپیل ہے ادھر کارڈیالوجی انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات اٹھاتے ہوئے 05 آپریشن تھیٹرز میں سے 04 تھیٹرز بند کر کے سپرے کروا دیا ہے جبکہ کارڈیالوجی کالونی میں بھی سپرے کروا کر بیشتر ملازمین کو آئی سو لیٹ کر دیا گیا ہے۔

بند

مزید :

ملتان صفحہ آخر -