کورونا خالصہ دربار کی یاترا کرنیوالوں سے پھیلا،بھارتی انٹیلی جنس کا دعویٰ

  کورونا خالصہ دربار کی یاترا کرنیوالوں سے پھیلا،بھارتی انٹیلی جنس کا دعویٰ

  

نئی دہلی(آن لائن)بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک اور آئے روز نت نئے الزامات میں شدت آتی جا رہی ہے۔کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا الزام پہلے مسلمان تبلیغی جماعت والوں پر لگایا گیا اور مقامی امیر کیخلاف قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے ان پر مقدمہ درج کیا گیا اب بھارتی انٹیلی جنس اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ سکھ مذہب کا پرچار کرنے والے سیوا کاروں کے ذریعے کورونا وائرس پھیلا ہے اور یوں سکھ برادری کو وائرس پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرا یا گیاہے۔تفصیلات کے مطابق ہندو توا نظریے پر عمل پیرا ریاست بھارت نے مودی سرکار کے دور میں اقلیتوں کا جینا حرام کردیا ہے۔ پہلے تو بھارت میں مسلمانوں کی تبلیغی جماعت کو کورونا وائر س کے پھیلا کا ذمہ دار قرار دیا گیا، تاہم اب سکھ برادری پر الزام تراشی کی جا رہی ہے کہ کورونا وائرس ان کے ذریعے پھیلا ہے۔سکھ رہنما ہریپ سنگھ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ خالصہ دربار کی یاترا کرنیوالے کچھ افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی تھی لیکن پورے بھارت میں کورونا پھیلانے کا الزام سکھوں پر عائد کرنا سراسر غلط ہے، سکھ برادری کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ دربار سے واپس آنے والے 3000 ہزار میں سے 115 افراد میں کورونا کی نشاندہی کی گئی ہے۔

سکھ قوم،الزام

مزید :

صفحہ اول -