حکومت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس نہ بلا کر آئین سے انحڑاف کر رہی ہے:رضا ربانی

حکومت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس نہ بلا کر آئین سے انحڑاف کر رہی ہے:رضا ...

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر راہنما اورسابق چیئرمین سینٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہاہے کہ وفاقی حکومت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس نہ بلا کر مسلسل آئین پاکستان سے انحراف کررہی ہے، مشترکہ مفادات کونسل کے آخری اجلاس کو 125 دن گزر چکے ہیں،آئین پاکستان کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل کا ہر نوے دن میں ایک اجلاس ہونا ضروری ہے،وفاقی حکومت اور اس کے وزراء کا بنیادی مسئلہ آئین پاکستان اور رولز آف بزنس سے ناواقفیت ہے،یہ ایک غلط بات ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کرونا وائرس پر قومی پالیسی کی تشکیل میں کوئی رکاوٹ ہے۔ہفتہ کوجاری اپنے بیان میں میاں رضاربانی نے کہاکہ وفاقی حکومت سیاسی تدبر سے محروم اور فیڈریشن و صوبوں کے مابین اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔آئین کے آرٹیکل 153 اور 154 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل متفقہ پالیسیوں کو تشکیل دیتی ہے۔وفاقی حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل کو غیر فعال کیا ہوا ہے۔مشترکہ مفادات کونسل وہ فورم ہے کہ جہاں وفاقی پالیسیاں تشکیل پاتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ کرونا وائرس کے خلاف جدوجہد کے دوران وفاقی حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل کی جگہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کو دیدی ہے۔وفاقی حکومت نے کرونا وائرس کے خلاف جدوجہد کے دوران مشترکہ مفادات کونسل کی جگہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی ایک سب کمیٹی بھی بنائی ہے۔اگر آئینی اداروں کو نوٹی فکیشن کے اجرا سے بننے والوں اداروں کی جگہ لایا جائے گا تو وفاقی پالیسیوں میں کنفیوژن پیدا ہوگی۔میاں رضا ربانی نے کہاکہ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد انڈسٹریز پر ریگولیٹری کنٹرول صوبوں کو منتقل ہوگیا ہے۔انڈسٹریز آئین کی کونکرنٹ لیجسلیٹو لسٹ میں شامل نہیں تھیں لہذا 18ویں آئینی ترمیم کے بعد ان کی صوبوں کو منتقلی نہیں ہوئی۔آئین کی 18ویں ترمیم سے قبل جو انڈسٹریز فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ کے حصہ دوئم میں تھیں، وہ ابھی بھی وفاق کے ماتحت ہیں۔آئین کے تحت فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ مشترکہ مفادات کونسل کے زیرنگرانی ہوتی ہے۔یہ ملحوظ خاطر رہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد انڈسٹریز کے حوالے سے وفاق کے اختیارات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔انہوں نے کہاکہ مشترکہ مفادات کونسل سے وفاق کا گریز کھل کر سامنے آچکا ہے۔مشترکہ مفادات کونسل کا 40واں اجلاس 2018 کے نومبر میں ہوا تھا۔مشترکہ مفادات کونسل کا 41واں اجلاس تقریبا ایک سال بعد 2019 کے دسمبر میں ہوا تھا۔آئین پاکستان کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل کا ہر نوے دن میں ایک اجلاس ہونا ضروری ہے۔اس وقت میں مشترکہ مفادات کونسل کے آخری اجلاس کو 125 دن گزر چکے ہیں۔وفاقی حکومت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس نہ بلا کر مسلسل آئین پاکستان سے انحراف کررہی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -