عارضی خوشی - فلائٹ آپریشن برائے سعودی عرب

عارضی خوشی - فلائٹ آپریشن برائے سعودی عرب
عارضی خوشی - فلائٹ آپریشن برائے سعودی عرب

  

سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کو حال ہی میں وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید زلفی بخاری نے ورچوئل ٹاؤن ہال آن لائن کانفرنس کے ذریعے نوید سنائی کہ ہر ہفتے سعودی عرب کے لئے دو فلائٹس مختص کر دی گئی ہیں لیکن سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے لئے یہ خوشخبری عارضی ثابت ہوئی، وزارتِ سمندر پار پاکستانی کے جاری کردہ نئے شیڈول میں سعودی عرب کے لئے 10 مئی تک مزید کوئی فلائٹ نہیں، پاکستانیوں کا خدشہ درست ثابت ہوا کہ حکومتی اعلان محض اعلان ہی نہ رہ جائے.

گذشتہ جمعہ پی آئی اے کی دو پروازیں پانچ سو پاکستانیوں کو لے کر سعودی عرب سے پاکستان روانہ ہوگئیں، ریاض ائیرپورٹ پر سفیرِ پاکستان راجہ علی اعجاز اور جدہ ائیرپورٹ پر قونصل جنرل خالد مجید اس عمل کی نگرانی کے لئے بنفسِ نفیس موجود تھے جو کہ ان کے پیشہ وارانہ امور، احساسِ ذمہ داری کا ثبوت اور لائقِ تحسین عمل ہے.

یاد رہے کہ سعودی عرب میں 15 مارچ سے فلائٹ آپریشن معطل ہونے کے بعد پی آئی اے کی یہ پہلی دو خصوصی پروازیں تھیں جن سے پاکستانی اپنے وطن واپس جانے میں کامیاب ہوسکے اس دوران سعودی ائیر لائن نے پاکستانی عمرہ زائرین کو وطن واپس پہنچایا تھا، مذکورہ دو پروازوں میں سے ایک پرواز اسلام آباد جبکہ دوسری لاہور کے لئے روانہ ہوئی، پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ پشاور اور کراچی کے لئے فلائٹس کا اضافہ کیا جائے جبکہ موجودہ ہنگامی صورتحال میں فیصل آباد، سیالکوٹ، ملتان کے لئے لاہور کا ہوائی اڈہ صورتحال بہتر ہونے تک بہترین متبادل ہے.

15 مارچ سے وطنِ عزیز پاکستان واپس جانیوالے خواہشمندوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا کہ پی آئی اے کی دو پروازوں کی خبر سے پاکستانیوں کی جان میں جان آئی لیکن ساتھ ہی یہ تجویز بھی دی گئی کہ سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے لئے یہ تعداد ناکافی ہے لہذا دو کی بجائے چار فلائٹس کر دی جائیں تو صورتحال قدرے بہتر ہوسکتی ہے، لیکن پاکستانیوں کی یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی، وزارتِ سمندر پار پاکستانی نے 10 مئی تک کا نیا فلائٹ شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے مطابق سعودی عرب میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے لئے 10 مئی تک کسی فلائٹ کا ذکر موجود نہیں ہے.

وزارتِ سمندر پار پاکستانییز کی جانب سے جاری کردہ 10 مئی تک کے شیڈول پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر پی آئی اے کی ایک یا دو فلائٹس ہی دنیا کے مختلف ممالک سے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کا اہم فریضہ سرانجام دے رہی ہیں اور کچھ چارٹرڈ پروازوں کا بھی بندوبست کیا گیا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں صرف دو جہاز ہی رہ گئے ہیں کہ ایک دن میں ایک یا دو پروازیں کسی ملک میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لئے روانہ کی جارہی ہیں، معاونِ خصوصی زلفی بخاری کے اعلان کے مطابق سعودی عرب کے لئے ہفتہ وار دو فلائٹس مختص کی گئی تھیں کیا اس پر بھی یو ٹرن لے لیا گیا ہے.

ایک دور تھا جب دنیا میں نامساعد ہنگامی حالات خاص طور پر جنگ کی صورتحال میں ائیرپورٹ کی بندش کی صورت میں لوگ بذریعہ سڑک کسی دوسرے ملک تک سفر کر لیتے تھے لیکن کورونا وائرس سے متاثرہ اس دور میں فی الوقت ایسا ممکن نہیں ہے.

کورونا وائرس کی وجہ سے کرہء ارض پر جاری لاک ڈاؤن میں نارمل فلائٹ آپریشن معطل ہوچکا ہے جبکہ بذریعہ سڑک ایک ملک سے دوسرے ملک کے لئے سفر تقریباً ناممکن ہوچکا ہے، دنیا بھر کے ممالک اپنے اپنے شہریوں کی وطن واپسی کے لئے ایک دوسرے سے خصوصی اجازت ناموں کے تحت سپیشل فلائٹس آپریشن سرانجام دے رہے ہیں.

یہ کورونا سے جنگ کا زمانہ ہے یعنی ایمرجنسی ہے، ایک جنگی صورتحال کا سامنا ہے اور اس صورتحال کا تقاضہ ہے کہ حکومت بھی جنگی بنیادوں پر بہتر حکمتِ عملی کے تحت کام کرے اور اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے، حکومتی اربابِ اختیار کو چاہئے کہ پاکستانی تارکینِ وطن سے ٹاؤن ہال میٹنگز میں کئے جانیوالے اعلانات پر عمل کرے اور خاص طور پر سعودی عرب میں پھنسے ہوئے تارکینِ وطن کو پاکستان واپس لے جانے کے لئے اعلان کردہ ہفتہ وار دو خصوصی پروازوں کو ناصرف بحال کرے بلکہ ان کی تعداد میں بھی اضافہ کرے، پی آئی اے کے تمام فعال طیاروں کو فی الفور حرکت میں لایا جائے تاکہ محدود وقت میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں پاکستانیوں کو واپس وطنِ عزیز پہنچایا جا سکے.

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -